عرب شاہی خاندانوں کی تلواریں کون بناتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Grant Macdonald

بی بی سی کےہفتہ وار پروگرام دی باس میں مختلف کاروباری شخصیات کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈالی جاتی ہے۔ اس ہفتے بی بی سی نے لندن کے سنار گرانٹ میکڈونلڈ سے بات کی۔

40 برس قبل جب گرانٹ میکڈونلڈ مشرق وسطیٰ کے ایک شاہی محل سے نکل رہے تھے تو ان کے مطابق خوشی سے ’ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹِک رہے تھے‘۔

گرانٹ نے شاہی خاندان سے ایک ایسا آرڈر حاصل کر لیا تھا جس سے ان کے کاروبار بلکہ زندگی کا نقشہ ہی بدل گیا۔ چار دہائیوں بعد جب وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اُس وقت کے احساسات ناقابلِ بیان ہیں۔ آپ کو بتا رہا ہوں کہ اپنی کامیابی کا احساس شاندار تھا‘۔

گرانٹ میکڈونلڈ ایک سنار ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنا کاروبار شروع کیا۔ ستر کے عشرے میں جب برطانیہ کی معیشت میں مندی کا رجحان تھا، گرانٹ میکڈونلڈ نے اپنے کاروبار کو زندہ رکھنے کے لیے بیرونی ممالک بالخصوص مشرقی وسطیٰ کی طرف دیکھنا شروع کیا۔

انھیں 1979 میں مشرق وسطیٰ کے ایک ملک کے شاہی گھرانے سے کچھ آرڈر ملنا شروع ہو چکے تھے۔ وہ اس ملک کا نام صیغہ راز میں رکھنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Grant Macdonald

چند سال بعد جب وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے اسی ملک کے دورے پر تھے تو انھیں کہا گیا کہ کیا وہ اس تحفے کو دیکھنا چاہیں گے جو شاہی خاندان اپنے مہمانوں کو دیتے ہیں تو انھوں نے یہ دعوت فوراً قبول کر لی۔ یہ تحفہ سونے اور ہیروں سے جڑی ہوئی تلوار تھی۔

گرانٹ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے وہ تلوار دیکھی تو انھوں نے رسمی طور پر اس کی تعریف کی لیکن وہ اس کے معیار سے زیادہ متاثر نہیں تھے۔ گرانٹ میکڈونلڈ نے موقع پا کر یہ پیشکش کی کہ وہ شاید اس سے بہتر تلوار بنا سکتے ہیں۔

جب وہ واپس ہوٹل میں آئے تو انھوں نے ایک کاغذ پر ڈیزائن بنایا جس کو دیکھ کر انھیں شاہی خاندان سے ایک تلوار بنانے کا آرڈر مل گیا۔ لیکن مسئلہ اس تلوار پر آنے والی لاگت کا تھا جس سے ان کا پورا کاروبار داؤ پر لگ گیا۔

گرانٹ میکڈونلڈ کا عزم پختہ تھا۔ گرانٹ نے یہ جوا کھیلا اور اس آرڈر کو تیار کرنے کے لیے اسے جتنا سونا، ہیرے اور قوت چاہیے تھی انھوں نے خرید لی اور اپنی ٹیم کو اس تلوار کو بنانے پر لگا دیا۔

مشرق وسطیٰ کے شاہی خاندان کو 50 ہزار پاؤنڈ (موجودہ ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ) کی یہ تلوار پسند آئی اور انھیں ایسی مزید پندرہ تلواروں کے آرڈر مل گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے گاریگروں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلی تلوار تیار کی اور اس کے نتیجے میں جو نیا آرڈر ملا اس نے ان کی قسمت بدل دی اور ان کی کمپنی کسی اور سطح پر پہنچ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Grant Macdonald

آج 'گرانٹ میکڈونلڈ لندن' کمپنی کی سالانہ آمدن کئی ملین پاؤنڈ ہے لیکن انھیں آج بھی زیادہ بزنس مشرق وسطیٰ سے ملتا ہے۔ گرانٹ میکڈونلڈ پچھلے تیس برسوں میں ہر مہینے مشرق وسطیٰ کا ایک چکر لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مشرق وسطیٰ ہمارے کاروبار کے لیے بہت اچھا ہے‘۔

اس کاروبار کو پرنس آف ویلز کا وارنٹ حاصل ہے جو ماضی میں ایسی نادر اشیا خرید چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GRANT MACDONALD

گرانٹ میکڈونلڈ کون ہیں؟

گرانٹ میکڈونلڈ شمالی لندن میں پیدا ہوئے اور یہیں پرورش پائی۔ ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر تھے۔ وہ کہتے ہیں ان کو سونے اور دوسری قیمتی چیزوں کے کام میں دلچسپی اس وقت ہوئی جب وہ ابھی چودہ برس کے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد کے ایک مریض نے انھیں چاندی کے چمچ تیار کرنے کا طریقہ سکھایا۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد کے ہسپتال کے تہہ خانے میں ایک ورکشاپ بنا لی تھی۔ وہ کہتے ہیں ’جب والد چاہتے تھے کہ میں اپنی ورکشاپ میں ہتھوڑے چلانا بند کروں تو وہ فرش پر پاؤں پٹکتے جو میرے لیے ایک اشارہ تھا کہ اب ہتھوڑے چلانا بند کرو‘۔

پانچ برس تک لندن سکول آف آرٹ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد گرانٹ میکڈونلڈ نے ایک جیولری کی دوکان میں کام شروع کیا جہاں وہ انگوٹھیاں مرمت کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد ان کو پرائیوٹ آرڈر ملنے شروع ہو گئے اور پھر انھوں نے ساٹھ کی دہائی میں سلورفارم نامی کمپنی قائم کی۔ انھوں نے 1971 میں اپنی کمپنی کا نام ’گرانٹ میکڈونلڈ لندن‘ میں تبدیل کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GRANT MACDONALD
Image caption گرانٹ میکڈونلڈ کو زرگری کا شوق نوجوانی میں ہی ہو گیا تھا

میکڈونلڈ کی کمپنی میں آج اٹھارہ ملازم ہیں جو دو سو ڈالر کی ’کف لِنک‘ سے لے کر ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کے آرڈرز لیتی ہے۔ ان کو کئی ایسے آرڈر بھی ملتے ہیں جن کو مکمل کرنے میں مہینے لگ جاتے ہیں۔

گرانٹ میکڈونلڈ کی کمپنی اب تھری ڈی پرنٹنگ اور ڈیزائن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی تو ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کی مہارت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

'آج ہم بہت زیادہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن انسانوں کے بغیر یہ ورکشاپ مشینوں کے ایک ڈھیر کے علاوہ کچھ نہیں۔'

گولڈ سمتھز سینٹر ایک خیراتی ادارہ ہے جہاں زرگروں اور جیولروں کو تربیت دی جاتی ہے۔ گولڈ سمتھز سینٹر کے ڈائریکٹر پیٹر ٹیلر کہتے ہیں کہ گرانٹ کا شمار موجودہ نسل کے بہتر زرگروں اور ڈیزائنروں میں ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ گرانٹ اپنی صنعت میں ایک جانا پہچانا نام ہے اور ان کا کاروبار ملک کے اندر اور باہر کامیابی سے چل رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GRANT MACDONALD
Image caption گرانٹ میکڈانلڈ اپنا کاروبار اب اپنے بیٹے جارج کے حوالے کر رہے ہیں

گرانٹ میکڈونلڈ کی عمر 70 برس ہو چکی ہے اور ان کا کاروبار اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اب وہ اپنے کاروبار کی باگ دوڑ اپنے بیٹے جارج کے حوالے کر رہے ہیں جو گذشتہ سولہ برسوں سے کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔ جارج ’گرانٹ میکڈونلڈ لندن‘ میں کام شروع کرنے سے پہلے گرافک ڈیزائر اور فوٹو گرافر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

گرانٹ میکڈونلڈ کہتے ہیں کہ بیٹے کے کاروبار میں شریک ہونے سے انھیں بہت اطمینان ہوا ہے کہ اب ان کا کاروبار جاری رہے گا۔ وہ کہتے ہیں اتنی محنت سے کاروبار کو شروع کرنے اور ساری عمر اس کو پروان چڑھانے میں گزارنے کے بعد اسے بیچنے کا خیال ہی بہت تکلیف دہ ہے۔

گرانٹ میکڈونلڈ نے ابھی مکمل طور پر کاروبار کو نہیں چھوڑا ہے اور وہ ہفتے میں تین دن کمپنی کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے گھر میں بھی ایک ورکشاپ بنا رکھی ہے جہاں وہ اس ہنر کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اپنے پوتے پوتیوں کو چاندی کی چمچ بنانے کی مہارت سکھانا گرانٹ کے ان منصوبوں میں سے ایک ہے جس پر وہ کام کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں