برطانیہ داخل ہونے کی کوشش میں کتنی بار تارکینِ وطن ہلاک ہو جاتے ہیں؟

تارکینِ وطن تصویر کے کاپی رائٹ PA Media
Image caption اس سانحے سے قبل سنہ 2014 میں اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں پانچ افراد لاریوں یا کنٹینروں پر یا ان کے اندر مردہ پائے گئے تھے

برطانیہ کے علاقے ایسکس میں ایک ٹرالر پر موجود کنٹینر سے 39 افراد کی لاشیں ملیں جن کی شناخت چینی باشندوں کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کنٹینر بلغاریہ سے آ رہا تھا اور وہ سنیچر کے روز برطانیہ میں ہولی ہیڈ کے راستے داخل ہوا تھا۔

برطانیہ داخل ہونے کی کوشش میں کتنے تارکینِ وطن ہلاک ہوئے؟

اس سانحے سے قبل جب سنہ 2014 میں اعداد و شمار جمع کیے جانے لگے تب برطانیہ میں پانچ افراد لاریوں یا کنٹینروں پر یا ان کے اندر مردہ پائے گئے تھے۔

خیال یہی ہے کہ ان کی ہلاکت انسانی سمگلنگ کے دوران اپنی مطلوبہ منزل پر جاتے ہوئے یا جس وقت انھیں بند کیا گیا، تب واقع ہوئی۔

  • سنہ 2014: ٹیلبری ڈاکس، ایسیکس میں ایک افغان تارکِ وطن مردہ حالت میں پائے گئے۔ وہ ایک بحری جہاز کے کنٹینر میں تھے۔ ان کے علاوہ اس کنٹینر میں موجود 34 افغان زندہ بچ گئے تھے۔
  • سنہ 2015: برنسٹن، سٹافورڈشائر کے ایک گودام میں لکڑی کے کریٹ میں دو تارکینِ وطن مردہ حالت میں پائے گئے۔ یہ کریٹ اٹلی سے ایک کنٹینر کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔
  • سنہ 2016: بینبیری، آکسفورڈ شائر میں ایک 18 سالہ تارکِ وطن کو اس وقت کچل دیا گیا جب وہ لاری کے نیچے چمٹے ہوئے تھے۔
  • سنہ 2016: کینٹ میں ایک لاری کے پچھلے حصے سے ایک لاش ملی جو فرانس سے سفر کرتی ہوئی وہاں تک پہنچی تھی۔

سنہ 2014 سے پہلے اسی طرح کے اعداو شمار اکٹھا نہیں کیے گئے تھے، لیکن اس قسم کے سانحات نئے نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2018 کے دوران خفیہ راستوں سے برطانیہ میں داخل ہونے کے طریقوں میں اضافہ دیکھا گیا

سنہ 2000 میں ڈوور کی ایک لاری سے 58 چینی تارکین وطن کی لاشیں ملیں جن کی ہلاکت دم گھٹنے کے نتیجے میں واقع ہوئی۔ لاری کا ڈرائیور قتل کے الزام میں مجرم قرار پایا تھا اور اسے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سوٹ کیس میں چھپے تارکین وطن

تارکینِ وطن کے لیے ’بہترین‘ ملک میں زندگی کیسی ہے؟

برطانیہ: کنٹینر سے ملنے والی 39 لاشیں ’چینی باشندوں‘ کی ہیں

غیر قانونی طور پر لوگ برطانیہ کیسے پہنچتے ہیں؟

فرانس میں تارکین وطن کیمپوں کی بندش کے بعد سنہ 2016-17 کے درمیان برطانیہ میں داخل ہونے کی بہت کم کوششیں کی گئیں۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق منظم جرائم پیشہ گروہ سمندری راستوں کی حدود کو مزید ہم آہنگ بنا رہے ہیں۔

سنہ 2018 کے دوران خفیہ راستوں سے برطانیہ میں داخل ہونے کے طریقوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ جس میں لوگوں کو کنٹینروں اور سامان ٹھنڈا رکھنے والی بھاری گاڑیوں میں لے جانا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گاڑیوں کی تلاشی کے دوران سکینرز کا استعمال کیا جاتا ہے جو چھپی ہوئی مصنوعات اور انسانوں کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں

سکیورٹی کی صورتحال کیا ہے؟

برطانیہ، فرانس اور بیلجیئم کے درمیان گاڑیوں کو کشتیوں پر لادنے سے قبل کراس چینل کے مخصوص راستوں پر امیگریشن چیک کرنے کا معاہدہ موجود ہے۔

گاڑیوں کی تلاشی کے دوران سکینرز کا استعمال شامل ہے جو چھپی ہوئی مصنوعات اور انسانوں کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔

گاڑیوں کو کشتیوں پر لادنے سے قبل ہی یہ تلاشی لے لی جاتی ہے اور اسی کے نتیجے میں لاریوں اور کنٹینروں میں چھپائے ہوئے افراد ملے ہیں۔

ایسکس میں 39 افراد کی لاشوں والا جو کنٹینر ملا وہ پرفلیٹ کی قریبی بندرگاہ کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ زیبرگ سے پہنچا تھا جو انسانوں کی اسمگلنگ کا ایک مقبول راستہ ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اسمگلر برطانیہ کی 'کم مصروف' بندرگاہوں کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں پورفلیٹ، ہل اور ٹلبری شامل ہیں۔

برطانیہ کے بارڈر انسپکٹریٹ کی 2016 کی ایک رپورٹ میں مشرقی برطانیہ کے عملے اور وسائل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں گاڑیوں کے سکینر بھی شامل ہیں۔

کتنے افراد گرفتار ہوئے؟

جن طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے تارکینِ وطن لائے جاتے ہیں، انسانوں کی اسمگلنگ کے اصل پیمانے کا تعین کرنا مشکل ہے۔

پولیس غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کے اعداد و شمار مرتب کرتی ہے لیکن انھیں باقاعدگی سے شائع نہیں کیا جاتا۔

بی بی سی نیوز کی ایک تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ 2013 سے اپریل 2016 کے درمیان برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر 27860 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اور اسی دوران گرفتاریوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی عرصے میں غیر قانونی داخلے میں سہولت کاری کرنے والے 2482 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔

یورپ میں کتنی اموات ہوئیں؟

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مائیگریشن نے مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد سنہ 2014 میں ایسی اموات کے اعداد و شمار اکھٹے کرنے کا آغاز کیا تھا۔

سنہ 2015 میں، آسٹریا میں ایک لاری کے پچھلے حصے میں 71 افراد کی لاشیں ملیں جن کا دم گھٹ گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google

دوسرے واقعات میں تارکینِ وطن کی سمگلنگ کرنے والی گاڑیوں کو سنگین حادثات میں ملوث پایا گیا۔ جیسا کہ سنہ 2016 کے منی بس حادثے میں پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق سنہ 2014 کے اوائل سے اب تک 491 افراد یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

کار اور ٹرین حادثات، ہلاکتوں کی سب سے عام وجہ ہیں۔ چینل ٹنل کے داخلی راستوں یا اس کے آس پاس تقریباً 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار فلاحی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے اکھٹے کیے گئے ہیں۔ اس تعداد میں تارکینِ وطن کے لیے بنائے گئے کیمپوں یا حراستی مراکز میں ہونے والی اموات شامل نہیں ہیں۔

اور نہ ہی ان میں بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے 18500 افراد شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں