عراق میں ملک گیر پرتشدد مظاہروں کی تازہ لہر میں کم از کم 40 افراد ہلاک

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کی تازہ لہر کے دوران پرتشدد واقعات میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت بغداد میں ہلاک ہونے والے دو افراد سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل کا نشانہ بنے۔ ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی نصف تعداد ملیشیا گروپوں اور حکومت کے دفاتر پر حملہ کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔

احتجاجی مظاہرین مزید ملازمتوں، بہتر عوامی خدمات اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً دو ہزار افراد زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں بھی اسی طرح کے مظاہروں کو سکیورٹی فورسز نے نہایت بے دردی سے ختم کروایا تھا۔ جس میں لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

عراقی عوام آخر اتنے مشتعل کیوں ہیں؟

عراق: ہلاکتیں 100 سے زیادہ، گرین زون بند کر دیا گیا

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، بغداد میں کرفیو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک سرکاری رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حکام نے بدامنی کو دور کرنے میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا۔ تازہ ترین مظاہروں سے قبل عراق کے سرکردہ مذہبی رہنماوں اور اقوام متحدہ نے مظاہروں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک روز قبل عراق کے وزیر اعظم عادل عبد المہدی، جنھوں نے ایک سال قبل اقتدار سنبھالا تھا، نے مظاہرین کو متنبہ کیا تھا کہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کابینہ میں ردوبدل اور اصلاحات کے پیکیج کا وعدہ کیا ہے لیکن بہت سے مظاہرین نے اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

جمعہ کی صبح سیکڑوں مظاہرین بغداد کے التحریر سکوائر پر جمع ہوئے تھے۔ جب کچھ لوگوں نے گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں سرکاری عمارتیں قائم ہیں تو سکیورٹی فورسز نے انھیں پیچھے ہٹانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خبر رساں ادارے روئٹرز کو پولیس اور طبی ذرائع نے بتایا کہ بغداد میں آنسو گیس کے شیل کی زد میں آکر دو مظاہرین ہلاک ہوگیے تھے۔

سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عراق کے جنوبی شہر دیوانیہ میں نیم فوجی دستے کے ہیڈ کوارٹر کو آگ لگاتے ہوئے بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

عراقی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کے 68 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔

رواں ماہ ہونے والے مظاہروں سے حکومت کے نمٹنے نے پورے عراق میں بدامنی کو ہوا دی ہے۔ جس کے بعد سیاسی رہنماؤں کو استعفی دینے کے مطالبوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک احتجاج کرنے والے شخص کا کہنا تھا کہ 'ہم بھوکے نہیں ہیں، ہم وقار چاہتے ہیں۔' ایک اور نے کہا کہ عراق کے سیاست دانوں نے 'تمام وسائل پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔'

عراق کے جنوبی شہروں میں بھی بدامنی اور مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا ہے۔ صوبہ دھی قر میں 3000 کے قریب مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت کو توڑ دیا ہے۔ جبکہ صوبہ میسن میں شیعہ ملیشیا گروپ کے دفاتر کی حفاظت کرنے والے گارڈز کی فائرنگ سے کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔

جبکہ مظاہرین نے صوبہ متھانہ میں شیعہ سیاسی جماعت کے دفاتر کو نذر آتش کیا۔ عراق کے کئی جنوبی صوبوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مظاہروں کا پس منظر کیا ہے؟

عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاج اور مظاہروں کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا جس میں حصہ لینے والے زیادہ تر افراد نوجوان اور بیروزگار تھے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست گولہ بارود استعمال کرنے کے بعد بدامنی بڑھ گئی اور اس احتجاج کا سلسلہ دوسرے شہروں اور قصبوں میں پھیل گیا تھا۔

ایک سرکاری کمیٹی جس کو ان مظاہروں میں ہونے والے تشدد کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا نے کہا کہ یکم اکتوبر سے چھ اکتوبر کے درمیان ہونے والے مظاہروں میں 149 عام شہری اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 'افسران اور کمانڈروں نے مظاہروں کے دوران اپنی افواج کا کنٹرول کھو دیا' اور اس سے 'انتشار پھیل گیا۔'

اسی بارے میں