ترکی بمقابلہ شامی کرد: ’کردوں کا پہاڑوں کے سوا کوئی دوست نہیں‘

کرد تصویر کے کاپی رائٹ EPA

'یہ ایسے ہے جیسے ہم جہنم میں ہوں۔ میں اپنے خاندان اور ہر اس فرد کے بارے میں فکرمند ہوں جسے میں جانتی ہوں۔'

سیویناز کا تعلق ترکی کے سرحد سے متصل اس شامی قصبے سے ہے جو بدھ کو ترک فوج اور اس کے حامی شامی باغیوں کی جانب سے کرد افواج کے خلاف عسکری کارروائی کے آغاز پر بمباری کی زد میں آیا۔

27 سالہ سیویناز فلمساز بھی ہیں اور انسانی حقوق کی کارکن بھی۔ ان کے قصبے راس العین پر مسلسل فضائی حملوں اور توپ خانے سے گولہ باری نے انھیں اپنے خاندان کے متعدد اراکین سمیت نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

مزید پڑھیے

ترکی کی شام میں زمینی کارروائی کا آغاز

ترکی بمقابلہ شامی کرد: ماضی، حال اور مستقبل

شام میں ترکی کی اتحادی ’نیشنل آرمی‘ کون ہے؟

جمعرات کی صبح باغیوں کے راس العین کے محاصرے کے دعوے سے چند گھنٹے پہلے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں اپنے قصبے سے باہر اپنی بیمار والدہ کے ساتھ ہوں۔ میرا بھائی وہیں ہے۔ مجھے بتایا جا رہا کہ میرے کزن کو شاید شہید کر دیا گیا ہے۔ یہاں کسی کے لیے کوئی مقام محفوظ نہیں ہے۔'

'مجھے خدشہ ہے کہ کہیں میں اپنا شہر آخری مرتبہ نہ دیکھ رہی ہوں۔'

'اردوغان کاذب ہے'

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کہہ چکے ہیں کہ اس عسکری کارروائی کا مقصد شام کی سرحد کے ساتھ 32 کلومیٹر طویل 'محفوظ علاقہ' بنانا ہے تاکہ 20 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو وہاں آباد کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی کی سرحد سے شامی کردوں کی پیشمرگاہ فوج کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ شامی کرد پیشمرگاہ اس باغی گروہ کا حصہ ہیں جس نے ترکی میں کردوں کی خود مختاری کی جنگ لڑی اور ترکی، امریکہ اور یورپی یونین اسے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیش مرگاہ جنھیں وائی پی جی بھی کہا جاتا ہے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ کرد اور عرب فورسز کے اتحاد سے بننے والی سیریئن ڈیموکریٹ فورسز میں پیش مرگاہ اکثریت میں ہیں۔ شام میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے میں کرد پیش مرگاہ افواج امریکہ کی اہم اتحادی رہی ہیں۔

سیویناز رجب اردوغان کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہیں کہ وہ 'جنوبی سرحد پر دہشت گرد راہداری کے قیام میں رکاوٹ بن کر اس علاقے میں امن لانا چاہتے ہیں۔‘

’وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کردوں کو ختم کر دیا جائے۔ اور صرف کرد ہی نہیں کیونکہ راس العین میں اور دیگر شہروں میں صرف کرد ہی آباد نہیں ہیں۔'

سیویناز کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ایس ڈی ایف اور وائی پی جی کے جنگجو ترکوں کے اس حملے کے دفاع میں وہ سب کچھ کریں گے جو وہ کر سکتے ہیں اور آخر کار فاتح قرار پائیں گے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ 'وہ بھی اس ملک کے باسی ہیں۔ وہ ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں۔ جو کچھ بھی یہاں ہو رہا ہے اور دنیا جس طرح اس پر خاموش ہے مجھے پھر بھی یقین ہے کہ جو لوگ حق پر ہیں انہی کی جیت ہو گی۔‘

برطانوی نژاد ایرانی کرد آزاد کدی پیش مرگاہ فوج میں سنائپر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بدھ کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی افواج کو ترکی کے متوقع حملے کے پیشِ نظر سرحدی علاقے سے ہٹانے کا فیصلہ 'کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف' تھا۔

اس سے قبل، امریکی فوج نے اپنے کرد حمایتیوں پر ترک حملوں کو روکنے کے لیے ترک فوج کے ساتھ سرحدی علاقے میں ایک 'سکیورٹی طریقۂ کار' وضع کیا تھا۔

کدی کا کہنا ہے کہ 'اگست میں ہم 'سکیورٹی طریقۂ کار' کے معاہدے پر آمادہ ہوئے تھے۔ اس کی بنیاد پر ہم پیچھے ہٹے تھے۔ ہم نے اپنے اگلے مورچے تباہ کر دیے جنھیں کسی ترک کارروائی سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور ہم نے انھیں امریکیوں کے حوالے کر دیا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کرد فوجیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اپنا دفاع کریں گے

'ہمارا پہاڑوں کے سوا کوئی دوست نہیں'

کدی کا کہنا ہے ایس ڈی ایف فورسز بھاری مشین گنوں، طیارہ شکن اور ٹینک شکن اسلحے سے لیس نہیں تھیں جو ترکی کے اس حملے کا جواب دینے کے لیے درکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'لیکن اگر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، تو نہ سہی۔ ہمیں ہر قیمت پر اپنا دفاع کرنا ہے۔`

ان کا کہنا تھا ’اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ کردوں سے ایسے ہی منہ موڑا گیا۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہمارا ان پہاڑوں کے علاوہ کوئی دوست نہیں۔ امریکہ بھی کسی دوسرے ملک کی طرح ہے اور وہ بھی وہی کرے گا جس میں اس کا مفاد ہے۔ یہ ہمیں معلوم ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ اور دوسرے امریکی سیاست دانوں کو دولتِ اسلامیہ کے ساتھ جنگ کے حوالے سے 'جھوٹ' بتایا گیا ہے۔

انھوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایس ڈی ایف کی جیلوں پر پہرے دینے والے محافظین پر ترکی کی جانب سے حملہ کیا گیا تو وہاں قید دولتِ اسلامیہ کے جنگجو فرار ہو سکتے ہیں۔

'یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ قیدی فرار ہوں لیکن ذرا سوچیں کہ جب حالات مشکل ہو جائیں اور جنگ مسلط کر دی جائے اور آپ متعدد محاذوں پر لڑ رہے ہوں تو جیلوں کو سنبھالنا عملی طور پر مشکل ہو جائے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کرد وہ واحد قوم ہے جس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ عراقی اور شامی حکومتیں ان کے حملوں کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔ صرف ہم ہی تھے جو ان کا مقابلہ کر سکے۔ اب جب کہ ہم پر حملہ کیا جا رہا ہے تو (دولتِ اسلامیہ کی) ایک نئی خلافت کے ابھرنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔'

ادھر سیوناز کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ترکی دولتِ اسلامیہ سے رابطے میں ہے اور وہ انھیں شمال مشرقی شام میں کردوں کو نشانہ بنانے کا کہہ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز، دولتِ اسلامیہ کے متعدد جنگجوؤں نے خطے میں ایس ڈی ایف کے پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ 'مجھے ڈر ہے اور مجھے لگتا ہے کہ جلد ہی ان (دولتِ اسلامیہ) کی نقل و حرکت میں اضافہ ہو گا۔ انھوں نے پہلے ہی راس العین کے نزدیک ایک حملہ کیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ رقہ میں اس طرح کے مزید حملے ہوں گے۔'

ترکی کا کہنا ہے کہ اس کی افواج شمالی شام میں داخل ہو کر دہشت گردی اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کی قیادت کرنا چاہتی ہیں۔

تاہم سیویناز نے مبہم امید ظاہر کی کہ شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکی کو دی جانے والی دھمکی پر عمل کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ روز قبل ترکی کی معیشت کو اس صورت میں مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اگر وہ کچھ بھی ایسا کرے جسے وہ 'دائرہ کار سے باہر' سمجھیں گے۔

سیویناز نے کہا کہ ’دائرہ کار سے باہر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ وہ ابھی سے ہر جگہ پر حملہ کر رہے ہیں۔ انھیں عام شہریوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے نہ ہی وہ شہر کے وسطی علاقوں کو چھوڑ رہے ہیں۔

’ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ انھیں صرف پیسے سے لگاؤ ہے۔ انھیں ان 11 ہزار لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔'

سیویناز مصِر ہیں کہ وہ نقل مکانی کر کے شام کے کسی دوسرے علاقے میں نہیں جائیں گی۔ 'میں روجاوا سے نہیں جاؤں گی۔ میں کبھی نقل مکانی نہیں کروں گی۔' روجاوا کرد زبان میں شام کے شمال مشرقی علاقے کو کہتے ہیں۔

انھوں نے دنیا بھر میں لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی حکومتوں کے سامنے اپنے غم و غصے کا اظہار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دوسرے ممالک کو ہمارا کوئی خیال نہیں ہے۔ اس ممالک کو دولتِ اسلامیہ کے غیر ملکی قیدیوں کو اپنے ممالک میں واپس لے جانے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

‘ان ممالک کو ایک عرصے تک ہمارا کوئی خیال نہیں تھا۔ اب وقت ہے کہ ان افراد کی آوازیں ابھریں جو آزادی اور انسانی حقوق کی پاسداری میں یقین رکھتے ہیں۔'

اسی بارے میں