100WOMEN#: مردوں کے لیے مانع حمل گولیاں بازار تک کیوں نہیں آ رہی ہیں؟

مادہ منویہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا بھر کے سائنسدان تقریباً نصف صدی سے مردوں کے استعمال کے لیے مانع حمل گولیوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

اس کے متعلق بہت ساری رپورٹس نظر آتی ہیں لیکن ابھی تک یہ گولیاں میڈیکل سٹورز تک نہیں پہنچی ہیں۔

سرمایہ کاری کی کمی اور مردوں کی عدم دلچسپی کے سبب ان گولیوں کی تیاری بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ ابھی بھی خواتین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ حمل نہ ٹھہرنے کی ذمہ داری اٹھائیں۔

بہرحال تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مردوں کے لیے ایسی گولیاں دستیاب ہوتیں تو مرد آسانی سے ان کو قبول کر لیتے۔

یہ بھی پڑھیے

’بچے کی چیخوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔۔۔‘

’مستقبل کی لڑکیوں کے لیے ماضی کا سبق کیوں؟‘

بی بی سی کی 100 خواتین کی فہرست میں کون کون شامل ہے؟

برطانیہ میں جنسی طور پر فعال مردوں میں ایک تہائی کہتے ہیں کہ وہ دوا یا ٹرانسپلانٹ کی تکنیک کا استعمال کر کے بچے کی پیدائش پر قابو پانے کا طریقہ اپنانے کے لیے تیار ہیں۔

فی الحال برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی خواتین ہی مانع حمل گولیوں کا استعمال کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کس کی ذمہ داری؟

سروے میں شامل دس میں سے آٹھ افراد کا خیال ہے کہ مانع حمل مرد یا عورت میں سے کسی ایک کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ دونوں کی ہے۔

دوسری طرف امریکہ میں 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد میں سے 77 فیصد نے نس بندی یا کنڈوم کی جگہ حمل کی روک تھام کے لیے دوسری چيزوں میں اپنی ’کم از کم جزوی' دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی زیادہ عوامی قبولیت کے باوجود کیا مردوں کے لیے مانع حمل گولیوں کی دستیابی حقیقت بن سکتی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا بھر میں مانع حمل کا عام طریقہ کیا ہے؟

اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں جنسی طور پر فعال جوڑوں کی ایک تہائی مانع حمل کے لیے کسی قسم کی تکنیک کا استعمال نہیں کرتے۔

نیز جو مانع حمل پراڈکٹس کا استعمال کرتے ہیں ان میں خواتین میں مانع حمل کو اپنانے کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔

تقریباً 19 فیصد شادی شدہ یا جنسی تعلقات رکھنے والی خواتین مانع حمل کے لیے نس بندی پر انحصار کرتی ہیں، 14 فیصد خواتین 'کوائل' کا استعمال کرتی ہیں جسے 'کاپر ٹی' بھی کہا جاتا ہے، نو فیصد خواتین برتھ کنٹرول کی گولیوں کا استعمال کرتی ہیں جبکہ پانچ فیصد انجیکشن کا استعمال کرتی ہیں۔

صرف مردوں سے منسلک مانع حمل کے طریقوں کا رجحان انتہائی کم ہے۔ صرف آٹھ فیصد مرد کنڈوم استعمال کرتے ہیں جبکہ دو فیصد مرد نس بندی کراتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مانع حمل گولیوں سے قبل کیا تھا؟

مانع حمل گولیوں سے قبل مردوں کو بھی حمل کی روک تھام میں شریک ہونا ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر انھیں کنڈوم استعمال کرنا پڑتا تھا۔

سنہ 1960 کی دہائی میں جب خواتین کے لیے مانع حمل گولیاں بڑے پیمانے پر تیار ہونا شروع ہوئیں تو حمل کا فیصلہ خواتین کے کنٹرول میں آ گیا۔ خواتین اپنے جنسی ساتھیوں کو بتائے بغیر بھی یہ کام کر سکتی تھیں۔

آج کل دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ خواتین مانع حمل گولیوں کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مانع حمل کا سب سے عام طریقہ ہے۔

مانع حمل گولیاں افریقہ، لاطینی امریکہ اور شمالی امریکہ میں مانع حمل کا دوسرا مقبول ترین طریقہ ہے۔ جبکہ ایشیا میں یہ تیسرا عام طریقہ ہے۔

مانع حمل گولیوں نے گذشتہ چند دہائیوں میں خواتین کی زندگی کو قدرے آسان بنا دیا ہے۔ اپنی سہولت کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہیں کہ وہ کب ماں بننا چاہتی ہیں۔ اس سے انھیں اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے میدان میں مدد ملی ہے۔

اسے خواتین کے حقوق کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے اور اس کا 20ویں صدی کی سب سے بڑی ایجادات میں شمار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مرد اور عورت میں مساوات

معاشرے میں صنفی مساوات کی باتیں بڑھ رہی ہیں اور اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ پھر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مانع حمل کے مضر اثرات کے علاوہ صرف خواتین کو جذباتی، معاشرتی، مالی اور وقت سے متعلق چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسی صورتحال میں ہمارے پاس ابھی تک مرد کے لیے مانع حمل گولیاں کیوں نہیں ہیں؟

خواتین کے لیے مانع حمل گولیاں جب دریافت ہوئیں اس کے بعد ایک دہائی کے اندر ہی وہ عام لوگوں کے لیے دستیاب تھیں۔ مردوں کی گولیوں کو مارکیٹ تک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے، حالانکہ اس کا پہلا ٹرائل سنہ 1970 میں ہوا تھا۔

کچھ سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ مردوں کے لیے مانع حمل گولیاں تیار کرنے کا عمل خواتین کی مانع حمل گولیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

مردوں کی مانع حمل گولیاں مادہ منویہ کو روک کر اپنا کام کرتی ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لیے جس طرح کے ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے اس کے مضر اثرات پڑتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں معاشرتی اور معاشی عوامل کا بھی اپنا کردار ہے۔ تولیدی سائنس اور طب کی دنیا بنیادی طور پر خواتین کے جسم پر مرکوز ہے، جس میں مردوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ گائناکالوجسٹ کیا کرتے ہیں اینڈرولوجسٹ کے بارے لوگ نہیں جانتے ہیں۔ اینڈرولوجسٹ وہ ہوتا ہے جو مردوں کے تولیدی نظام کے معاملے کا ماہر ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کام کیوں رک گیا ہے؟

کئی عشروں سے خواتین کی مانع حمل گولیوں کے بعد مردوں کے لیے ایسی گولیوں پر کام شروع ہوا اور اس کے بعد فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ کام رک گیا ہے۔

مردوں کے لیے ایسی ہی ایک گولی 'کلین شیٹس' پر ہونے والی تحقیق بند ہو گئی ہے، یہ مانع حمل گولی سیکس کے دوران مادہ منویہ نہیں بننے دیتی ہے۔ در حقیقت مادہ منویہ کا انزال مردوں کی جنسیت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

تاہم دہائیوں قبل کی گئی تحقیق کے مطابق طویل مدت تک اپنے مرد ساتھی کے ساتھ تعلقات میں رہنے والی خواتین اپنے ساتھی پر بھروسہ کرتی ہیں لیکن جب بات جنسی تعلقات کی ہوتی ہے تو خواتین مردوں پر کم ہی اعتماد کرتی ہیں خواہ مرد مانع حمل کا استعمال کیوں نہ کر رہا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

'یہ خواتین کا کام ہے'

مانع حمل کو عام طور پر خواتین کے کام کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہ خیال بھی عام ہے کہ مرد مانع حمل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔

اب صنف کا کردار بدل رہا ہے اور مرد گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ بچوں کی دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں۔

یہ توازن مانع حمل تک جا سکتا ہے کیونکہ تحقیقی مطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ نوجوان مرد اسے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مردوں کے کچھ گروہ جو زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور روایتی طور پر صنفی برابری پر یقین رکھتے ہیں وہ مردوں کی مانع حمل گولی کے خواہاں ہیں۔

اگرچہ مرد ان گولیوں کا خیر مقدم کر رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام مرد ان کو استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔

وہ اسے نس بندی کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مردوں کی نس بندی کا عمل 200 سال پہلے شروع ہو چکا تھا لیکن پھر بھی مردوں کے مقابلے میں خواتین میں نس بندی دس گنا زیادہ ہے۔

مردوں کی مانع حمل گولیوں کو تیار کرنے کے لیے معاشرتی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنا ہو گا۔ اس میں سب سے اہم اور پہلا قدم صنفی مساوات کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔

ہم 50 برسوں سے مردوں کی مانع حمل گولی کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اب ہم مزید 50 سال انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔

#100Women کیا ہیں؟

ہم نے یہ تجزیہ ہمارے ادارے سے باہر کی ایک ماہر سے تحریر کروایا ہے۔ انھیں یہ مضمون بی بی سی 100 ویمن سیزن 2019 کے لیے کمیشن کیا گیا تھا۔

لیزا کیمپو۔انگلسٹائن ایک ماہر حیاتیات ہیں۔ وہ رواں سال بی بی سی کی 100 خواتین میں شامل ہیں۔ وہ تولیدی اخلاقیات پر کام کر رہی ہے۔

لیزا نیو یارک کے ایلڈن مارچ بائیو اخلاقیات انسٹی ٹیوٹ اور میڈیکل کالج کے شعبہ طبعیات اور جینیولوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

ہر سال بی بی سی 100 ویمن آپ کے لیے پوری دنیا سے 100 موثر اور متاثر کن خواتین کی کہانیاں لاتی ہے۔

رواں سال دنیا کو بہت سارے چیلنجز درپیش تھے لہذا سنہ 2019 میں بی بی سی 100 خواتین سے یہ سوال پوچھے گئے کہ '2030 تک مستقبل کیسا ہوگا؟'

اس فہرست میں شام کی تعمیر نو کا منصوبہ بنانے والی ماہر تعمیرات سے لیکر ناسا میں مریخ کے لیے ہیلی کاپٹر کی پراجیکٹ منیجر تک سبھی شامل ہیں۔

پورے سیزن کے دوران ایسی خواتین سنہ 2030 میں زندگی کے بارے میں اپنی پیش گوئیاں کریں گی۔

ان میں چند ایسی خواتین بھی شامل ہیں جو مافیا کا مقابلہ کرنے والی 'پراسرار' سیاست دان ہیں جبکہ بعض فٹبال میں مردوں کی اجارہ داری کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ وہ اپنے غیر معمولی ذاتی تجربات سے آئندہ نسلوں کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں