جاب انٹرویو: کچھ ملازمتوں کے لیے انٹرویو اتنے عجیب کیوں ہوتے ہیں؟

انٹرویو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملازمت پر کسی مناسب شخص کی تقرری کسی بھی ادارے کے لیے بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن مصنفہ اور 'آسک اے مینیجر' کالم کے ذریعے روزگار کے متعلق مشورے دینے والی ایلیسن گرین کہتی ہے کہ زیادہ تر مالکان ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران زیادہ چھان بین اور محنت نہیں کرتے۔

ملازمت پر رکھنے سے پہلے انٹرویو کی اہمیت واضح ہے کیونکہ اچھا اور مضبوط ملازم معمولی اور اوسط درجے کے ملازم سے کہیں زیادہ بہتر نتائج لاتا ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ملازمت پر رکھنے والے انٹرویو کے دوران بہتر ملازم کے انتخاب کے لیے بہت کوشش کرتے ہوں گے۔

آپ کو یہ بھی امید ہوگی کہ وہ امیدواروں کی جانچ کے لیے بہت محنت کرتے ہوں گے اور اس کی خاطر حقیقی اعدادو شمار کا استعمال کرتے ہوئے امیدوار کی لیاقت کو جانچنے کے لیے مناسب سوالات تیار کرتے ہوں گے۔

لیکن یہ آپ کی خوش فہمی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملازمت کی امیدوار کو تصویر سے شرمندہ کیوں کیا گیا؟

نوکری 'ایڈم' کو ملے گی یا 'محمد' کو؟

زیادہ تر کمپنیاں یا ادارے انٹرویو لینے والوں کو کوئی تربیت نہیں دیتے ہیں اور کس کام کے لیے کس طرح کا ملازم چاہیے یہ ان کی فراست پر چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے بعض بہت بُرے انٹرویوز سامنے آتے ہیں۔

بعض انٹرویو لینے والے منیجر ملازمت کے لیے کیے جانے والے انٹرویو کو سماجی تقریب سمجھتے ہیں اور امیدوار کے ہنر اور تجربوں کے ساتھ کسی مخصوص کام کے لیے ان کی صلاحیت کو جانچنے کے بجائے انٹرویو کو ایک دوسرے کے 'تعارف کا سیشن' سمجھتے ہوئے میٹھی میٹھی باتوں میں گزار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALISON GREEN
Image caption ایلیسن گرین کا کہنا ہے کہ مالکان کو اس کے متعلق سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے

بعض اوقات امیدوار یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انٹرویو میل جول بڑھانے کا اچھا ذریعے تھا لیکن انھیں بعد میں احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے کام کے بارے میں اور اس کے متعلق ان کے رویے کے بارے میں تو بات ہی نہیں کی۔ اور ایسے میں تعجب کی بات نہیں کہ منیجر کسی کام کے لیے ایسے امیدوار کو منتخب کر لیتے ہیں جو انھیں پسند آتے ہیں اور اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ کام کو کون بہترین ڈھنگ سے کرسکتا ہے۔

بعضے انٹرویو کرنے والے انتہائی احمقانہ سوال کرتے ہیں۔ جیسے کہ 'اگر آپ جانور ہوتے تو آپ کون سا جانور ہونا پسند کرتے؟' یا 'اگر ہم آپ کا فرج کھولیں تو اس میں ہمیں ابھی کیا ملے گا؟'

بعض اوقات بعض لوگوں کو یہ سوالات ہوشیاری والے لگ سکتے ہیں لیکن ان کا کام سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور اس سے امیدوار پریشان ہو سکتے ہیں اور چونکہ وہ پریشان ہیں اس لیے اس کا جو 'صحیح' جواب ہے وہ نہیں جانتے ہیں۔

ایک انٹرویو دینے والے نے بتایا کہ ایک بار ان کا انٹرویو لینے والے نے ان کے ہینڈ بیگ میں دیکھنے کی بات کہی۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے یہ پتہ چلے گا کہ وہ کس قدر منظم ہیں۔

بعض انٹرویو لینے والے کو واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ ایسی باتیں پوچھیں جس سے امیدوار کے اندر حرکت پیدا ہو لیکن وہ اسے ٹھیک طور سے نہیں کر پاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عجیب و غریب انٹرویو کے طریقہ کار مناسب امیدوار کے انتخاب میں مددگار ثابت نہیں ہوتے

جاب کی تلاش والے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں ایک ملازمت کے لیے گئے تھے اور ان کا انٹرویو ایک بھیڑ والی سینڈوچ شاپ میں کیا گیا تھا۔ انٹرویو کے دوران ان کے انٹرویو لینے والے خود کو خودسر اور بدماش بچوں کی طرح پیش کرنے کا ڈھونگ کرنے لگے تھے۔ انھوں نے ریستوراں میں دوڑنا بھاگنا اور ایک دوسرے پر چیزیں پھینکنا شروع کر دیا جبکہ ان سے انجان دوسرے معصوم گاہک اپنا لنچ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

یہ بات درست ہے کہ ان ہولناک انٹرویوز کے طریقوں سے امیدواروں کو جانچنے کا جنتا موقع ملنا چاہیے نہیں ملتا ہے اور کمپنی کا کام نہیں بنتا ہے۔ انٹرویو لینے والوں کو جاننا چاہیے کہ یہ دو طرفہ گلی ہے۔ مضبوط امیدوار ان کو جانچ رہے ہوں گے اور ان پر اپنا فیصلہ صادر کر دیں گے جو کہ ایسی صورتحال میں اچھا نہیں ہے۔

کمپنیوں کو ملازمت پر رکھنے کے لیے سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ انٹرویو لینے والوں کو اس بات کی تربیت دی جانی چاہیے کہ کسی خاص کام کے لیے کس طرح کے ہنر، تجربے اور صلاحیت کی ضرورت ہے اور ان کی اس سمت میں مدد کی جانی چاہیے کہ اس کے لیے انٹرویو کو کس طرح تیار کرنا ہے نہ کہ انھیں ان کی اپنی فراست پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ جیسے چاہیں انٹرویو لیں اور ان پر محنت نہ کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امیدواروں کی طرف سے اگر کہا جائے تو وہ خود کو ہولناک انٹرویو لینے والے کے رحم و کرم پر محسوس کرنے لگتے ہیں اور بہت حد تک ایسا ہوتا ہے۔ لیکن انٹرویو دینے والے امیدوار اگر یہ دیکھیں کہ انٹرویو مختلف سمت میں جا رہا ہے تو وہ اسے پٹری پر لانے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ سے ایک بے تکا سوال پوچھا جائے کہ کس اناج سے آپ اپنی شناخت کرتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ 'یہ دلچسپ سوال ہے لیکن آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟'

اگر آپ کسی ایسے انٹرویو لینے والے میں الجھ جائيں جو آپ کے کام اور آپ اس کے لیے کیوں مناسب ہیں کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ 'کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ میرے پیشہ ورانہ پس منظر کے تعلق سے بات کریں؟'

آپ ان سے براہ راست یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ مجھے کام کے بارے میں مزید بتائیں اور آپ ایک نئے ملازم میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن بالآخر اس کا درست کرنا ملازمت پر رکھنے والے پر منحصر ہے اور اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ انھیں ملازمت پر رکھنے کے لیے واقعتا تربیت دی جائے اور یہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو عنقا ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں