عراق، لبنان، ہانگ کانگ اور سپین سمیت دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں میں کتنی یکسانیت؟

مختلف ممالک کے مظاہرین تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY/REUTERS

حالیہ ہفتوں کے دوران عراق سے لبنان اور سپین سے چلی تک میں عوامی مظاہرے نظر آئے ہیں۔ یہ تمام مظاہرے وجوہات، طریقوں اور اہداف کے سبب مختلف ہیں لیکن ان میں بعض یکساں چیزیں ہیں جو ان کو آپس میں جوڑتی ہیں۔

ہزاروں میل کے فاصلوں کے باوجود مختلف ممالک میں ان مظاہروں کی ابتدا کی وجوہات تقریباً یکساں ہیں اور بعض نے ایک دوسرے سے تحریک بھی حاصل کی ہے کہ کس طرح اپنے مظاہروں کو منظم کیا جائے اور اپنے اہداف کے حصول میں آگے بڑھا جائے۔

یہاں ان مسائل پر نظر ڈالی جا رہی ہے جو ان مظاہروں کے آغاز کی وجہ بنے، اور اس بات پر بھی نظر ڈالی جا رہی کہ مظاہرین کو کیا چیزیں متحد کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ماحولیاتی تبدیلی: گریٹا تھنبرگ سے کلائمیٹ مارچ تک

ہانگ کانگ میں ہنگامے، مظاہرین کاپارلیمنٹ بلڈنگ پر حملہ

’واٹس ایپ ٹیکس‘ نے لبنان کی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا

عدم مساوات

مظاہرین میں بہت سے ایسے ہیں جنھیں ایک عرصے سے یہ احساس ہے کہ ان پر ان کی ملک کی دولت کا در بند ہے۔ بہت سے معاملات میں اہم خدمات کی قیمتوں میں اضافہ آخری کیل ثابت ہوا ہے۔

رواں ماہ ایکواڈور میں اس وقت مظاہرے شروع ہوئے جب حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایندھن پر دہائیوں سے جاری سبسڈی (چھوٹ) کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی کے تحت ختم کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لبنان میں مظاہرین عدم مساوات اور بدعنوانی کے کے خلاف ‎سڑکوں پر اترے

اس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گيا اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ وہ ان کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔

ملک میں سرگرمِ عمل مختلف گروہوں کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ سرکاری ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور کھانے کی اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور یہ کہ دیہی آبادی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔

مظاہرین نے کٹوتی کو ختم کرنے اور ایندھن پر سبسڈی بحال کرنے کے لیے شاہراہوں کو بند کر دیا، پارلیمان پر حملہ کر دیا اور سکیورٹی فورسز سے تصادم کیا۔ حکومت نے وسیع پیمانے پر عوام کے مظاہرے کے سامنے سپر ڈال دیا جس کے بعد مظاہرے ختم ہوئے۔

ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافے کی وجہ سے چلی میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کرنسی کی کمزوری کو بس اور میٹرو کے کرایوں میں اضافے کی وجوہات بتایا لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ بس غریبوں کو نچوڑنے کا محض ایک نیا طریقہ ہے۔

مظاہرین جہاں جمعے کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کر رہے تھے وہیں صدر سیبسٹیئن پائنیرا کی ایک تصویر شائع ہوئی جس میں وہ ایک عمدہ اطالوی ریستوراں میں کھانا کھا رہے تھے۔ بعض لوگوں نے اسے چلی کی سیاسی اشرافیہ اور سڑکوں پر موجود عوام کے درمیان فرق کی علامت کے طور پر بیان کیا۔

چلی لاطینی امریکہ کے امیر ترین ممالک میں ایک ہے لیکن وہاں سب سے زیادہ عدم مساوات بھی ہے کیونکہ معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) میں شامل 36 ممالک میں آمدن کے تعلق سے وہاں سب سے زیادہ عدم مساوات ہے۔

ایکواڈور کی طرح ہی چلی کی حکومت نے بڑھائے جانے والے کرایہ کو واپس لیا تاکہ مظاہروں کو ختم کیا جا سکے۔ لیکن مظاہرے جاری رہے اور اب وہ وسیع شکایات کا ازالہ چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین کی بڑی تعداد سکیورٹی فورسز سے متصادم دیکھی جا سکتی ہے

مظاہرے میں شامل ایک طالب علم نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'یہ صرف میٹرو کے کرایے میں اضافے کے خلاف کوئی عام مظاہرہ نہیں ہے بلکہ یہ کئی سالوں کے استبداد کے خلاف لوگوں کا غضہ ہے جس کا شکار زیادہ تر غریب ہوئے ہیں۔'

لبنان میں اسی قسم کی شورش دیکھی گئی ہے جہاں واٹس ایپ کالز پر ٹیکس لگانے کے خلاف مظاہرے بھڑک اٹھے اور انھوں نے وسیع پیمانے پر معاشی مسائل، عدم مساوات اور بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کا روپ لے لیا۔

قرضوں کی سطح میں اضافے کے ساتھ حکومت نے معاشی اصلاحات کی کوششوں پر کام کرنا شروع کیا ہے تاکہ بین الاقوامی مخیر اداروں سے امداد حاصل کی جا سکے۔ لیکن عام شہریوں کا خیال ہے کہ وہ ملک کی معاشی پالیسی کے تحت پس رہے ہیں اور حکومت کی بدنظمی ان کی مشکلات کے لیے ذمہ دار ہے۔

بیروت میں عبداللہ نامی ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے بتایا: 'ہم یہاں واٹس ایپ کے لیے نہیں ہیں بلکہ ہم ایندھن، خوراک، روٹی، ہر چیز کے لیے یہاں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین کے شہر بارسلونا میں مظاہرین نے کہا کہ وہ ہانگ کانگ کے مظاہرین کی نقل کر رہے ہیں

بدعنوانی

مختلف مظاہروں کے بطن میں حکومت میں پھیلی ہوئی مبینہ بدعنوانی ہے اور وہ عدم مساوات کے مسئلے سے بہت حد تک منسلک ہیں۔

لبنان میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ معاشی بحران کا شکار ہیں جبکہ ملک کے سربراہان اپنے عہدوں اور اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیر ہوتے جا رہے ہیں۔

مظاہرین میں سے ایک 50 سالہ شخص رباب نے کہا: 'میں نے یہاں بہت سی چیزیں ہوتی دیکھی ہیں لیکن لبنان میں ایسی بدعنوان حکومت نہیں دیکھی۔'

عراق کے عوام بھی اس سیاسی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں جنھوں نے ان کے مطابق انھیں مایوس کیا ہے۔ وہاں جھگڑے کی ایک اہم وجہ تقرری کا طریقہ ہے جو کہ صلاحیت کی جگہ نسلی یا مسلکی کوٹے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس سے رہنماؤں کو عوام کے پیسوں کے غلط استعمال کی اجازت ملی ہے اور اس طرح وہ خود کو اور اپنے حامیوں کو نواز رہے ہیں جبکہ بہت کم فوائد عوام تک پہنچ رہے ہیں۔

مصر میں بھی حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ سپین میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے مصری تاجر محمد علی کی کال پر ستمبر میں مصر میں ایک مظاہرہ نظر آیا جو شاذ و نادر کے زمرے میں آتا ہے۔ اور یہ مظاہرہ محمد علی کی جانب سے صدر عبدالفتاح السیسی اور فوج پر بدعنوانی کے الزامات لگانے کے بعد دیکھا گیا۔

السیسی اور ان کی حکومت کی جانب سے فنڈز کے غلط استعمال کے متعلق ان کے الزامات بہت سے مصریوں کی دل کی آواز سے ہم آہنگ تھے جوکہ اب تک حکومت کے کٹوتی کے اقدامات سے غیر متاثر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عراقی مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی نظام بدعنوان ہے

سیاسی آزادی

بعض ممالک میں مظاہرے سیاسی نظام کے خلاف تھے جس میں وہ خود کو پھنسا ہوا پاتے ہیں۔

رواں موسم گرما میں ہانگ کانگ میں ایک بل کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے جس میں بعض حالات میں مشتبہ مجرموں کو چین منتقل کرنے کی بات تھی۔ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو خصوصی آزادی حاصل ہے لیکن وہاں یہ خوف گھر کرتا جا رہا ہے کہ بیجنگ ان پر وسیع کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

چلی اور لبنان کے مظاہروں کی طرح ہانگ کانگ کے وسیع مظاہرے کا نتیجہ متنازع بل کی واپسی کی شکل میں نکلا لیکن مظاہرے جاری رہے۔ اب ان کے مطالبے میں مکمل اظہارِ رائے کی آزادی، پولیس کی بربریت کے خلاف آزادانہ تحقیقات اور گرفتار کیے جانے والے مظاہرین کی رہائی اور معافی شامل ہے۔

ان کی حکمت عملی نے تقریباً نصف دنیا کے سیاسی کارکنوں کو متاثر کیا ہے۔ سینکڑوں ہزار افراد نے کاتالونیہ کے علیحدگی پسند رہنما کو جیل میں ڈالنے کے خلاف بارسلونا میں مظاہرے کیے۔ ان علیحدگی پسندوں کو رواں سال 14 اکتوبر کو غداری کے الزام میں سنہ 2017 کے ریفرینڈم میں ان کے کردار کے لیے سزا سنائی گئی تھی جسے سپین کی عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس کے بعد کاتالونیہ کی آزادی کا اعلان کیا گیا تھا۔

سزا سنائے جانے کے چند گھنٹوں بعد بارسلونا میں لوگوں کو مقبول انکرپٹڈ میسجنگ سروس پر یہ پیغام موصول ہوئے کہ وہ بارسلونا کے ایل پریٹ ایئرپورٹ کی جانب بڑھیں۔ یہ طریقہ ہانگ کانگ کے مظاہرین کی نقل تھا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جب لوگ ایئرپورٹ کی جانب بڑھ رہے تھے تو نوجوانوں کے ایک گروپ نے نعرہ لگایا کہ 'ہم ہانگ کانگ کی طرح کریں گے۔'

کاتالونیہ کے مظاہرین ہانگ کانگ میں بنے انفوگرافکس تقسیم کر رہے تھے جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح مظاہرین پولیس کی واٹر کینن اور آنسو گیس سے خود کو بچا سکتے ہیں۔

بارسلونا میں ایک مظاہرہ کرنے والے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: 'لوگوں کو سڑکوں پر ہونا چاہیے، تمام بغاوت وہیں شروع ہوتی ہے۔ ہانگ کانگ کی مثال لے لیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماحولیاتی تبدیلی پر دنیا کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہوئے یہاں 18 اکتوبر کو ہونے والے لندن کے مظاہرے کو دیکھا جا سکتا ہے

موسمیاتی تبدیلی

بہت سارے مظاہرے جن کے بارے میں آپ سنتے رہتے ہیں ان کا تعلق ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونا لازمی ہے۔ ایکسٹنکشن ریبیلیئن (ایکس آر) تحریک کے کارکن دنیا بھر کے شہروں میں مظاہرے کر رہے ہیں اور وہ حکومتوں سے اس کے متعلق فوری اقدام چاہتے ہیں۔

اس کے متعلق امریکہ، برطانیہ، جرمنی، سپین، آسٹریا، فرانس اور نیوزی لینڈ میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس میں شریک ہونے والے مظاہرین نے خود کو سڑکوں اور گاڑیوں سے چپکا لیا تھا اور انھوں نے شہر کے مصروف مقامات کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی تھی۔

آسٹریلوی کارکن جین مورٹن نے کہا: 'ہمارے پاس بغاوت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے جب تک کہ ہماری حکومت موسم اور ماحولیات کے متعلق ہنگامی صورت حال کا اعلان نہ کر دے اور اس کے متعلق ایسے نہ اقدام کرے جو ہماری حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔'

سویڈن کی 16 سالہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سے متاثر ہو کر دنیا بھر میں نوجوان ہفتے کی بنیاد پر سکول میں ہڑتال کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ طلبہ کی رہنمائی میں عالمی سطح پر ماحولیات کے متعلق ہڑتال کی گئی جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ اس کے تحت میلبرن سے لے کر ممبئی، برلن اور نیویارک میں بڑی ریلیاں نکلیں جبکہ مٹھی بھر لوگوں نے پیسفک جزائر میں بھی مظاہرے کیے۔

ایک پلے کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ 'ہم اپنے اسباق چھوڑ رہے ہیں تاکہ آپ کو ایک سبق دے سکیں۔'

اسی بارے میں