ٹائفون ہگی بس: جاپان میں چھ دہائیوں کا ’سب سے بڑا طوفان‘، 50 ہزار افراد کی نقل مکانی

طوفان تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

جاپان کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گذشتہ 60 برسوں میں ملک کا سب سے بڑا طوفان ہوسکتا ہے۔

سمندری طوفان ’ٹائفون ہگی بس‘ جاپان کے جنوب مغرب میں واقع ایزو جزیرے نما علاقے میں رونما ہوا ہے۔ یہ طوفان مشرقی ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کی رفتار 225 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے 70 لاکھ افراد کو اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات میں منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔

ٹرین کی سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ ہزاروں پروازیں روک دی گئی ہیں۔ ٹوکیو کے قریب ایک شخص اس وقت ہلاک ہوگیا جب تیز ہواؤں نے اس کی گاڑی الٹ دی۔

یہ بھی پڑھیے

سمندری طوفان ڈوریئن سے بہاماس میں ’تاریخی‘ تباہی

جاپان: سمندری طوفان کی وجہ سے اہم ہوائی اڈہ بند

جاپان زلزلے سے نمٹنے کے لیے تیار، سیلاب سے نہیں

جاپان کے دارالحکومت کے اردگرد ہزاروں گھروں کی بجلی کٹ گئی تھی۔ تاہم کچھ گھروں کی بجلی بعد میں بحال کر دی گئی۔

ہفتے کو جاپان میں رگبی ورلڈ کپ کے دو میچ ہونے تھے، انگلینڈ بمقابلہ فرانس اور نیوزی لینڈ بمقابلہ اٹلی۔ لیکن دونوں منسوخ ہوگئے اور ڈرا قرار پائے۔ فارمولا ون نے بھی ہفتے کو جاپانی گرینڈ پرکس کی کوالیفائنگ ریس منسوخ کر دی تھی۔

جاپانی محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ ہفتے اور اتوار کے بیچ ٹوکیو میں آدھے میٹر کی بارشیں متوقع ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ادارے کے نمائندے نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’شہروں اور دیہاتوں میں پہلی بار ایسی شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی وارننگ جاری کی گئی ہے۔‘

’اس بات کا قوی امکان ہے کہ لینڈ سلائڈنگ اور سیلاب جیسی قدرتی آفات آچکی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اپنی زندگیاں بچانے کے لیے ایکشن لیا جائے۔‘

’ایک کمبل اور ایک بسکٹ‘

کئی شہری ایسے مراکز میں پھنس چکے ہیں جہاں انھیں مشکل حالات سے بچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

ایسے ہی ایک مرکز میں جیمز بیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر کے قریب دریا میں پانی خطرناک سطح تک آگیا تھا۔

’میں اپنی بہن کے ساتھ ہوں جو معذور ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گھر میں پانی آسکتا ہے۔ ہمیں یہاں ایک کمبل اور ایک بسکٹ دیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

طوفان کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟.

ٹائفون سے مراد طوفان ہے جبکہ ہگی بس فلپائنی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب رفتار ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق سمندری طوفان جاپانی جزیرے ہونشو سے ٹکرائے گا۔

سنہ 1958 میں جاپان میں سب سے بڑا طوفان آیا تھا جس میں کم از کم 1200 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے تھے۔

ہفتے کو متعدد ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا گیا کہ کئی دریاؤں میں پانی خطرناک حد تک اوپر آگیا ہے اور کسی بھی وقت کناروں سے زمین پر آسکتا ہے۔

رگبی ورلڈ کپ اور جاپانی گرینڈ پرکس میں پیش آنے والی مشکلات خبروں کی ہیڈلائنز بنی ہوئی ہیں لیکن مقامی آبادی اس طوفان سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کی حالت سنگین ہے۔

طوفان آنے سے قبل اس کی اطلاع ملنے پر ہی بڑی تعداد میں شہری سپر مارکیٹوں میں پہنچ گئے تھے اور تمام ضروری اشیا خرید لیں جس سے سٹور خالی ہوگئے۔

جاپان کے کچھ علاقوں میں گذشتہ ماہ کے طوفان سے بھی کافی نقصان ہوا تھا۔ اس سے 30 ہزار گھر تباہ ہوگئے تھے جن کی تاحال مرمت نہیں ہوسکی۔

ایک 93 سالہ شہری نے جاپانی سرکاری ٹی وی این ایچ کے سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے گھر اس لیے چھوڑا کیونکہ طوفان سے میرے گھر کی چھت گر گئی تھی اور بارش کا پانی اندر آرہا تھا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ لوگوں نے سرکاری اطلاع پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھربار چھوڑے اور حکومتی مراکز میں منتقل ہوگئے۔

اسی بارے میں