سعودی عرب میں خواتین کا پہلا ریسلنگ میچ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ واضح نہیں کہ ان خواتین کے ملبوسات ریاستی قوانین کے مطابق ہوں گے یا پھر یہ روایتی ریسلنگ لباس میں میچ کھیلیں گی

سعودی عرب کی تاریخ میں آج، جمعرات کو خواتین کی ریسلنگ کا پہلا میچ ہونے جارہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ، ملک میں انٹرٹینمنٹ پر لگی پابندیوں میں نرمی برتنے کی طرف ایک نیا قدم ہے۔

ریاض میں ہونے والا یہ میچ ڈبلیو ڈبلیو ای کی خواتین سپر سٹارز ناٹالیا نیڈہارٹ اور لیسی ایوینز کے درمیان ہوگا۔

ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان خواتین کے ملبوسات ریاستی قوانین کے مطابق ہوں گے یا پھر یہ خواتین اپنے روایتی ریسلنگ لباس میں میچ کھیلیں گی۔ یاد رہے کے سعودی عرب میں خواتین کے کپڑوں کے حوالے سے سخت قوائد و ضوابظ ہیں۔

سعودی عرب کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے بدترین ملکوں میں سے ایک ہونے کا درجہ حاصل ہے اور اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے سعودی عرب میں اصلاحات گزشتہ دو سال سے جاری ہیں۔

سعودی خواتین کے لیے ڈرائیونگ کی تربیت

تین سعودی خواتین کارکنوں کی عارضی رہائی

’جب سے دوڑنا شروع کیا ہے، زندگی بدل گئی ہے‘

جن کے تحت پہلے ہی خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے اور ان جگہوں پر ملازت کی اجازت دینا ہے جو عام طور پر مردوں کے لیے مختص سمجھی جاتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WWE

اس کے علاوہ اس میں ستمبر 2017 میں سعودی خواتین کے گاڑی چلانے کی پابندی ختم کرنا (جسے جون 2018 میں نافذ کیا گیا) اور سفری پابندیوں کو ختم کرنے کے حوالے سے تازہ ترین اقدامات شامل ہیں

گذشتہ اصلاحات کے باوجود سنہ 2018 میں ورلڈ اکنامک فارم کے مطابق سعودی عرب خواتین کے رہنے کے لیے بد ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی 'گلوبل جینڈر گیپ' نامی فہرست میں ملک کا شمار 10 بد ترین ممالک میں ہوا تھا۔

سعودی خواتین کو اب بھی روز مرہ زندگی میں پابندیوں کا سامنا ہے۔ اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی بہت سی سعودی عورتوں کو جیل میں ڈالنے اور ان کو اذیت دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

آج ہونے والا یہ تاریخی میچ، سعودی عرب میں ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول کے نام سے ہونے والی سیریز کا حصہ ہے۔ اس میچ کا انعقاد ریاض کے کنگ فہد انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ہوگا جس میں اڑسٹھ ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔

اسی بارے میں