سیکس ایجوکیشن: خواتین مخصوص ایام پر کھل کر بات کیوں کر رہی ہیں؟

ماہواری تصویر کے کاپی رائٹ The Pink Protest/Jess Schamroth/Affi Parvizi-Wayne

خواتین سوشل میڈیا پر کھل کھلا کر ایام مخصوصہ سے متعلق اپنے تجربات اور کہانیاں بیان کر رہی ہیں۔

یہ کہانی چاہے پہلی ’ڈیٹ‘ پر خوف کے باعث کیے جانے والے اعترافات پر مبنی ہو یا اپنی کسی ساتھی کو پہلی مرتبہ ’ٹیمپون‘ رکھوانے میں مدد کرنے سے متعلق سب کچھ بیان کیا جا رہا ہے۔

ٹیمپون ایک طرح کا پیڈ ہے جو ماہواری میں آنے والے خون کو جذب کرتا ہے۔

یہ کہانیاں اور تجربات ’فری پیریڈ سٹوریز‘ نامی مہم کے تحت بیان کی جا رہی ہیں اور اس مہم کا مقصد ماہواری کے بارے میں منفی معاشرتی رویوں کا تدارک کرنا ہے۔

لوگ کیا شیئر کر رہے ہیں اور اس کی کیا اہمیت ہے؟ یہ جاننا یقیناً ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سوشلستان: ’ماہواری بیماری نہیں ہے‘

’پہلی بار پیریڈز ہوئے تو سمجھی بلڈ کینسر ہو گیا‘

پاکستان: ماہواری پر اخراجات ایشیا میں سب سے زیادہ

کچھ لڑکیوں کے لیے یہ ان کے دوستوں سے ایسی ملاقاتوں کے قصے ہیں جن میں انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور یہی کہانی ایما بارنیٹ کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے لکھا کہ ’جب آپ اپنی کسی دوست کو پہلی مرتبہ ’ٹیمپون‘ رکھنے کے لیے بیت الخلا جانے کا زبانی مشورہ دیتے ہیں اور جب وہ اس پریشانی میں باہر آتی ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ ایک نظر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ زیادہ اوپر چڑھا لیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب نتاشا ڈیوؤن ہیں جو اپنی ایک ’ڈیٹ‘ پر ایک غیر متوقع واقعہ ہونے پر گھبرا گئی تھیں۔

اپنی کہانی شیئر کرتے ہوئے انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’ایک مرتبہ ڈیٹ پر میرا بیگ زمین پر گر گیا اور سات ٹیمپون زمین پر آن پڑے۔ جب میرے ساتھی نے جھک کر میری چیزیں سمیٹنے میں میری مدد کرنے کی کوشش کی تو میں پریشان ہو گئی اور چلائی کہ یہ میرے نہیں ہیں۔ آپ کی کہانی کیا ہے۔‘

لیکن ان مزاحیہ کہانیوں کے ساتھ ساتھ کچھ کہانیوں کے ذریعے ایسے واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جب صورتحال نے سنگین نوعیت اختیار کی۔

ایلس نے اپنی دوست کے بارے میں ٹوئٹ جن کو رحم کے اندر سوزش کی شکایت ہوئی اور اس کے نتیجے میں دوسری خواتین نے اس نوعیت کی اپنے تجربات بیان کرنا شروع کر دیے۔

کیٹی نے لکھا کہ پہلی مرتبہ مجھے پیریڈز 10 برس کی عمر میں ہوئے اور آخری مرتبہ 37 سال کی عمر میں۔ کیٹی کے مطابق ان کے پیریڈز میں شدت بہت زیادہ ہوتی تھی اور اس کے باعث ان کا انڈر ویئر اور سکول کے کپڑوں پر خون لگا ہوتا تھا۔

ان کے جواب میں ایلس نے لکھا کہ ’میں بارہ سال کی تھی اور سینیما گھر میں بیٹھی تھی اور یہ نہیں جانتی تھی کہ (میرے ساتھ) کیا ہو رہا ہے۔ بے تحاشہ خون ضائع ہونے، بار بار غشی طاری ہونے اور نو سال کے انتظار کے بعد مجھے رحم میں سوزش کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ پیریڈز کے باعث ہائی سکول کے پانچ برسوں میں میری حاضری 60 فیصد سے بھی کم تھی۔‘

ہمیں تنہا جھیلنا پڑتا ہے

یہ پوری مہم ’ماہواری اور غربت‘ کے عنوان کے تحت نوعمر ایمیکا جارج نے شروع کی تھی۔ رواں برس انھوں نے ماہواری کے دوران استعمال ہونے والی مصنوعات کی پرائمری اور سیکنڈری سکولوں تک مفت فراہمی کی مہم بھی کامیابی سے چلائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کام اس لیے شروع کیا کہ اس کامیابی کے بعد بھی ماہواری کے موضوع پر گفتگو جاری رہنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو ان سے کہا جاتا تھا کہ اس بارے میں سرگوشی میں اور جتنا مکمن ہو کم سے کم گفتگو کریں، اپنے دوستوں سے بھی اور دوسروں سے بھی۔ ہمیں اس کا اکیلے ہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

’ہمیں اس بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی فحش بات ہے اور ماہواری کوئی ایسی بات ہے جس کا کھلے عام تذکرہ نہ کیا جا سکے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ماہواری کے بارے میں منفی رویوں سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ ماضی کی اسیر ہوں۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ ماہواری اور غربت پر لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو لوگ بہانے بنا کر کترا جاتے ہیں۔

ہمیں کم عمری سے حقائق شیئر کرنے کی ضرورت ہے

سکاٹ لینڈ میں ’ہائے گرل‘ کے نام سے ماہواری اور غربت کے مسئلے پر مہم چلانے والی سیلا ہڈسن کے نزدیک اپنے تجربات پر دوسروں سے بات کرنے سے ماہواری کے بارے میں منفی رویوں اور اس سے جڑے دھبے دھونے میں مدد ملے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Celia Hodson

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک لڑکی نے ہمیں بتایا کہ اس کے بوائے فرینڈ نے اس سے کہا کہ کیا وہ اس (بوائے فرینڈ) کے گھر پہنچنے تک اپنے پیریڈز کو روک نہیں سکتیں۔‘

ہائے گرل نامی تنظیم کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 48 فیصد خواتین اس بارے میں بات کرنے سے شرماتی ہیں۔ ہائے گرل جو ماہواری اور غربت کے عنوان سے تحریک چلا رہی ہے اس نے ماہورای کے دوران ضروری مصنوعات پر ’ایک خریدو اور ایک عطیہ کرو‘ کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

ان کے خیال میں تبدیلی تعلیم کے ذریعے آ سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کم عمری سے ہی اس بارے میں گفتگو اور حقائق سے ایک دوسرے کو آگاہ کر کے منفی معاشرتی رویوں کو توڑا جا سکتا ہے۔‘

مزاح سے مدد کیسے مل سکتی ہے؟

گیبی ایڈلن جو ماہورای اور غربت نامی منصوبے کی بانی ہیں ان کے خیال میں اس بارے میں اگر اس موضوع پر ہنسی مذاق کیا جائے تو لوگوں کو اس حوالے سے بات کرنے میں پریشانی نہیں ہو گی اور ایک صحت مندانہ گفتگو کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ٹیمپون یا پیڈز خریدنے کی استطاعت نہ رکھنا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس پر بات نہ ہونا زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر اس بارے میں بات کرنے پر ممانعت ختم ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ بغیر کسی اعتراض کے اخبارات میں اس بارے میں لکھ سکیں، لیکن اگر یہ دھبہ رہے گا تو لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوتی رہیں گی۔

کیا سینٹری کا لفظ گندا لگتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Chella Quint

شیلا کوئنٹ جو ماہواری کے حوالے سے آگاہی مہم چلا رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماہواری کے بارے میں بات کرنے سے لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تجربات سے آگاہ ہو سکیں اور اپنا کوئی ایسا واقعہ بیان کر کے جس میں ’لیک ہونے‘ سے سخت شرمندگی اٹھانی پڑی ہو تو اس سے آپ کے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں زبان کا استعمال بہت اہم ہے اور اس سے منفی رویے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انھوں نے اس بارے میں ایک پورا ہدایت نامہ مرتب کیا ہے تاکہ اداروں اور لوگوں کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ سینٹری کے لفظ سے لگتا ہے کہ جیسے ہم گندے ہیں اور کوئی چیز میسر نہ ہونے سے غیر محفوظ ہیں۔

ماہواری نجی معاملہ ہے مگر خفیہ نہیں

افیفی پروزی-وین ماہواری کی مصنوعات بنانے والی کمپنی فریڈا کی بانی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اُن بعض اصلاحات سے اتفاق نہیں کرتیں جو اس ضمن میں استعمال کی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Affi Parvizi-Wayne

ماہواری دوسرے دیگر جمسانی نظاموں کی طرح نجی معاملہ تو ہو سکتا ہے لیکن خفیہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی کمپنی میں سرمایہ کاروں کو ماہواری کے بارے میں بنیادی نوعیت کی معلومات بھی حاصل نہیں تھیں اور وہ اس قسم کے سوالات کرتے رہے کہ انھوں نے اپنے کاروبار میں سرکاری چھٹیوں اور ہفتہ وار تعطیلات کو کیوں شامل کیا ہے۔

’مجھے یہ بتانا پڑا کہ ماہواری کا چھٹیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ماہواری میں استعمال ہونے والی مصنوعات اتنی ہی ضروری ہیں جیسے ٹوائلٹ پیپر۔

انھوں نے کہا کہ اصل تبدیلی جب آئے گی جب ہر باتھ روم میں ماہواری سے متعلقہ اشیا دستیاب ہوں گی۔

اسی بارے میں