شام میں ترکی کی فوجی کارروائی: ترک صدر اردوغان نے صدر ٹرمپ کا خط کچرے میں پھینک دیا

Trump, Erdogan and Trump's letter تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption Uط میں صدر ٹرمپ نے لکھا: 'چلو ایک عمدہ معاہدے پر کام کرتے ہیں۔ آپ ہزاروں افراد کے قتل کے ذمہ دار نہیں بننا چاہیں گے، اور میں ترک معیشت کی تباہی کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتا'

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر کا ایک خط 'کچرے کے ڈبے‘ میں پھینک دیا تھا۔

اس خط پر نو اکتوبر کی تاریخ درج ہے اور یہ شام سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر اردوغان سے کہا تھا کہ 'زیادہ بڑے بننے کی کوشش نہ کرو، احمق مت بنو۔'

ترکی میں صدر کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر اردوغان کی جانب سے اس خط کو 'مکمل طور پر رد کر دیا گیا تھا۔'

جس دن یہ خط موصول ہوا اسی دن ترکی نے سرحد پار کُردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’کردوں کا پہاڑوں کے سوا کوئی دوست نہیں‘

آزاد کُرد ریاست کا خواب اب تک ادھورا کیوں؟

ترکی نے امریکہ کی جنگ بندی کی اپیل مسترد کر دی

صدر ٹرمپ کے خط میں لکھا تھا کہ 'چلو ایک عمدہ معاہدے پر کام کرتے ہیں۔ آپ ہزاروں افراد کے قتل کے ذمہ دار نہیں بننا چاہیں گے، اور میں ترک معیشت کی تباہی کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتا۔‘

'اگر آپ درست اور انسانی بنیادوں پر اس مسئلہ کو حل کریں گے تو تاریخ آپ کے حق میں ہو گی۔ اور اگر اچھے اقدامات نہ ہوئے تو تاریخ آپ کو ہمیشہ کے لیے ایک ظالم کے طور پر دیکھے گی۔‘

صدارتی ذرائع کے مطابق ردعمل میں 'صدر اردوغان نے خط موصول کیا، اسے مکمل طور پر رد کر دیا اور اسے بِن میں پھینک دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ کی جان سے صدر اردوغان کو لکھے گئے خط کا عکس

شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ترکی کو کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے گرین سگنل ملا۔

صدر ٹرمپ پر زیادہ تنقید ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

بدھ کو ایک ووٹ میں صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے 129 ممبران نے ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر صدر کے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر اردوغان سے کہا تھا کہ 'زیادہ بڑے بننے کی کوشش نہ کرو، احمق مت بنو'

اطلاعات کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے بھی اس مسئلے پر صدر کے ساتھ ایک دھواں دار میٹنگ کی جس کے نتیجے میں نینسی پلوسی اور سینیٹر چارلس شومر غصے میں کمرے سے نکل گئے تھے۔

صدر ٹرمپ اور نینسی پلوسی نے بعد میں ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے۔

ریپبلیکن رہنماؤں نے نینسی پلوسی کے رویے اور اچانک بات چیت چھوڑ کر چلے جانے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے بدھ کو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو شام میں ترکی کے ملٹری آپریشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور یہ کہ امریکہ کے سابق اتحادی کُرد 'فرشتے نہیں ہیں۔'

ترکی کردوں کی سربراہی میں قائم مسلح گروپوں کے اتحاد کو ایک دہشت گرد گروپ تصور کرتا ہے۔

ترکی کے رہنما چاہتے ہیں کہ شام کی سرحد کے اندر 32 کلومیٹر وسیع ایک 'محفوظ علاقہ' تشکیل دیا جائے جہاں کرد جنگجوؤں وائی پی جی کا کوئی وجود نہ ہو اور ترکی میں موجود 35 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے 20 لاکھ کو اس محفوظ علاقے میں منتقل کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں