نریندر مودی کا دورۂ امریکہ: جلسے میں صدر ٹرمپ کی موجودگی انڈیا کی اہمیت کی دلیل

مودی ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پانچ سال قبل جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور اپنے نام کے نعروں کے درمیان امریکی سرزمین پر قدم رکھا تھا تو بہت سے لوگوں نے اسے بہادری سے تعبیر کیا۔

نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں ان کا کسی راک سٹار جیسا استقبال ایک ایسے رہنما کے لیے فتح کا جشن محسوس ہوا جسے تقریباً ایک دہائی تک امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔

آنے والے اتوار کو انڈین رہنما مودی اپنے حامیوں کے اس سے بھی بڑے مجمعے سے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں خطاب کریں گے اور ان کے ساتھ امریکہ کے صدر ٹرمپ کھڑے ہوں گے۔

اس منظر کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے کشمیر پر مودی کے متنازع اقدام پر بین الاقوامی سطح پر ان کے خلاف ہونے والی تنقید میں کمی آئے گی۔

اس تقریب کو ’ہاؤڈی مودی!‘ کا نہایت موزوں نام دیا گیا ہے کیونکہ این آر جی سٹیڈیم میں ہونے والی اس تقریب میں 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کا اجتماع متوقع ہے جو کہ انڈیا کے باہر مودی کے لیے سب سے بڑا مجمع ہوگا۔

جہاں اس نوعیت کے اس پہلے مشترکہ پروگرام کو مودی کے رابطے کی جیت کے طور پر سراہا جا رہا ہے وہیں یہ امریکہ اور انڈیا کے بڑھتے ہوئے رشتوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اوبامہ انتظامیہ میں سابق نائب وزیر خارجہ نیشا بسوال کہتی ہیں کہ ’میرے خیال سے ایک طرح سے یہ ناگزیر تھا اور یہ امریکہ میں آباد انڈین برادری کی قوت کا مظہر ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا ٹیکساس جانے کا فیصلہ اچھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ کی وزیراعظم مودی کو امریکہ کے دورے کی دعوت

امریکہ بہادر کا آسرا۔۔۔

’انڈیا اتنا کمزور نہیں کہ امریکہ کی بات مان لے‘

اب امریکہ انڈیا بزنس کونسل کی سربراہ کے طور پر کام کرنے والی بسوال نے مزید کہا کہ ’یہ رشتہ اب افراد اور سیاست سے بالاتر ہوگیا ہے۔‘

اس تقریب کے منتظمین ٹیکساس انڈیا فورم نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی رہنما سٹینی ہوئیر کے ساتھ نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں اور دیگر متعدد اراکینِ کانگریس، منتخب امریکی حکام اور گورنرز کو مدعو کرکے اس تقریب کے دو طرفہ پہلو پر زور دیا ہے۔

اس جلسے کے لیے ہیوسٹن کا انتخاب بھی حیران کن نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لال قلعے سے وزیر اعظم مودی کا خطاب

انڈیا ہیوسٹن کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب سے امریکی تیل اور گیس کی فروخت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ انڈیا کے لیے یہ امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کا بھی موقع ہے جو کہ صدر ٹرمپ کے لیے اہم مسئلہ رہا ہے۔

اس بات کے بھی قوی اشارے ہیں کہ دونوں ممالک گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تجارتی اختلافات کو کم کرنے کے لیے بھی کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔

واشنگٹن کے بروکنگز انسٹیٹیوٹ میں انڈیا پروجیکٹ کی ڈائریکٹر تنوی مدن کا کہنا ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو جیت کی باتیں ہوں گی اور صدر ٹرمپ اس کا سہرا اپنے سر لیں گے۔‘

خود جم غفیر کے مداح صدر ٹرمپ کے لیے یہ بڑی تقریب آنے والے صدارتی انتخابات کے لیے انڈین نژاد امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: ’ان کے لیے بڑا مجمع یکجا ہو رہا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ مجمع مزید زیادہ ہو گا کیونکہ انھوں نے ابھی اعلان کیا ہے، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں جاؤں گا تو میں جاؤں گا۔‘

امریکہ میں انڈین نژاد امریکیوں کی تعداد 32 لاکھ ہے جوکہ امریکی آبادی کا ایک فیصد ہے اور یہ امریکہ کی امیر ترین برادریوں میں بھی شامل ہے۔

ایشین امریکن لیگل ڈیفنس اینڈ ایجوکیشن فنڈ کے مطابق ان میں سے بیشتر کا رجحان ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب رہا ہے اور انھوں نے سنہ 2016 کے انتخابات میں ہلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا۔

مودی کو اپنے قوم پرستانہ نظریے اور انڈیا کی عظمت کو بحال کرنے کے وعدے کے سبب یہاں بہت حمایت حاصل ہے۔

تنوی مدن کہتی ہیں: ’مجھے يقین ہے کہ ری پبلیکن اس سے یہ امید کر رہے ہوں گے کہ انھیں اس طرح بعض ووٹرز مل جائيں گے۔‘

بھلے ہی کئی تجزیہ نگار اسے دونوں رہنماؤں کے لیے جیت ہی جیت کا موقع قرار دے رہے ہیں لیکن ہر کوئی اس کے متعلق بہت پرجوش نہیں ہے۔

یہ دورہ مودی حکومت کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقے کشمیر کی جزوی خودمختاری کو ختم کرنے اور اس خطے میں مواصلاتی پابندیوں کے نفاذ کے کچھ ہی ہفتوں بعد ہو رہا ہے۔

اس اقدام سے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا کیونکہ وہ بھی اس خطے پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ مسلم اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔

انڈین امریکی رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال سمیت کئی اراکینِ کانگریس نے انڈیا کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی و سماجی حقوق کے کارکنان کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مودی سے ہاتھ ملانے کو ان کی پالیسیوں کی حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

انسانی حقوق کے وکیل اور انڈین برادری کے رکن ارجن سیٹھی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک غلطی ہے۔ ٹرمپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ’ہاؤڈی مودی‘ یعنی خوش آمدید مودی کے بجائے ’آڈیوس مودی‘ یعنی الوداع مودی کہنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں چھ ہفتوں سے لاک ڈاؤن ہے

رٹگرز یونیورسٹی کی پروفیسر آڈری ٹرشکی نے ٹویٹ کیا: ’مجھے پتہ نہیں کہ مودی کا ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ شرمناک ہوگا یا ٹرمپ کا مودی کے ساتھ کھڑا ہونا۔ دونوں ممالک کے لیے میری تعزیت۔‘

دوسری جانب ہزاروں مظاہرین جن میں زیادہ تر مسلمان ہوں گے وہ اس مقام پر انڈین وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے یکجا ہونے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ہیوسٹن کے سٹیج پر جلوہ افروز ہونے کے چند روز بعد ہی مودی گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے اپنی ’کلین انڈیا‘ مہم کے لیے اعزاز سے نوازے جائیں گے۔ اس مہم کے تحت انڈیا میں لاکھوں ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔

مظاہرین اس ایوارڈ کا کشمیر میں مودی کے اقدامات کی جانب توجہ مبذول کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے ایک لاکھ دستخط کے ساتھ گیٹس فاؤنڈیشن کے سیاٹل میں واقع ہیڈ کوارٹر میں ایک پٹیشن داخل کی ہے کہ اس ایوراڈ کو منسوخ کر دیا جائے۔

مسٹر سیٹھی نے انڈین سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیر میں تشدد کے الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ ایک کمرے میں ٹوائلٹ بناتے ہیں اور دوسرے کمرے میں ایک شخص پر تشدد کرتے ہیں تو آپ انسانی حقوق کے اعزاز کے لائق نہیں ہیں۔‘

گیٹس فاؤنڈیشن نے یہ ایوارڈ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے اور اس کے بانی بل گیٹس نے ایک انٹرویو میں واشنگٹن پوسٹ کو کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ صفائی کے لیے اقدامات کرنے والے سربراہِ حکومت (کی کوششوں) کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں