امریکہ: ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات پر قرارداد منظور کر لی

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایوان نمائندگان میں اس قرارداد کے حق میں 232 جبکہ مخالفت میں 196 ووٹ پڑے

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کو باضابطہ طور پر آگے بڑھانے کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔

اس قرارداد میں وہ تفصیلات واضح کی گئی ہیں جن کے تحت مواخذے کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ کوئی باضابطہ ووٹنگ نہیں تھی جس کے ذریعے ایسی کوئی رائے لی جائے کہ آیا صدر ٹرمپ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے، تاہم اس قرارداد کی منظوری نے مواخذے کی تحقیقات کی راہ ہموار کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وائٹ ہاؤس کا انکار، ایوان نمائندگان کیا کر سکتا ہے؟

وائٹ ہاؤس کا ٹرمپ مواخذہ تحقیقات میں تعاون سے انکار

صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات شروع

یہ صدر کے مواخذے کے عمل کی ابتدا کرنے کی جانب ایوانِ نمائندگان، جس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے، کا پہلا قدم ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس قرارداد کی منظوری کی مذمت کی ہے۔

ایوان نمائندگان میں اس قرارداد کے حق میں 232 جبکہ مخالفت میں 196 ووٹ پڑے۔ دو ڈیموکریٹس نے بھی اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس اعلان سے قبل طاقتور ترین ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی ریپبلیکنز کی جانب سے اس نوعیت کی باضابطہ ووٹنگ کے مطالبے کی تردید کرتی رہی ہیں

ایوان نمائندگان ان دعوؤں کی تحقیقات میں مصروف ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کے لیے یوکرین کی حکومت پر دباؤ استعمال کیا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی الزام تراشی قرار دیا ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ہونے والی تحقیقات پر رواں ہفتے پہلی باضابطہ ووٹنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے کہا یہ ووٹنگ 'صدر اور ان کے وکیل کے لیے آئندہ ہونے والے عمل کے حقوق کا تعین کرے گی۔'

صدر اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ پورے ایوان کی طرف سے ووٹ نہ ملنے پر تحقیقات غیر قانونی ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نینسی پلوسی

اس اعلان سے قبل طاقتور ترین ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی ریپبلیکنز کی جانب سے اس نوعیت کی باضابطہ ووٹنگ کے مطالبے کی تردید کرتی رہی ہیں۔

تاہم گذشتہ پیر کے روز ڈیموکریٹ رہنماؤں کو لکھے گئے ایک خط میں انھوں نے نشاندہی کی کہ امریکی آئین کے تحت اس طرح کے اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے 'ہر طرح کا شک و شبہ ختم ہو جائے گا' کہ آیا وائٹ ہاؤس دستاویزات دینے سے انکار کر سکتا ہے یا گواہوں کو گواہی دینے سے روک سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے باقاعدہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس حوالے سے ضروری دستاویزات دینے سے انکار کیا تھا۔

نینسی پلوسی کا کہنا تھا ایوان نمائندگان میں پیش ہونے والی قرارداد سے 'شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اس معاملے میں آگے بڑھنے کا واضح راستہ متعین ہو سکے گا۔'

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری نے اس پر اپنا درِعمل دیتے ہوئے کہا ہے ووٹنگ کے منصوبے نے صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کی تصدیق کر دی ہے کہ 'ڈیموکریٹس غیر مجاز مواخذے کی کارروائی کر رہے ہیں۔'

پریس سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نینسی پلوسی کی پارٹی 'صدر کو مناسب قانونی حق دینے سے انکار کر رہی ہے اور ان کی خفیہ اور بند دروازوں کے پیچھے کارروائی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔'

گذشتہ ہفتے چند ریپبلیکن رہنماؤں نے اس حوالے سے ہونے والی کارروائی میں یہ کہتے ہوئے خلل ڈالا کہ بند کمروں میں ہونے والی تحقیقات میں شفافیت کا فقدان ہے۔

مواخذے کے حقائق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق صدور بل کلنٹن اور اینڈریو جانسن کو مواخذے کی تحاریک کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم نا ہی ان میں سے کوئی مجرم ثابت ہوا اور نہ ہی انھیں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا

مواخذہ دو مرحلوں میں مکمل ہونے والے سیاسی عمل کی پہلی سٹیج ہے جس کے ذریعہ کانگریس صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔

کسی امریکی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل اس لیے ہے کہ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہیے۔

اگر ایوان نمائندگان مواخذے کے آرٹیکل پاس کرنے کے لیے ووٹ دیتے ہیں تو سینیٹ اس مواخذے کی کارروائی پر سماعت کرنے پر مجبور ہو گی۔

سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں صدر کو قصوروار ثابت کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اس معاملے میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ صدر ٹرمپ کی پارٹی اس ایوان میں اکثریت میں ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں صرف دو امریکی صدور، بل کلنٹن اور اینڈریو جانسن، کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم نا ہی ان میں سے کوئی مجرم ثابت ہوا اور نہ ہی انھیں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔

صدر رچرڈ نیکسن مواخذے سے قبل ہی مستعفی ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں