عراق میں احتجاج: عوام آخر اتنے مشتعل کیوں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیرمعینہ مدت کے کرفیو کے باوجود عراق میں ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں

عراق میں مظاہرے اور احتجاج کوئی نئی چیز نہیں اور گذشتہ چند برسوں میں حکومت اور عوام دونوں اس کے عادی ہو چکے ہیں لیکن احتجاج کی حالیہ لہر اب تک کم از کم 100 جانیں لے چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور یہ احتجاج ایک خطرناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

عراقی مظاہرین اس مرتبہ صرف حکومت کے خاتمے یا کسی سیاسی رہنما کے زوال کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس سیاسی نظام کو ہی لپیٹ دیا جائے جو 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی مہم کے بعد سے موجود ہیں اور جس کے بارے میں عوام کا خیال ہے کہ وہ ناکام رہا ہے۔

مظاہرین حکومتی تقرریوں کے طریقۂ کار یعنی میرٹ کی بجائے فرقے یا نسل کی بنیاد پر تقرریوں سے خوش نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے شیعہ، کرد اور سنّی رہنما عوامی رقم میں خردبرد کرتے ہیں، اپنی اور اپنے حواریوں کی جیبیں بھرتے ہیں جبکہ عام شہری کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

عراق: ہلاکتیں 100 سے زیادہ، گرین زون بند کر دیا گیا

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، بغداد میں کرفیو

گذشتہ برس برسراقتدار آنے کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی ٹیکنوکریٹ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانی کا خاتمہ کرے گی اور امیر اور غریب کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ایک برس بعد یہ حکومت ملک کے سیاسی طبقے کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے اور وہ اس سلسلے میں تیار بھی دکھائی نہیں دیتی۔

اس کی بجائے اس حکومت نے انھی امرا کے کام آنا شروع کر دیا ہے۔ آخر کو یہی رہنما اسے اقتدار میں لائے ہیں اور کسی سیاسی جماعت کی عدم موجودگی میں وزیراعظم جنھیں ملک کے دو فریق شیعہ بلاکس نے اقتدار دلوایا ہے، اس سیاسی کلاس کے ہاتھوں ماضی کے کسی بھی وزیراعظم کے مقابلے میں زیادہ مجبور ہیں۔

تبدیلی کی تحریک

پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ماحول خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

خود کو نظام کا محافظ سمجھنے والی کچھ سیاسی شخصیات ان مظاہروں کو نظام کی بقا کے لیے خطرہ سمجھ رہی ہیں۔ ماضی کے برعکس بغداد میں ان رہنماؤں نے تشدد کا راستہ اپنا لیا ہے اور مظاہرین کو نشانہ بنانے اور اپنے نظام کے تحفظ کے لیے سنائپرز اور کرائے کے قاتلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعظم عادل عبدالمہدی وہ کام نہیں کر پائے ہیں جن کا انھوں نے برسراقتدار آنے کے بعد وعدہ کیا تھا

گذشتہ برس بصرہ میں مظاہروں کے دوران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جب مظاہرین پر فائرنگ کی تھی تو یہ احتجاج جلد ہی فرو ہو گیا تھا کیونکہ مظاہرین اپنی جان بچانے کو منتشر ہو گئے تھے۔ رواں برس بغداد میں نظام کے محافظ 2018 میں بصرہ کا تجربہ دہرا رہے ہیں۔

ماضی میں یہ مظاہرے عموماً موسمِ گرما میں ہوتے تھے جب سخت موسم میں حکومت بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی ناکام رہتی تھی۔

تاہم رواں برس، شدید بارشوں اور کم گرمی کی وجہ سے ان بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن نظام میں اصلاحات کا دور دور تک کچھ پتا نہیں۔

گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مہم کی قیادت سے شہرت پانے والے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی کی تنزلی نے بہت سے عراقیوں کو ناراض کر دیا۔

ان کے خیال میں اس قومی ہیرو کی نوکری جانے کی وجہ بدعنوانی کے خلاف ان کی کوششیں اور ان کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی میں موجود سیاست بنی۔ ان عراقیوں کے لیے اگر دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والا قومی ہیرو اگر بدعنوانی اور سیاسی اشرافیہ سے نہیں لڑ سکتا تو پھر کس کی مجال ہے کہ ایسا کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرین حکومتی تقرریوں کے طریقۂ کار یعنی میرٹ کی بجائے فرقے یا نسل کی بنیاد پر تقرریوں سے خوش نہیں

عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے 16 برس بعد عراقی اور خصوصاً نوجوان نسل اصلاحات کے نام پر ہونے والے اقدامات اور ایسے رہنماؤں سے تنگ آ چکے ہیں جو یہ تو جانتے ہیں کہ تقریر میں کہنا کیا ہے مگر نظام کی اصلاح میں ناکام رہے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود اس مظاہرین کے پاس قیادت کے لیے کوئی رہنما اور منظم کرنے کےلیے کوئی تنظیم نہیں۔ بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے کہ یہ مظاہرین نظام میں کوئی تبدیلی یا انقلاب لا سکیں۔ اس کے برعکس نظام کے محافظین کی جانب سے اظہارِ رائے کی آزادی اور دیگر معاملات میں تشدد، دباؤ اور استحصال میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

بغداد میں اس اختتامِ ہفتہ پر ذرائع ابلاغ کے اداروں کے دفاتر پر حملے اور انٹرنیٹ کی بندش اس نئے ماحول کی جھلکیاں ہیں۔

چنانچہ جہاں مظاہرین اور یہ حالیہ تشدد تبدیلی کی ایک لہر کا اشارہ کرتے ہیں وہیں عراق مزید مطلق العنانیت کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

٭ ریناد منصور چیتھم ہاؤس میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام سے وابستہ محقق ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں