ایران جوہری معاہدہ: یورپی لیڈروں کے بیان پر تہران کا ردعمل: ’جوہری معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو کوئی نئی ڈیل نہیں ہوگی‘

French President Emmanuel Macron (L) meets with German Chancellor Angela Merkel and British Prime Minister Boris Johnson (R) at the UN headquarters on Sept 23, 2019, in New York تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے لیے یہ واضح ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران پر ہے‘

ایران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے لیڈروں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک حالیے بیان کو رد کرتے ہوئے ان ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’بغیر سوچے سمجھے امریکہ کے بےبنیاد دعووں کو دہرا رہے ہیں۔‘

یوروپی ممالک کے لیڈروں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں عائد کی جا سکتی۔ ان حملوں سے سعودی عرب کی تیل کی نصف پیداوار متاثر ہوئی تھی۔

تاہم تینوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی حمایت جاری رکھیں گے۔

14 ستمبر کو ہونے والے حملے میں 18 ڈرون اور سات کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟

ایران سعودی عرب پر حملہ کرنے کا خطرہ کیوں مول لے گا؟

’ایران پر کسی بھی حملے کا مطلب کھلی جنگ ہو گا‘

یمن میں ایران کے حامی حوثی باغیوں نے سعودی تیل تنصیبات پرحملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ تہران اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کر چکا ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ دونوں حملوں کا ذمہ داری ایران کو ٹھہراتے ہیں اور اسی لیے امریکہ نے جزیرہ نما عرب میں افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ خریص میں چار میزائل داغے گئے تھے

یوروپی ممالک کے لیڈروں نے کیا کہا؟

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدر ایمانویل میخوان اور جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک اجتماعی بیان جاری کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ: ’ہمارے لیے یہ بات واضح ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران پر ہے۔ اس معاملے میں کوئی اور صورت نظر نہیں آ رہی۔ ہم مزید جاننے کے لیے کی جانے والی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ: ’وقت آ گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے لانگ ٹرم فریم ورک، اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کو تسلیم کرے۔‘

جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما دور کے ایران جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھتی جا رہی ہے۔

پیر کو دیے گئے ایک اوربیان میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کو یہ معاہدہ خود طے کرنا چاہیے۔

انھوں نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’اگر یہ ایک گھاٹے کا سودا تھا، اور میں یہ تسلیم کرنے کو تیار ہوں کہ اس میں کئی خامیاں تھیں، تو پھر کیوں نہ ہم ایک بہتر معاہدہ کر لیں؟‘

’میرے خیال میں صرف ایک ہی شخص ہیں جو نہ صرف ایک بہتر معاہدہ کر سکتے ہیں بلکہ ایران جیسے سخت حریف سے نمٹنا بھی جانتے ہیں اور وہ امریکی صدر ہیں۔ سچ بتاؤں تو میرے خیال میں ٹرمپ کو ہی یہ ڈیل کرنے چاہیے۔‘

البتہ اس بیان کے بعد برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے وضاحت کی کہ بورس جانسن ایران کے ساتھ طے کردہ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایران کا کیا موقف ہے؟

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کسی نئے معاہدے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تینوں یورپی ممالک امریکہ کی اجازت کے بغیر ’مفلوج نظر آتے ہیں۔‘

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا: ’اس کمی کو پُر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ امریکہ کے مضحکہ خیز دعووں کو دہرانے کے بجائے آزادانہ سوچ کے تحت ایک نئی راہ کا تعین کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب تک موجودہ معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوتا تب تک کسی نئی ڈیل پر بات نہیں ہوگی۔

تہران نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی عمل میں آئی تو ایران ’کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘

یمن کے حوثی باغیوں نے کئی بار سعودی عرب پر راکٹ، میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کر کے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ گروہ ملک کی سعودی حمایت یافتہ مخلوت حکومت اور اس کے صدر کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اس جنگ میں اب تک تقریباً 10000 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی لاکھوں افراد بھوکے مر رہے ہیں۔

اسی بارے میں