ماہجونگ: چین کے سب سے مقبول کھیل پر پولیس کی یلغار

ماہجونگ کا کھیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہجونگ کو چینی ثقافت کی روح بھی کہا گیا ہے

ملک کے ایک شہر میں پولیس کی طرف سے بظاہر اس کھیل پر مکمل پابندی سے چین کے اس قومی مشغلے کے پرستاروں میں خوف پھیل گیا۔

جنوب مشرقی چین کے شہر یوشان میں پولیس نے ابتدائی طور پر، یہ کہتے ہوئے، اختتام ہفتہ کو پابندی کا اعلان کیا تھا کہ اس کا مقصد غیر قانونی جوئے کو روکنا اور سماجی رویوں کو پاک کرنا ہے۔

لوگوں میں اس اقدام پر غصے کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے بہت سوں کا کہنا تھا کہ یہ کھیل چینی ثقافت کی روح ہے۔ پولیس نے پھر وضاحت کی کہ اس کی کارروائی صرف غیر قانونی اڈوں کے خلاف ہے۔

اس سے پہلے کئی دوسرے شہروں میں بھی غیر قانونی پارلر بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایرانی گیم شوز پر جوے کے الزامات کے بعد پابندی

کردستان میں ویڈیو گیم کے خلاف فتویٰ

چین کی کنگ فو ماسٹر دادی

ماہجونگ چین کا سب سے مقبول کھیل ہے، خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں میں۔

اس کھیل میں پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن عام طور پر لوگ تھوڑی رقم سے جوا کھیلتے ہیں۔ ماہجونگ کے کھیل میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک سے 15 ڈالر تک کی شرط لگا لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’لوگ کسی بھی چیز سے جوا لگا لیتے ہیں‘

یوشان کی پولیس نے 20 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ علاقے میں ماہجونگ کے تمام پارلر 22 اکتوبر سے بند ہو جائیں گے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ جرائم، شور شرابے اور جوئے کے خلاف مہم کا حصہ ہے اور کا مقصد سماجی رویوں کا پاک کرنا ہے۔

چین میں جوئے پر پابندی ہے لیکن صوبے جیانگژی میں تفریح کے لیے کچھ کھیلوں میں ہار جیت پر چھوٹی شرط لگانے پر سزا نہیں دی جاتی۔ قانون کے مطابق 28ڈالر سے زیادہ بڑی رقم کی شرط لگانے پر سزا دی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشل میڈیا پر ماہجونگ پر پابندی کے خلاف شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ میرے دادا دادی ہر روز تفریح کے لیے ماہجونگ کھیلتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے لکھا کہ حکومت نے غیر قانونی جوئے کو روکنے کے لیے ایسا حل تلاش کیا ہے جس میں انہیں محنت نہ کرنی پڑے۔

ایک صارف نے لکھا کہ مسئلہ ماہجونگ نہیں ہے جوا تو کسی بھی چیز سے کھیلا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن سوشل میڈیا کے ایک صارف نے شکر بھی ادا کیا۔ اس نے لکھا کہ ’بالآخر، ماہجونگ کی وجہ سے میری کئی بار نیند خراب ہو چکی ہے۔‘

ماہجونگ کے کھیل میں کافی شور ہوتا ہے۔ اس کے مہرے کافی وزنی ہوتے ہیں اور ان کو بورڈ پر ہلانے سے شور مچ سکتا ہے۔ تاہم ان کی خوشی بہت کم وقتی ثابت ہوئی کیونکہ پولیس نے ایک ہی روز بعد وضاحت کر دی کہ ان کی پابندی صرف قانونی پارلر کے خللف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماہجونگ ہے کیا؟

ماہجونگ کے کھیل میں 144 مہرے استعمال ہوتے ہیں جن پر چینی علامتیں کندہ ہوتی ہیں۔ یہ 19ویں صدی کے آخر میں شروع ہوا اور 20 ویں صدی میں مقبول ہوا۔ یہ کھیل رمی سے ملتا جلتا ہے۔

یہ کھیل مغرب میں بھی جانا جاتا ہے جہاں پاپ کلچر میں کئی بار اس کی جھلک دیکھنے میں آئی ہے۔ کامیڈی فلم ’کریزی رچ ایشینز‘ میں بھی سا کھیل کو دکھایا گیا ہے۔ ایک اور پروگرام ’فریش آف دی بوٹ‘ کی ایک قسط ماہجونگ کے کھیل کے گرد گھومتی ہے۔

اسی بارے میں