شام تنازع: درد ناک موبائل فوٹیج میں منظر عام پر آنے والے’جنگی جرائم‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

موبائل فون سے بنائی جانے والی ایک فوٹیج کے منظر عام پر آنے کے بعد شمال مشرقی شام میں کرد ملیشیا سے لڑنے والی ترکی کی حمایت یافتہ فورسز پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کو اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے جبکہ ترکی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس ویڈئو میں ایک داڑھی والا شخص چلاتا ہے ’اللہ ہو اکبر۔ ایک شخص اس منظر کو اپنے سمارٹ فون میں ریکارڈ کرتا ہے اور کہتا ہے: ’ہم فیلک الماجد بٹالین کے مجاہدین ہیں۔‘ پس منظر میں کردش جنگجوؤں کی لاشیں ہیں۔

اس سے کچھ اور پیچھے چند مردوں کا ایک گروہ خون میں لت پت ایک عورت کے جسم پر پاؤں رکھتا ہے۔ ان میں سے ایک کہتا ہے یہ ایک ’بازاری عورت‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کرد آزادی چھوڑ دیں یا پھر بھوکے رہیں: اردوغان

ترکی بمقابلہ شامی کرد: ماضی، حال اور مستقبل

عراق اور کرد علاقوں میں 1500 بچے قید

یہ لرزہ خیز فوٹیج ممکنہ طور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے تیار کی ہے۔ تاہم ویڈیو میں موجود مرد خود کو دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند نہیں بتاتے بلکہ شامی نیشنل آرمی کے نام سے جائے جانے والے باغی اتحاد کے جنگجو ہیں جن کو نیٹو کے ممبر ترکی کی طرف سے تربیت، اسلحہ اور معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کو 21 اکتوبر کو شمالی شام میں فلمایا گیا ہے۔ جنگجوؤں کے پیروں تلے موجود عورت عمارہ ریناس ہیں۔ وہ کرد جنگجوؤں کی ایک آل ویمن یونٹ وائی پی جے کی ممبر ہیں۔ اس فورس نے شام میں دولت اسلامیہ کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عمارہ شام میں کرد فورسز کے خلاف حالیہ ترک حملوں میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ YPG MEDIA CENTER

9 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے امریکی فوجی نکالنے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد ترک فوج اور ترکی کے حامی شامی باغیوں نے کردوں کی زیرِ قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) پر حملہ کیا۔

ایس ڈی ایف کے جنگجو امریکہ کے زیرِ قیادت اتحاد کے انتہائی موثر اور قابل اعتماد اتحادی رہے ہیں اور دولت اسلامیہ کی شکست کا باعث بنے ہیں۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے سلسلے میں انٹیلجنس معلومات بھی فراہم کی تھیں۔

ویڈیو دھمکیاں

ترکی کے حملوں کے کچھ دن بعد سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ترکی کے حامی باغیوں کی جانب سے فلمائی گئی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔

ایک ویڈیو میں ایک نامعلوم جنگجو عربی میں چیختا ہے: ’ہم آپ کافروں اور مرتدوں کا سر قلم کرنے آئے ہیں۔‘

ایک اور ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس ایک نقاب پوش باغی ایک دہشت زدہ خاتون کو اٹھائے ہوئے ہے جس کو دوسرے باغیوں نے گھیر رکھا ہے۔ ایک اس عورت کی عکس بندی کر رہا ہے، ایک چیختا ہے ’سور‘، ایک اور کہتا ہے اسے اسکا سر قلم کرنے کے لیے لے چلو۔‘

پکڑی جانے والی خاتون سسیک کوبن ہیں جو کہ کرد جنگجوؤں کی آل ویمن یونٹ وائی پی جے کی ممبر ہیں۔

بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کے متعلق سوشل میڈیا پر سخت غم و غصہ پایا گیا تاہم اس کے کچھ دن بعد ہی ترکی کے سرکاری ٹی وی نے سسیک کوبن کی ایک ترک ہسپتال میں علاج کی فوٹیج جاری کی۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے کچھ اقدامات جنگی جرائم کا مرتکب ہو سکتے ہیں۔

شام میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی جیمز جیفری نے کانگریس کو بتایا ’بہت سے لوگوں نے اس لیے ہجرت کی کیونکہ وہ ترکی کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی افواج کے بارے میں بہت خدشات رکھتے تھے۔‘

’ہم کہتے ہیں کہ ترکی کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی فورسز سے، جو ترک کمان کے تحت تھیں، کم از کم ایک موقع پر جنگی جرائم سرزد ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کراسنگ پوائنٹ

ترکی پر ایک طویل عرصے سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ شام میں جہادیوں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کر رہا ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں سابق امریکی صدر کے خصوصی ایلچی بریٹ میککرگ نے گزشتہ ماہ سی این این کو بتایا: ’میں نے دولت اسلامیہ کی مہم چلائی، چالیس ہزار غیر ملکی جنگجو، دنیا بھر کے 110 ممالک سے جہادی، سب اس جنگ میں لڑنے کے لیے شام آئے اور وہ سب ترکی کے راستے آئے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ترکی کو دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی سرحد بند کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی۔

’لیکن انھوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے لیکن جیسے ہی کردوں نے سرحد کے کچھ حصے لیے تو فوراً دیوار بنا کر اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔‘

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے باغیوں کے مبینہ جنگی جرائم کے لیے ترکی سے وضاحت طلب کی ہے۔

ترکی کے صدر ابراھیم کالین نے کہا ہے کہ ترکی کسی بھی مشتبہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرے گا۔

لیکن بہت سے کرد کارکنوں کو ترک حکومت یا فوج پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔

سسیکس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے سینئر لیکچرار کامران متین کا کہنا ہے ’اس بات کا پختہ ثبوت موجود ہے کہ گذشتہ چار دہائیوں کے دوران ترک فوج اور سکیورٹی فورسز نے پی کے کے سے اپنے تنازعے میں منظم طریقے سے جنگی جرائم کا ارتکاب اور انسانی حقوق کی پامالی کی ہے۔

واضح رہے کہ کردتسان ورکرز پارٹی پی کے کے دہائیوں تک ترکی میں کردوں کی خود مختاری کے لیے لڑتی رہی ہے۔

’آنکھیں بند رکھنا‘

پچھلی ایک دہائی میں ترک فوج اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر فلمائی جانے والی متعدد پریشان کن تصاویر اور ویڈیوز میں کردوں کو قتل کرنے کی ویڈیوز سامنے آتی رہی ہیں۔

کچھ برس قبل سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ترک فوجیوں نے مرے ہوئے پی کے کے عسکریت پسندوں کے سر قلم کیے۔ ایک اور ویڈیو میں پی کے کے کی دو جنگجو خواتین کے ہاتھ ان کی کمروں پر بندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھی ہیں، ظاہری طور پر ترک فوجی نظر آنے والے افراد آٹو میٹک مشین بندوقوں سے انھیں انتہائی قریب سے نشانہ بناتے ہیں اور چوٹی سے لات مار دیتے ہیں۔

سنہ 2015 میں بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ترک سکیورٹی فورسز کو 24 سالہ اداکار ہاکی لقمان کی لاش کو ترکی کے علاقے سرنک کی گلیوں میں گلے میں رسی ڈال کر کھینچتے دیکھا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ویڈیو کا کچھ حصہ پولیس کی گاڑی کے اندر فلمایا گیا ہے۔

کرد انسانی حقوق کے کارکنوں نے امریکہ اور یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ترکی کی مذمت کرنے یا مؤثر کاروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کامران متین کہتے ہیں ’یورپی یونین نے ترکی کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رکھیں ہیں، جس کی وجہ ترکی کی نیٹو کی رکنیت اور معاشی تعلقات اور یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی میں بسنے والے لاکھوں ترکوں کی جانب سے آنے والا ردِ عمل ہے۔‘

اسی بارے میں