سٹیون پی کوہن: ’دی آئیڈیا آف پاکستان‘ کے مصنف انتقال کر گئے

کوہن تصویر کے کاپی رائٹ Brookings Institution

جنوبی ایشیا کے سکیورٹی امور کے ماہر اور معروف امریکی پروفیسر، ڈاکٹر سٹیون کوہن اتوار 27 اکتوبر کو 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ امریکہ کے بروکنگز انسٹیٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر کوہن گذشتہ 50 برس سے پاکستان اور انڈیا کے دفاعی امور کے محقق تھے اور ماضی میں امریکی صدر ریگن کی انتظامیہ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔

سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک ایٹ البانی سے منسلک جوڑا پروفیسر کرسٹوفر کلئیری اور پروفیسر نیلوفر صدیقی ڈاکٹر کوہن کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ وقت بھی گزارا ہے۔ ڈاکٹر کوہن کے انتقال کے موقع پر انھوں نے بی بی سی کے لیے یہ مضمون تحریر کیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سٹیون فلپ کوہن کی موت کی اطلاع سامنے آنے کے بعد دنیا بھر سے ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ لیکن وہ افراد جنھوں نے پروفیسر کوہن کے ساتھ قیمتی لمحات گزارے ہیں، وہ یقیناً اس بات سے حیران نہیں ہوں گے۔

پروفیسر سٹیون کوہن کا نام نہ صرف ان کی جنوبی ایشیا پر کی گئی سکالرشپ کی وجہ سے تاریخ میں زندہ رہے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ وہ تمام طلبہ ہیں جنھوں نے پروفیسر کوہن کو اپنا استاد کہا اور ان سے رہنمائی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں پاکستانی قبائلیوں کے چرچے

’امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد روک دی‘

امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر سٹیون کوہن نے اپنی زندگی میں متعدد کتابیں اور مضامین تحریر کیے لیکن ان میں سے تین کتابیں جو انھوں نے پاکستان کے بارے میں لکھیں خاص طور پر اہم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google Books

پاکستان میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ ڈاکٹر کوہن کی معرکتہ الآرا کتاب، ’دی آئیڈیا آف پاکستان‘ سے آغاز کرے۔

یہ کتاب گواہی دیتی ہے کہ ڈاکٹر کوہن کو کس حد تک میں پاکستانی تاریخ، پاکستانی سیاست اور پاکستانی فوج کی سمجھ تھی۔ لیکن اس کتاب سے یہ بھی عیاں تھا کہ ان معلومات کی روشنی میں وہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید بھی نہیں تھے۔

سنہ 1984 میں لکھی گئی ان کی کتاب ’دی پاکستان آرمی‘ کے بارے میں خاص بات یہ تھی کہ اس کے لیے انھوں نے پاکستان کے اُس وقت کے سربراہ، فوجی آمر جنرل ضیا الحق سے براہ راست بات چیت کی تھی۔ جنھوں نے ڈاکٹر کوہن کو پاکستان فوج تک بھرپور رسائی فراہم کی۔

اس کے بعد ان کی تیسری اہم کتاب سنہ 2007 میں لکھی گئی ’فور کرائسز اینڈ پیس پراسیس‘ تھی جو انھوں نے انڈیا کے محقق پی آر چری اور پاکستانی محقق پرویز اقبال چیمہ کے ساتھ تحریر کی تھی۔

اس کتاب میں انھوں نے جنوبی ایشیا میں سنہ 1987 سے شروع ہونے والے جوہری تنازع پر روشنی ڈالی تھی اور اس کا تجزیہ کیا تھا۔

پروفیسر کوہن انڈیا اور پاکستان، دونوں میں مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ Brookings Institution

جنوبی ایشیا پر تحقیق کرنے والے کسی بھی محقق کے لیے یہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا میں یکساں طور پر مقبول ہو اور اسے دونوں ممالک کا اعتماد بھی حاصل ہو۔

لیکن متنازع موضوعات پر تحقیق کرنے اور کتابیں لکھنے کے باوجود ڈاکٹر سٹیفن کوہن ان چیدہ چیدہ افراد میں شامل ہیں جن کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ انھیں دونوں ممالک میں بھرپور طور پر سراہا گیا۔

اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ان کی وفات کے بعد دیکھنے میں آیا جب مشترکہ طور پر پاکستانی، انڈین اور امریکی محققین نے ان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈاکٹر کوہن کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کے لیے اپنی اس ساکھ کو برقرار رکھنا کتنا دشوار تھا۔

انھوں نے سنہ 2016 میں لکھا کہ ’کسی بھی موضوع یا علاقے کے بارے میں مہارت حاصل کرنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے، مگر اس کے باوجود ہمیشہ اس بات کا خطرہ لاحق رہتا ہے کہ آپ اُس ملک سے محبت کرنے لگیں جس کے بارے میں آپ نے سب سے پہلے پڑھنا شروع کیا اور یہ جانبدارانہ رویہ دوسرے ممالک اور دوسری ثقافتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘

جنوبی ایشیائی سکالرز کی کمیونٹی کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے تاسف کا اظہار کیا اور کہا کہ ’وہ جنوبی ایشیائی ممالک کی طرح قبیلوں میں بٹ گئے ہیں اور اس وجہ سے اب بہت کم ایسے محقق رہ گئے ہیں پاکستان اور انڈیا کے بارے میں تحقیق کرتے ہوں یا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں۔‘

ڈاکٹر سٹیون کوہن سے ملاقات کب ہوئی؟

ڈاکٹر کوہن سے ہماری ملاقات ان کے کیرئیر کے قدرے آخری حصے میں ہوئی جب ہم اپنے کیرئیر کا آغاز کر رہے تھے۔ اس وقت وہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بروکنگز انسٹٹیوٹ سے منسلک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل ڈاکٹر کوہن نے سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کے دور صدارت میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں کام کیا تھا اور پھر نوے کی دہائی میں یونیورسٹی آف الے نوائے میں جنوبی ایشیا پر تحقیق کرنے کا ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔

ڈاکٹر کوہن طلبہ اور محققین سے ملاقات کرنے کے معاملے میں ہمیشہ سے سخی رہے تھے اور اس موضوع پر کام کرنے والے سکالرز کی ہمیشہ مدد کرنے میں پیش پیش رہتے اور ان کی راہ میں حائل مشکلات حل کرنے کے لیے انھیں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرتے۔

’اتنے وسیع تجربے اور اپنی بڑی عمر کے باوجود ڈاکٹر کوہن نے ہمیشہ ہماری تحقیق میں دلچسپی کا اظہار کیا اور مسلسل ہمارا حوصلہ بڑھایا۔‘

’واشنگٹن ڈی سی آمد پر انھوں نے ہمیشہ ہمیں اپنے اپارٹمنٹ میں چائے پر مدعو کیا۔ ان ملاقاتوں میں ان کے پاس کوئی نہ کوئی ایسا قصہ ضرور ہوتا جو ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو کو جلا بخشتا۔‘

ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ ہمیں کوئی کتاب تھماتے، یا اپنے کسی پرانے مضمون کی کاپی دے دیتے جو ہماری تحقیق میں مدد فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی، اور تو اور، ایک موقع پر تو انھوں نے ہمیں اپنی کتابوں سے بھرا ایک ڈبہ دے دیا تھا۔

درس و تدریس اور تحقیق کے شعبے میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جائے کہ انھوں نے واقعتاً ادارے قائم کیے ہوں لیکن ڈاکٹر کوہن ان نادر افراد میں شامل ہیں جن پر یہ بات پوری طرح لاگو ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کوہن کے علم سے مستفید ہونے والے متعدد طلبہ اور محققین اب خود معروف سکالرز بن چکے ہیں اور ان کے خاندان کے بعد یہ شاید ان کے شاندار کیرئیر کی سب سے اہم نشانی ہے۔

اسی بارے میں