جاپان میں گلوکارہ پر جنسی حملہ: ’حملہ آور نے آنکھ میں جھلکتے عکس سے خاتون کو تلاش کیا‘

سوشل میڈیا، جاپان، جنسی ہراساں،
Image caption اس کیس سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا صارفین اپنی زندگیوں کی تفصیلات ہائی ڈیفینیشن تصاویر کی صورت میں پوسٹ کر کے نادانستہ طور پر اپنے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں

ایک نوجوان پاپ سٹار کی جاسوسی اور تعاقب کرنے اور ان پر جنسی حملہ کرنے کے ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے ایک تصویر میں ان کی آنکھوں میں جھلکتے عکس کی مدد سے انھیں تلاش کیا۔

جاپانی میڈیا کے مطابق اس شخص نے بتایا کہ گلوکارہ نے اپنی ایک سیلفی آن لائن پوسٹ کی تھی جس میں ان کی آنکھ کی پتلی میں جس جگہ کا عکس نظر آ رہا تھا اس سے اسے معلوم ہوا کہ وہ کس ٹرین سٹیشن پر ہیں۔

26 سالہ ملزم نے اس کے بعد اسی ٹرین سٹیشن پر مذکورہ گلوکارہ کا انتظار کیا اور پھر ان کے گھر تک ان کا تعاقب کیا۔

اس کیس نے انٹرنیٹ پر سٹاکنگ یعنی لوگوں کی جاسوسی کرنے کے خطرے کے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کا نام ہیبیکی ساتو ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے یکم ستمبر کی رات کو خاتون کا پیچھا کیا اور ان پر جنسی حملہ کیا۔

اسی ماہ کے اواخر میں اپنی گرفتاری کے بعد انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ ان 21 سالہ خاتون کے بڑے مداح تھے جنھیں مقامی میڈیا کے مطابق ’جاپانی آئیڈل‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ ان کی تصویر پر زوم کر کے دیکھنے کے بعد انھوں نے گوگل سٹریٹ ویو کی مدد سے سٹیشن کا پتا معلوم کیا۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال سماجی تنہائی کا سبب

’سوشل میڈیا سے دور رہنا اداکاروں کے لیے بہتر‘

آپ کا ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کتنا ذاتی ہے؟

مقامی میڈیا کے مطابق انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے خاتون کی اپنے اپارٹمنٹ میں بنائی گئی ویڈیوز کا بغور مطالعہ کیا جس میں پردوں کی ترتیب اور کھڑکی سے سورج کی روشنی کی سمت کے ذریعے یہ پتا لگایا کہ خاتون واقعتاً کس منزل پر رہتی ہیں۔

اس کیس سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا صارفین اپنی زندگیوں کی تفصیلات ہائی ڈیفینیشن تصاویر کی صورت میں پوسٹ کر کے نادانستہ طور پر اپنے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

آن لائن تفتیشی تکنیکوں میں جدت پیدا کرنے والی ویب سائٹ بیلنگ کیٹ کے بانی ایلیوٹ ہیگینز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اچھی کوالٹی کی تصاویر کے ذریعے زیادہ تفصیلات کا پتا چلایا جا سکتا ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص کس جگہ موجود ہے۔

’ گوگل سٹریٹ ویو جیسی سروسز پر جگہوں کی جتنی زیادہ تصاویر موجود ہوں گی، کسی کی لوکیشن معلوم کرنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’تصویر کے اندر باریک سے باریک تفصیلات سے بھی اس میں موجود افراد کے بارے میں بہت کچھ معلوم کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ تصویر کہاں لی گئی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کبھی بھی ایسی کوئی چیز آن لائن پوسٹ نہ کریں جو آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے باس، شریکِ حیات یا پھر آپ کا بدترین دشمن دیکھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کیمروں کی پہلے سے بہتر کوالٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے نادانستہ طور پر حساس معلومات کے لیک ہونے کے خطرے کو بڑھا دیا ہے

جاپان میں حالیہ کچھ سالوں کے دوران خواتین پاپ سٹارز پر مداحوں کی جانب سے کئی حملے ہوئے ہیں۔

2016 میں جاپانی گلوکار مایو ٹومیٹا جب ایک کنسرٹ میں پرفارم کرنے والی تھیں، اس سے کچھ دیر قبل مبینہ طور پر ایک مداح نے ان پر چاقو سے پے در پے وار کیے جس سے ان کی حالت تشویش ناک ہوگئی۔ اس سال اطلاعات آئی تھیں کہ وہ انھیں مناسب سکیورٹی نہ دینے کے لیے حکومت پر مقدمہ دائر کر رہی ہیں۔

پاپ سٹار ماہو یاماگوچی نے اس سال دعویٰ کیا کہ دو مداحوں نے ان پر جنسی حملہ کیا۔

سوشل میڈیا سے ہونے والے خطرات کے ماہر ٹوکیو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے پروفیسر شوئیچیرو ہوشی نے نیوز ویب سائٹ ٹوکیو رپورٹر کو بتایا کہ سمارٹ فون کیمروں کی بہتر کوالٹی نے ’غیر متوقع طور پر‘ حساس معلومات کے لیک ہونے کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دیگر لفظوں میں کہیں تو ’ڈیجیٹل سٹاکر‘ کا خطرہ اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

اسی بارے میں