شام میں ترک آپریشن کے بعد دسیوں ہزار افراد بےگھر

تلہ آباد تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کی افواج کی جانب سے کردوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حملوں میں تیزی آنے کے بعد شمالی شام میں دسیوں ہزار افراد نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے ہیں۔

ترک فوج نے سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کو گھیرے میں لے لیا ہے اور امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ یہ انخلا لاکھوں کی تعداد تک پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے ترکی کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے اور ترکی پر زور دیا جا رہا کہ وہ یہ حملے بند کرے۔

ترکی نے کرد ملیشیا سے پاک 'محفوظ زون' بنانے کی اپنی کارروائی کا دفاع کیا ہے جہاں شامی مہاجرین بھی رہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

ترک آپریشن: کیا دولتِ اسلامیہ پھر سر اٹھا سکتی ہے؟

ترکی بمقابلہ شامی کرد: ماضی، حال اور مستقبل

ترکی کی شام میں زمینی کارروائی کا آغاز

ترکی کرد ملیشیا کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو 'دہشت گرد' قرار دیتا ہے جو اس کے بقول ترکی مخالف شورش کی حمایت کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایس ڈی ایف دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کلیدی حریف رہی ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ میں صدر ٹرمپ کے رپبلکن اتحادیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا نے ترکی کو موثر طور پر حملے کے لیے ’گرین لائٹ‘ دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کارروائی کس طرح لوگوں کو متاثر کر رہی ہے؟

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 64,000 افراد پہلے ہی اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی یہی تعداد بتائی ہے۔

آئی آر سی کی مستی بس ویل کا کہنا ہے ' اگر کارروائی جاری رہی تو یہ ممکن ہے کہ 300,000 افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔'

ایک دوسری امدادی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تعداد 450,000 بھی ہو سکتی ہے۔

بس ویل کا کہنا ہے آئی آر سی کی ٹیمیں گراؤنڈ میں موجود ہیں، اگرچہ دیگر اطلاعات کے مطابق کچھ امدادی گروپ ترکی کی سرحد سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

راس العین کے ایک رہائشی سیوناز نے جمعرات کی صبح بی بی سی کو بتایا 'میں اپنی بیمار والدہ کے ساتھ شہر سے باہر ہوں۔ میرا بھائی اندر ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ میرا کزن مر گیا ہو۔ یہاں کسی کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔'

ترکی کے فضائی حملوں کے بعد کرد اکثریتی شہر قمیشلی سے فرار ہونے والے رضان محمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'ہم دیہی علاقوں کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں دوبارہ بمباری اور شدید جھڑپوں سے خوف آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ ترک فوج نے شام میں اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ترکی اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاہم کردوں کا کہنا ہے کہ حملے میں شہری علاقوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ادھر ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ توپخانے اور فضائی کارروائی کے بعد اب زمینی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

کرد پیشمرگاہ نے ترک فوج کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کارروائی کے آغاز کے بعد سے ان کی ترک فوج سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

جمعرات کو امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوجی کارروائی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ترکی کی جانب سے کرد پیشمرگہ فورسز پر شام میں کیے جانے والے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک 'غلط اقدام' قرار دیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی کو سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مائیک پومپیو نے کیا کہا؟

امریکی ٹی وی چینل پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں۔

’ترکی نے کردوں کو نشانہ بنایا تو معاشی طور پر تباہ کردیں گے‘

ترکی کی شامی مہاجرین کے یورپ داخلے پر تنبیہ

شامی مہاجرین پر ترکی میں عرصہ حیات تنگ

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی، صریحاً غلط ہیں۔

’ہم نے ترکی کو کوئی گرین لائٹ (اجازت) نہیں دی۔‘

شام میں کیا ہو رہا ہے؟

ترکی کی جانب سے کارروائی کے آغاز کے بعد بدھ کو ترک طیاروں کی جانب سے شام کے کئی دیہات اور قصبوں پر بمباری اور گولہ باری کی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کرد افواج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

ترک وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ترک فوج اور اس کے شامی اتحادی دریائے فرات کے مشرق کی جانب شامی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ترکوں کے حامی ایک گروہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا حملے کا آغاز تل ابیض نامی علاقے سے ہوا جو کرد پیشمرگاہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

ترک فوج کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ عسکری کارروائی کے دوران ’دہشت گردوں‘ کے 181 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ترک گولہ باری سے کوبانے اور قامشلی کے دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

آپریشن کے آغاز سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترک صدر نے کہا تھا کہ اس مشن کا مقصد ’جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کی راہداریوں کو بننے سے روکنا اور علاقے میں امن لانا ہے۔

انھوں نے شام کی علاقائی جغرافیائی سالمیت کو محفوظ کرنے اور اس کے مکینوں کو دہشت گردوں سے آزاد کروانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ادھر شامی کردوں کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ترکی سے متصل سرحد کا رخ کریں اور مزاحمت کے تاریخی لمحے کا حصہ بنیں۔‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ شام میں تین برس میں ترکی کے تیسرے فوجی آپریشن میں ابتدائی طور پر تل عبید اور راس العین کے درمیانی 100 کلومیٹر علاقے پر توجہ مرکوز رہے گی جہاں زیادہ آبادی موجود نہیں۔

ترکی نے پہلی مرتبہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنہ 2016 میں اور دوسری مرتبہ کرد پیشمرگاہ کے خلاف سنہ 2018 میں کارروائی کی تھی تاکہ شامی باغی شمالی شام میں علاقے پر قبضہ کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عالمی ردعمل کیا ہے؟

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ’ایک نام نہاد محفوظ علاقہ‘ پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے عالمی معیار پر پورا اترے۔ بیلجیئم، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور برطانیہ نے اس سلسلے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی دی ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 ارکان کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہو گا جبکہ عرب لیگ نے بھی 12 اکتوبر کو قاہرہ میں اس معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہانس سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں لیکن وہ پرامید ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی اقدام متناسب اور نپا تلا ہو۔

ترکی وائی پی جی کو دہشتگرد کیوں سمجھتا ہے

ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی کی ایک شاخ سمجھتا ہے جس نے پچھلی تین دہائیوں سے ترکی میں کردش خود مختاری کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے۔

تاہم وائی پی جی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ماضی میں ترکی نے امریکا کو وائی پی جی کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں