انڈونیشیا: ’ناجائز تعلقات‘ کے خلاف قوانین تیار کرنے والے ادارے سے منسلک عالم کو ’ناجائز تعلقات‘ پر کوڑوں کی سزا

انڈونیشیا، آچے، شرعی قوانین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آچے علما کونسل (ایم پی یو) کے رکن مخلص بن محمد کو اپنے ہی ادارے کے بنائے گئے قوانین کے تحت 28 کوڑے مارے گئے ہیں

زنا کے خلاف سخت قوانین بنانے میں حکومت کی مدد کرنے والے ادارے سے منسلک ایک انڈونیشیئن شخص نے اس وقت خود کو مصیبت میں پایا جب انھیں ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ تعلقات رکھنے پر عوام کے سامنے کوڑے مارے گئے۔

آچے علما کونسل (ایم پی یو) کے رکن مخلص بن محمد کو اپنے ہی ادارے کے بنائے گئے قوانین کے تحت 28 کوڑے مارے گئے ہیں۔

ان کے جن خاتون کے ساتھ ان کے تعلقات تھے، انھیں 23 مرتبہ کوڑے مارے گئے۔

مخلص کا تعلق انڈونیشیا کے انتہائی قدامت پسند خطے آچے سے ہے۔ یہ انڈونیشیا کی واحد جگہ ہے جہاں اب بھی اسلامی شرعی قوانین سختی سے نافذ ہیں۔

آچے میں ہم جنس پرستی اور جوا کھیلنے کی سزا ہجوم کے سامنے کوڑے مارنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برونائی:سنگساری اور ہاتھ کاٹنے کی سزا والے شرعی قوانین نافذ

افغانستان ہم جنس پرستوں کی خفیہ زندگی

نکاحِ متعہ:’کتنی بار شادی ہوئی صحیح تعداد یاد نہیں‘

مخلص کے علاقے ضلع بیسار، آچے کے ڈپٹی میئر حسینی وہاب نے بی بی سی نیوز انڈونیشیا کو بتایا کہ ’یہ خدا کا قانون ہے۔ جس کسی پر بھی جرم ثابت ہوجائے، اسے کوڑے کھانے ہوں گے، چاہے وہ علما کونسل کا رکن ہی کیوں نہ ہو۔‘

سزا پر عملدرآمد جمعرات کو ہوا۔ حسینی نے مزید بتایا کہ مخلص کو علما کونسل سے خارج کر دیا جائے گا۔

46 سالہ مخلص اسلامی عالم بھی ہیں۔ وہ آچے میں 2005 میں نافذ ہونے والے شرعی قوانین کے تحت عوامی طور پر سزا پانے والے پہلے مذہبی رہنما ہیں۔

آچے علما کونسل مقامی حکومت اور قانون ساز ادارے کو آچے میں شرعی قوانین کی تیاری اور ان کے نفاذ میں مدد دیتی ہے۔

آچے کو ایک دہائی سے کچھ عرصہ پہلے سخت تر اسلامی قوانین کے نفاذ کا اختیار دے دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 20 مارچ 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ایک انڈونیشیئن خاتون کو کوڑے مارے جا رہے ہیں جبکہ لوگوں کا ہجوم دیکھ رہا ہے

سنہ 2014 میں ہم جنس پرستی کے خلاف قوانین منظور کیے گئے تھے اور ان پر اگلے سال عملدرآمد شروع ہوا۔

شادی کے بغیر جنسی تعلقات، جوا، اور شراب کی تیاری، ترسیل اور اس کا استعمال، سب شرعی قوانین کے تحت جرم ہیں۔

سنہ 2014 میں آچے میں دو مردوں کو سیکس کرتے ہوئے پکڑے جانے پر 83، 83 مرتبہ کوڑے مارے گئے تھے۔

یہ کوڑے مقامی طور پر پائی جانے والی رتن نامی لچکدار لکڑی سے بنائے جاتے ہیں۔ کوڑے مارنے والے افراد کی آنکھوں کو چھوڑ کر پورا جسم ڈھکا ہوا ہوتا ہے تاکہ انھیں شناخت نہ کیا جا سکے۔

کوڑے عوام کے سامنے ایک بلند جگہ پر مارے جاتے ہیں مگر بچوں کے دیکھنے پر پابندی ہوتی ہے۔

آچے میں شرعی قوانین کا اطلاق مسلمانوں اور غیر مسلموں سب پر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں