ترکی یا شام: روسی صدر ولادیمیر پوتن آخر کس کا ساتھ دے رہے ہیں؟

پوتن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2015 میں ترک فوج نے شام کی سرحد کے پاس روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس وقت ترک صدر طیب اردوغان نے کہا تھا کہ روس آگ سے کھیل رہا ہے

ترکی اور روس نے کرد فورسز کو ترکی سے متصل شام کی سرحد سے دور رکھنے کے معاہدے پر رضامندی کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔

اس دس نکاتی معاہدے کے تحت روسی اور شامی افواج اس بات کی نگرانی کریں گی کہ کرد فورسز وہاں سے فوری نکل جائيں۔ اس معاہدے کے تحت آئندہ ہفتے ترکی اور روس کا سرحد کی مشترکہ نگرانی کا منصوبہ ہے۔

اس معاہدے کا اعلان منگل کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور روسی میزبان ولادیمیر پوتن کے درمیان بحر اسود کے شہر سوچی میں چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد کیا گیا۔

جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو بدھ کی دوپہر سے 150 گھنٹے دیے گئے ہیں کہ وہ سرحد سے 30 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ جائيں یعنی کہ منبج کے مشرق میں دریائے فرات کے تقریباً تمام حصے کو خالی کرکے عراق کی سرحد کی طرف چلے جائیں۔

ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے شام کے صدر بشارالاسد سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انھیں اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جس پر شام کے صدر بشارالاسد نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس میں اہم کردار ادا کرنے پر روسی صدر پوتن کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی پر عائد پابندیاں ختم کر دیں

ٹرمپ کا چند امریکی فوجی شام میں ہی رکھنے کا اعلان

ترکی نے امریکہ کی جنگ بندی کی اپیل مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روس اور ترکی پہلے الگ الگ خیموں میں تھے

لیکن اس بات کو زیادہ وقت نہیں ہوا ہے جب ترکی اور روس مد مقابل تھے۔ سنہ 2015 میں ترک فوج نے شام کی سرحد کے پاس روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس وقت ترک صدر طیب اردوغان نے کہا تھا کہ روس آگ سے کھیل رہا ہے۔

معاملہ بڑھا اور روس نے ترکی کے ساتھ اپنے ویزا فری تعلقات کو معطل کیا اور ترکی پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا منصوبہ بنایا لیکن سنہ 2018 تک مشرق وسطیٰ میں اتحاد بدلنے لگے۔

شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کو پسپا کرنے کے لیے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی افواج نے شام میں حملے کیے تو روس شامی حکومت کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

اس دوران شام میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی کرد افواج کی امریکہ نے حمایت کی جو شامی حکومت کے مخالف تھے۔ امریکہ نے انھیں بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے جس سے ترکی پریشان ہوا کیوںکہ ترکی کردوں کو دہشت گرد مانتا ہے۔

سنہ 2019 میں امریکہ نے کہا کہ وہ اپنی فوج شام سے واپس بلا رہا ہے اور اس کے بعد اس نے کرد افواج کی حمایت بند کر دی۔

دوسری جانب شام میں ایک سیف زون بنانے کے مقصد سے کرد افواج کے خلاف ترکی نے ایک عسکری کارروائی کا آغاز کیا۔ ایسے میں تنہا رہ جانے والے کرد ملیشیا کو شامی حکومت سے مدد مانگنا پڑی۔

کیا پوتن صرف روس کے حق میں کام کر رہے ہیں؟

تیزی سے بدلتے اس منظرنامے میں پوتن کا کردار کافی اہم رہا۔ جو کبھی شام کے ساتھ نظر آئے تو کبھی ترکی کے ساتھ۔

ایک دوسرے کے خلاف کھڑے دونوں دھڑوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اور مذاکرات کر کے پوتن مشرق وسطیٰ میں کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشرق وسطیٰ کے بدلتے منظرنامے میں پوتن کا کردار کافی اہم رہا ہے، جو کبھی شام کے ساتھ نظر آئے تو کبھی ترکی کے ساتھ

دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر اے کے پاشا کہتے ہیں کہ پوتن نے ایک سیاسی قدم اٹھا کر شام میں ہونے والی فوجی مہم کو ایک طرح سے روک دیا ہے۔

’امریکہ خود مشرق وسطیٰ سے باہر نکلنا چاہتا ہے تو اب یہ علاقہ سیاست اور دفاع میں مدد کے لیے روس کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘

’حال ہی میں سعودی شاہ سلمان نے بھی ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں نہیں رہنا چاہتا اور اسے روس، انڈیا اور چین سے تعلقات بنانے ہوں گے۔‘

مشرق وسطیٰ امور کے ماہر قمر آغا کہتے ہیں کہ روس اور ترکی کے درمیان پیار اور نفرت کا رشتہ ہے جس میں ترکی کا مقام مرکزی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ اب خالی ہو رہی ہے جسے روس بھرنا چاہتا ہے۔ ترکی کے ساتھ روس کی بات چیت کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

’اہم بات یہ ہے کہ امریکی طاقت اب زوال کی طرف جا رہی ہے اور ایسے میں جو خلا بنے گا روس مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا کردار نبھانے کے لیے آگے آ رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ روس، چین، ایران اور دوسری طاقتیں بھی اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ مقامی قوتیں مزید طاقتور ہوتی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قمر آغا کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اپنے اثر رسوخ کی طاقت کو بدلنے اور جمہوریت لانے کا فارمولا ناکام ہو چکا ہے۔

’امریکہ نے عراق اور افغانستان میں نئی حکومت بنانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد عرب دنیا میں امریکہ کے لیے بھی حمایت کم ہوتی گئی۔‘

بدل رہا ہے ورلڈ آرڈر

پروفیسر پاشا کہتے ہیں کہ دنیا ’یونی پولر‘ یعنی ایک طاقت کے ماڈل سے ہٹ کر ’ملٹی پولر‘ یعنی کئی طاقتوں کے ماڈل کی جانب بڑھ رہی ہے۔

’سنہ 1991 میں سویت یونین ختم ہوا اور یونی پولر دنیا نظر آنے لگی جس میں امریکہ سب سے بڑی طاقت تھا لیکن اب دنیا ملٹی پولر بنتی جا رہی ہے جس میں کئ ملک طاقتور ہوں گے۔ جس میں بڑی طاقتیں ہوں گی جیسا کہ امریکہ روس اور چین جبکہ دوسری سطح پر طاقتور ممالک ہوں گے جیسا کہ انڈیا، ترکی، یورپی یونین، جنوبی افریقہ، برازیل، جاپان، ایران وغیرہ۔‘

قمر آغا کہتے ہیں کہ اس سب کے درمیان اسلامی دنیا میں ترکی بڑا کردار نبھانے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور وہ روس کی حمایت چاہتا ہے۔ وہ کبھی روس سے ہتھیار لے کر امریکہ پر دباؤ بناتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’دیگر ممالک بھی طاقتور ضرور ہوتے جا رہے ہیں لیکن امریکہ آج بھی ایک بڑی طاقت ہے، وہ ویسی ہی رہے گی، وہ نمبر ایک ہی رہے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قمر آغا کا مزید کہنا ہے ’یہ ماننا غلط ہے کہ اگر پوتن روس میں اقتدار میں نہ رہے تو روس کمزور ہو جائے گا۔ روس کے رہنما پوتن ہوں یا نہیں روس ملٹی پولر دنیا میں اہم کھلاڑی رہے گا۔ سرد جنگ کے بعد وہ ایک بار پھر بڑی طاقت کے روپ میں ابھرنا چاہتا ہے۔‘

قمر آغا کہتے ہیں کہ اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کبھی ٹیکنالوجی میں آگے رہنا والا امریکہ یا مغربی ممالک اب اس شعبے میں لیڈر نہیں رہے۔ اس شعبے میں بھی چین اور روس اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں اور امریکہ کے لیے بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔‘

پروفیسر پاشا کہتے ہیں کہ روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ تیل کے بڑے ذخائر بھی ہیں اور وہ یورو ایشیائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے آپ میں امریکہ کے لیے یہ بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں