امریکی صدر ٹرمپ کے ابوبکر البغدادی اور سابق صدر اوباما کے اسامہ کے خلاف آپریشن میں کیا فرق ہے

اوبامہ اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں ہے۔

لیکن یہ صدر ٹرمپ کے کام کرنے کے جارحانہ انداز کے خطرات اور امریکہ میں جاری شدید مخالفت کی واضح مثال بھی ہے۔

اس کا آغاز اتوار کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان سے ہوا تھا۔ انھوں نے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ البغدادی ’کتے جیسی موت‘ مرا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح انھوں نے یہ سارا منظر کسی فلم کی طرح دیکھا۔

البغدادی کے خاتمے کی مہم اور اس کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طریقہ سابق امریکی صدر براک اوباما سے بالکل مختلف تھا جس میں انھوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی موت کی اطلاع دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرز عمل پر بہت حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ ’جدید دور کا صدر راج ہے‘ اور یہ کہ ان کی لاپرواہ زبان اس پیکج کا ایک حصہ ہے۔

انھوں نے صحافیوں کے سوالات پر یورپی اتحادیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قیدیوں کو قید رکھنے میں زیادہ تعاون نہ کرنے پر انھیں ’شدید مایوسی‘ ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ البغدادی کی موت سنہ 2011 میں اسامہ بن لادن کے مارے جانے سے زیادہ اہم تھی۔ اسامہ بن لادن کو سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں مارا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسامہ بن لادن سے موازنہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گفتگو کے دوران بار بار اسامہ بن لادن کا ذکر کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ پر حملے سے قبل اسامہ بن لادن کے بارے میں اپنی کتاب میں متنبہ کیا تھا لیکن کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میری بات سنی گئی ہوتی تو آج بہت سی چیزیں مختلف ہوتیں۔‘

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسامہ بن لادن ایک طویل عرصے سے امریکہ کے نشانے پر تھے جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب ’دی امریکہ وی ڈزرو‘ میں اپنے دعوے کے مطابق کچھ نہیں لکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ریپبلکن پارٹی کو علم نہیں

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی روایت کے برخلاف ایوان زیریں کے سپیکر اور ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما نینسی پلوسی اور ایوان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف کو بھی اس مہم کے بارے میں نہیں بتایا۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم گذشتہ رات انھیں بتانے والے تھے لیکن پھر ہم نے اس کے خلاف فیصلہ کیا کیونکہ واشنگٹن میں اس سے پہلے بہت ساری چیزیں لیک ہوتی دیکھی گئيں تھیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے اس سلسلے میں کچھ ریپبلکن رکن پارلیمان جیسے سینیٹ میں انٹلیجنس چیف رچرڈ بر اور رکن پارلیمان لنڈسے گراہم کو آگاہ کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ترکی کے عہدیداروں کی بھی تعریف کی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ انھیں پہلے ہی اس مہم کا اشارہ دیا جا چکا تھا۔

حزب اختلاف کو یہ بات پسند نہیں آنی تھی سو نہ آئی۔ نینسی پلوسی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مہم کے متعلق ایوان میں بیان دیا جانا چاہیے۔ اس مہم کے بارے میں روس کو بتایا گیا لیکن اپوزیشن رہنماؤں کو نہیں۔ ہماری فوج اور اتحادی زیادہ مضبوط اتحادی، موثر اور اسٹریٹجک شراکت داری چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آپریشن کے بعد اس کمپاؤنڈ کی فضائی تصویر جہاں ابوبکر البغدادی موجود تھے

اگلے دن شکاگو جاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایڈم شیف کو بدعنوان اور معلومات افشا کرنے والا قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے ایڈم شیف کی لیک ہونے والی معلومات دیکھی ہیں۔ وہ ایک کرپٹ لیڈر ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکی ایوان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کے کیس کی تحقیقات قیادت کر رہے ہیں۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور حکومت میں حالات مختلف تھے۔ اسامہ بن لادن کے خلاف مہم سے قبل سابق صدر باراک اوباما نے دونوں اہم جماعتوں کے رہنماؤں کو اس کی معلومات دی تھی۔

اس وقت کچھ ریپبلکن قائدین ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی میں بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران وہ وائٹ ہاؤس سے رابطے میں تھے۔

واشنگٹن ایگزامنر میں لکھنے والے مصنف بیران یارک نے ٹویٹر پر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اسامہ اور البغدادی کے مارے جانے پر نینسی پلوسی کے رد عمل کے درمیان کس قسم کا فرق ہے۔

اس وقت نینسی پلوسی نے اوباما کو سیلوٹ کیا تھا۔ تاہم انھوں نے اب اپنے بیان میں صرف فوج اور انٹیلیجنس کے افسران کی تعریف کی تھی۔ صدر ٹرمپ بھی اوسامہ بن لادن کی موت کا سہرا اوباما کے سر باندھنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی فائدہ

فی الوقت یہ کہنا قدرے مشکل ہو گا کہ آیہ آنے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ کو البغدادی کی موت کا فائدہ ملے گا یا نہیں۔

سابق صدر اوباما کو بھی اسامہ بن لادن کی موت کا زیادہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے البغدادی کے نام پر بار بار زور دینے کے باوجود امریکی عوام میں یہ نام زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ بہر حال ٹرمپ کو یقینی طور پر شام سے امریکی فوجوں کے انخلا اور وہاں ہونے والے ترک حملے پر تنقید کا سامنا ہے۔

ایسی صورتحال میں اس مہم سے ری پبلکن پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ڈیموکریٹس میں مزید غم و غصہ پیدا کر سکتا ہے یعنی امریکہ دو گروپ میں تقسیم ہو سکتا ہے۔