عراق: ہلاکتیں 100 سے زیادہ، گرین زون بند کر دیا گیا

عراق، بغداد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اتوار کے روز صدر سٹی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگائی اور پولیس پر آتش گیر مادہ بھی پھینکا

عراق کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔

عراقی حکام نے بغداد کے اس گرین زون کو ایک مرتبہ پھر عوام کے لیے بند کر دیا ہے جہاں سفارتخانے اور عالمی اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔ یہ علاقہ رواں برس جون میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

اتوار کے روز صدر سٹی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگائی اور پولیس پر آتش گیر مادہ بھی پھینکا۔

دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیوں اور اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، بغداد میں کرفیو

عراقی شہر بصرہ میں مظاہرے، ایرانی قونصل خانہ نذرآتش

’دو تو سامنے قتل ہوئیں، تیسری بہن یقیناً ساتھ والے گڑھے میں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’انسانی جانوں کا بے معنی ضیاع‘

اقوام متحدہ نے عراق میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کو ’انسانی جانوں کا بے معنی ضیاع‘ قرار دیتے ہوئے ان کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے عراق کی سربراہ جینین ہینس پلایسچارٹ نے کہا ہے کہ ’ان پانچ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔: اس کو رکنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا جو ان ہلاکتوں کے زمہ دار ہیں انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیوں اور اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے

تاہم سکیورٹی اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے سبب ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ بغداد میں 'نامعلوم سنائپرز' نے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا۔

عراق کے وزیرِ اعظم عادل عبدالمہدی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مظاہرین کے 'جائز مطالبات' سن لیے گئے ہیں اور انھوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔

مگر وزیرِ اعظم کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سینکڑوں عراقی افراد اتوار کو بھی سڑکوں پر موجود رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غیر معینہ مدت کے لیے نافذ کرفیو اور انٹرنیٹ بندشیں بھی مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے میں ناکام رہیں۔

عادل عبدالمہدی کی کمزور حکومت کے اقتدار میں آنے کے تقریباً ایک سال کے اندر ان مظاہروں کو ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بغداد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں منگل کو اچانک بیروزگاری کی بلند شرح، بنیادی سہولیات کی ناگفتہ بہ صورت حال اور شدید بدعنوانی کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

تازہ ترین صورت حال

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ بغداد میں کرفیو نافذ ہے جس میں لوگوں کو شہر کے ہوائی اڈے پر جانے کی اجازت ہے، ایمبولینسیں سفر کر سکتی ہیں اور مذہبی زائرین کو سفر کی اجازت ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد میں اتوار کو سکیورٹی فورسز نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر لائیو راؤنڈ فائر کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مگر وزیرِ اعظم کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سینکڑوں عراقی افراد جمعے کو سڑکوں پر موجود رہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سیکورٹی فورسز کو بغداد کے تحریر سکوائر کی جانب جاتے مظاہرین پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔

وہاں موجود روئٹرز کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ کئی لوگوں گولیوں کا نشانہ بنے جن میں سے کچھ کو سر میں اور کچھ کو پیٹ میں گولیاں لگیں۔

یہ احتجاج عبدالمہدی کی حکومت کے سال مکمل ہونے کے موقع پر آن لائن دی گئی کال کے جواب میں کیا گیا ہے اور بظاہر مظاہرین میں کوئی منظم قیادت نہیں ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکہ نے ان مظاہروں میں ہونے والے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عراق کے وزیراعظم عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ غیر معینہ مدت کے لیے لگائے گئے کرفیو کا نفاذ امن برقرار رکھنے اور مظاہرین کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔

نجی ویب سائٹ الغاد پریس نے عراق میں نظام مواصلات کے معیار کی پیمائش کرنے والے ادارے کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز کی گردش کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

کردش شفق نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں میں 650 زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں پولیس نے اس وقت ہوائی فائرنگ شروع کر دی جب مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان میں شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ احتجاج کی آڑ میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کردش شفق نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں میں 650 زخمی بھی ہوئے ہیں

وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں نے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں تاہم 40 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 200 افراد زخمی ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں عراق کا 12وں نمبر ہے۔

عراق کی معیشت

عراق میں دنیا کے چھوٹے بڑے تیل کے ذخائر ہیں مگر اس کی چار کروڑ کی آبادی میں سے 22 فیصد سے زیادہ لوگ ورلڈ بینک کے مطابق دو ڈالر یومیہ سے کم پر گزارا کرتے ہیں۔

ہر چھ میں سے کم از کم ایک گھر کو کسی نہ کسی نوعیت کی خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

ملک میں بے روزگاری کی شرح تقریباً آٹھ فیصد ہے مگر نوجوانوں میں یہ شرح دوگنی ہو جاتی ہے۔ ملک کی 17 فیصد قابل ملازمت آبادی کو مکمل طور پر کام نہیں ملتا۔

اسی بارے میں