'چین میں شیشے کے خطرناک پل بند‘

Aerial view photo shows tourists visiting on the glass-bottom bridge at Zhangjiajie Grand Canyon on August 20, 2016

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ژیانگ جیاجی کا شیشے کا پل دنیا کا سب سے بلند اور لمبا پل تصور کیا جاتا ہے۔

چین کے ایک صوبے میں حکام نے شیشے کے پلوں اور شیشے سے بنی سیر گاہوں کو حفاظتی خدشات کے پیش نظر بند کر دیا ہے۔

چین کے سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کے مطابق مارچ 2018 میں صوبہ ہیبائی میں حکام نے 32 ایسی سیرگاہوں کو بند کر دیا ہے جہاں شیشے کے پل اور فٹ پاتھ ہیں۔

چین میں شیشےکے پلوں کا رواج 2016 میں ژیانگ جیجی میں دنیا کے بلند ترین پل کے افتتاح کے بعد فروغ پایا۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اندازے کے مطابق چین میں 2300 ہزار شیشے کے پل تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ شیشے سے بنے ہوئے فٹ پاتھوں اور دوسری گذرگاہوں کا کوئی شمار ہی نہیں ہے۔

پہاڑوں پر شیشے کے پل بنانے کا مقصد ایڈونچر کے شوقین مقامی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔

چین میں شیشے کے پلوں پر بعض حادثات بھی پیش آ چکے ہیں۔ رواں برس صوبے گوانگ ژی میں ایک سیاح اس وقت ہلاک ہو گیا جب بارش کی وجہ سے پل پر بہت پھسلن ہو گئی تھی اور سیاح پھسل کر سائیڈ ریلنگ سے ہوتا ہوا نیچے جا گرا۔ سیاح کی موت سر میں آنے والی چوٹوں سے آئی ۔ اس کے علاوہ چھ سیاحوں کے زخمی ہونے کی بعد اطلاعات ہیں۔.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہیبائی کا ہونگی آگو پل جسے بند کر دیا گیا ہے

شیشے کے پل صرف صوبے ہیبائی میں عوام کے لیے بند نہیں کئے گئے بلکہ اور کئی صوبوں میں حکام نے حفاطتی اقدامات کے طور پر شیشے کے پلوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

رواں برس چین کی مرکزی حکومت نے مقامی حکومتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ شیشے کے پلوں کی سیاحوں کو خطرات کے حوالے مکمل جائزہ لیں۔

چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اس حکومتی اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ پچھلے کچھ برسوں میں اتنے زیادہ شیشے کے پل بنانے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

،ویڈیو کیپشن

Thousands wobble over the world's longest glass bridge in Hebei province, China

ویبو پر ایک شخص نے لکھا کہ یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اتنے زیادہ شیشے کے پل کیوں بنائے گئے ہیں۔ یہ پیسے کا ضیاع ہے۔

شیشے کے پلوں پر کئی حادثے پیش آ چکے ہیں۔ گوانگ ژی میں شیشے کے پل سے پھسل کر سیاح کی موت کا اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ صوبہ ہینائی میں بھی ایک سیاح شیشے کے پل سے پھسل کر ہلاک ہو چکا ہے۔ اسی طرح ژیانگ جیجی میں ایک سیاح شیشے کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے پتھر لگنے سے زخمی ہو چکا ہے۔

صوبہ ہینان میں 2015 میں سکائی واک کو اپنے افتتاح کے صرف دو ہفتوں بعد بند کرنا پڑا تھا کیونکہ اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔