عراق میں جاری مظاہرے: کربلا میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک، متعدد زخمی

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے شہر کربلا میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایران کے قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہجوم پر گولیاں چلا دیں جس سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں اداے روئٹرز نے بتایا کہ اتوار کی شب کربلا میں مظاہرین نے ٹائر جلائے اور ایران کے خلاف نعرے بازی کی کہ وہ کربلا سے نکل جائے۔

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ وہ ایرانی قونصل کے سامنے مظاہرہ کرنے آئے تھے اور ان کا ایک مقصد وہاں سے ایرانی پرچم اتار کر عراقی پرچم لگانا تھا۔

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن نے بتایا کہ اس واقعے میں تین افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دریں اثناء پیر کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہزاروں افراد نے ملک کے وزیر اعظم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے شہر کے مرکز میں احتجاج کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عراق میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تین پہیوں کی یہ سواری بڑی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم عادل عبدل مہدی نے کہا تھا کہ کئی روز سے جاری مظاہروں کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان اور لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روئٹرز کے مطابق عراق میں دو سال کے نسبتاً پر امن دور کے بعد یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے بغداد سے شروع ہو کر ملک کے شیعہ آبادی والے جنوبی حصے تک پھیل چکے ہیں اور اب تک ان میں کم سے کم 250 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے وزیر اعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاستدانوں کا ان کے متبادل اور اصلاحات پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں۔

۔

اسی بارے میں