شام میں ترکی کی فوجی کارروائی: ’ہماری مدد کرنا امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے‘

شام راس العین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی شام میں ترکی کے حملوں کا سامنا کرنے والے کردوں نے کہا ہے کہ ان کی مدد کرنا امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے امریکہ پر انھیں سلامتی فراہم کرنے کے وعدے کے باوجود انھیں تنہا چھوڑ دینے کا الزام لگایا ہے۔

کردوں نے ایک بیان میں امریکہ سے اس علاقے کی فضائی حدود کو ترک طیاروں کے لیے بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ادھر فرانس نے ترکی کی فوجی کارروائی کے خلاف اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ ہتھیاروں کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔

فرانس کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے تمام ہتھیاروں پر فوری طور پر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

’کردوں کا پہاڑوں کے سوا کوئی دوست نہیں‘

ترکی کے شام میں داخلے کے بعد دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو گئے

شام میں ترکی کی اتحادی ’نیشنل آرمی‘ کون ہے؟

اس سے قبل جرمنی نے کہا تھا کہ وہ ترکی کو اسلحہ کی فروخت میں کمی کر رہا ہے۔

دوسری جانب شام کے سرحدی علاقے راس العین کے آس پاس ترک افواج اور کردوں کی زیرقیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان زبردست لڑائی جاری ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ راس العین پر قبضہ کر چکا ہے لیکن شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو اس سے اختلاف ہے۔

ترکی کے جنگی طیارے راس العین کے گرد چکر لگا رہے ہیں، شہر کو توپ خانے کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے ترجمان نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انھوں نے تل ابیض اور راس العین کے درمیان اہم سڑک پر قبضہ کر لیا ہے اور پیش قدمی کے دوران 18 دیہاتوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

چار دن سے جاری اس لڑائی میں کم از کم 30 شہریوں کی ہلاکت جبکہ دو لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ادھر ترکی کو شام کے کرد اکثریتی علاقوں میں عسکری کارروائیوں سے روکنے کے لیے امریکہ میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے سکیریٹری دفاع مارک ایسپر نے ترکی کو ’سنگین نتائج‘ سے خبردار کیا ہے جبکہ امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسٹیون منوچن نے بھی تازہ پابندیوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف عسکری کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے شمال مشرقی شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے نے ترکی کو سرحد پار سے حملہ کرنے کی موثر طور پر گرین لائٹ دی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو اتحادی ترکی اور کردوں کے درمیان ثالثی کے خواہاں ہیں تاہم ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ترک افواج کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کے بعد شمالی شام میں ہزاروں افراد نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا ہے اور محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شام کی سرحد کے ساتھ 480 کلومیٹر ایک ’محفوظ زون‘ بنانا ہے جو کرد میلیشا سے پاک ہو اور یہ شامی مہاجرین کے لیے گھر بھی ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی اور شام کی سرحد پر تازہ ترین حالات کیا ہیں؟

نامہ نگاروں کے مطابق کردوں کی زیرقیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) جو اس خطے میں امریکہ کی اہم اتحادی ہیں، کو ترکی اور شام کی سرحد پر تقریبا 75 میل (120 کلو میٹر) تک ترک زمینی اور فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق فوج نے اپنے پہلے ترک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ تین دیگر زخمی ہیں۔ ایس ڈی ایف اور ترکی کے حامی دھڑوں کے درجنوں جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

شامی علاقے میں ترک آپریشن بدھ کو شروع ہوا تھا اور ترک فوج نے فی الوقت سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کے درمیانی علاقے میں پیش قدمی کی ہے جس کے بعد امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ترک صدر نے یورپی یونین کی تنبیہ کی تھی کہ ’اگر آپ نے ہماری کارروائی کو حملہ قرار دیا تو ہمارا کام بہت آسان ہو گا، ہم اپنے دروازے کھول دیں گے اور 36 لاکھ پناہ گزینوں کو آپ کی جانب روانہ کر دیں گے۔‘

صدر اردوغان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کی اس آپریشن کے بارے میں تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ پہلے یمن میں اموات کا جواب دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادھر امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں حکمران جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے اس کارروائی پر ترکی کے خلاف پابندیوں کا بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس کی خاتون رکن لز چینی کا کہنا تھا کہ ترکی کو خطے میں ’ہمارے کرد اتحادیوں پر بےرحمی سے حملہ کرنے کے سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترکی کرد ملیشیا (ایس ڈی ایف) کو 'دہشت گرد' قرار دیتا ہے جو اس کے بقول ترک مخالف شورش کی حمایت کرتی ہے۔ ایس ڈی ایف دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کلیدی حریف رہی ہے اور اس نے امریکہ کی جانب سے ترکی کو کارروائی سے نہ روکنے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

تاہم یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کارروائی نہ صرف کردوں کی نسل کشی کا موجب ہو سکتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی سر اٹھا سکتی ہے۔

پابندیوں کا منصوبہ کیا ہے؟

امریکہ میں اپوزیشن جماعت یعنی ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں حکمران رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے 29 ارکان کے ایک گروپ نے قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس سے انقرہ پر پابندیاں عائد ہوں گی۔

خاتون رکن لز چینی نے ایک بیان میں لکھا ’اگر ترکی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک کیا جائے تو اسے بھی ایک اتحادی کی طرح برتاؤ کرنا ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’کانگریس کو طویل عرصے سے (اردوغان) حکومت کی طرف سے امریکی مخالفین جیسا کہ روس کے ساتھ تعاون پر خدشات ہیں۔‘

تاہم انھوں نے اپنے بیان میں امریکی فوجیوں کے شام سے انخلا کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

کانگریس کی رکن جوڈی ارنگٹن نے کہا ہے کہ ’امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ترکی شام میں حد سے تجاوز کرتا ہے تو وہ اسے معاشی طور پر تباہ کر دیں گے اور اس قانون سازی سے امریکہ کو اپنا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے درکار چیز ملتی ہے۔‘

یہ منصوبہ رپبلکن پارٹی کی ہی سینیٹر لنڈزے گراہم کی جانب سے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس ہولن کے ساتھ مل کر جمعرات کو پیش کیے گئے اس مسودۂ قانون کے بعد سامنے آیا جس میں ترکی پر ’کڑی پابندیاں‘ لگانے کی بات کی گئی تھی۔

لنڈزے گراہم صدر ٹرمپ کی بڑی حامی ہیں لیکن انھوں نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کی کھل کر مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے کردوں کو شرمناک انداز میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کی حامی شامی ملیشیا کو بھی فوجی کارروائی کے دوران جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے

صدر ٹرمپ نے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟

صدر نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا، یہاں تک کہ ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ کردوں نے ’دوسری عالمی جنگ میں ہماری مدد نہیں کی۔‘

لیکن اس کے بعد سے انھوں نے ترکی کی شام میں کارروائی پر سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا اگر ترکی کی کارروائی ’انسان دوست‘ نہیں ہے تو پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا حد عبور کرنے کا مطلب ’نسل کشی، توپخانے کا بلاتفریق استعمال اور شہری آبادی کو فضائی اور دیگر طریقوں سے نشانہ بنایا جانا ہے۔‘

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ ہم نے ابھی تک اس کی نمایاں مثالیں نہیں دیکھی ہیں لیکن ابھی تو آغاز ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ صدر نے سفارتی عملے کو یہ جانچنے کی ذمہ داری دی تھی کہ ’اگر دونوں فریقوں کے مابین کوئی بیچ کی بات بن سکے تو ہم جنگ بندی کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ امریکہ کے پاس تین راستے ہیں۔ ’ہزاروں فوجی بھیج کر عسکری فتح، ترکی پر کڑی مالیاتی پابندیاں اور ترکی اور کردوں کے درمیان معاہدے کے لیے ثالثی۔‘

بعدازاں امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پرامید ہوں کہ اس میں سے آخری راستہ استعمال ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام میں فوجی کارروائیاں روکنے کے لیے امریکی دباؤ میں اضافہ

شام میں ترک آپریشن میں کیا ہو رہا ہے؟

جمعرات کی شب ملنے والی اطلاعات کے مطابق ترک فوج نے شام میں سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کو گھیرے میں لے لیا ہے

ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک کارروائی میں 228 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو دن میں ترک صدر نے یہ تعداد 109 بتائی تھی۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے صدر اردوغان کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے تاہم خود کردوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ کم از کم 29 کرد جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ترک حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے ہلاک شدگان کی تعداد 17 ہے۔

ادارے کے مطابق پیش قدمی کرنے والی افواج نے راس العین اور تل ابیض کے درمیان واقع 10 دیہات پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور یہاں کرد پسپائی کا شکار ہیں۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ دریائے جلب کے مشرق میں ترک فوج کا حملہ پسپا کیا گیا ہے جس میں تین فوجی گاڑیاں تباہ اور 22 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کرد ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے پاس 11 افراد کی ہلاکت اور 28 کے شدید زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق راس العین اور سرحدی قصبے قامشلی سے ہے۔

ادھر کردوں کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری سے ترکی کے سرحدی علاقے میں ایک شامی بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں