گذشتہ پانچ برسوں میں تیسرا الیکشن، برطانیہ کے عام انتخابات کی ایک سادہ سی گائیڈ

برطانیہ کی تمام اہم سیاسی جماعتیں 12 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔ یہاں ہر پانچ سال بعد الیکشن ہوتے ہیں جن میں وہ حکومت چنی جاتی ہے جس نے اگلے پانچ برسوں میں ملک کا کاروبار چلانا ہے۔

لیکن 2015 سے لے کر اب تک یہ تیسرا الیکشن ہے۔

الیکشن کس لیے ہوتا ہے؟

کل 650 ارکانِ پارلیمان کے طور پر منتخب کیے جاتے ہیں جو قانون اور پالیسیوں کے متعلق فیصلے کرتے ہیں۔

ووٹرز یہ ارکانِ پارلیمان منتخب کرتے ہیں تاکہ وہ دارالعوام میں اپنے انتخابی حلقے کے مفادات کو پیش کر سکیں۔ ان میں سے زیادہ تر سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن کچھ آزاد اراکین بھی ہوتے ہیں۔ اس وقت پارلیمان میں 650 اراکینِ پارلیمان ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

بریگزٹ: اب کیا ہو سکتا ہے؟

بریگزٹ: ٹریزا مے کا معاہدہ 149 ووٹوں سے مسترد

بورس جانسن: نئی بریگزٹ ڈیل پر اتفاق ہو گیا ہے

یہ ممبر پارلیمان دارالعوام کے لیے منتخب ہوتے ہیں جو لندن میں پارلیمان کے دو چیمبرز میں سے ایک ہے۔ حکومت بھی لندن سے ہی چلائی جاتی ہے۔

اب الیکشن کیوں ہو رہا ہے؟

2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں برطانیہ نے بریگزٹ کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن تقریباً ساڑھے تین سال گزر جانے کے بعد ابھی تک بریگزٹ نہیں ہوئی ہے۔ اس ریفرنڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں 52 فیصد جبکہ اس میں رہنے کے حق میں 48 فیصد لوگوں نے ووٹ دیے تھے۔

اس کے لیے نکلنے کی تاریخ 29 مارچ 2019 طے پائی تھی اور اس کے بعد 31 اکتوبر لیکن اب یہ 31 جنوری رکھی گئی ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اگر اتفاقِ رائے ہو تو بریگزٹ پہلے ہی ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ کے دارالعوام کا ایک منظر جہاں تمام سیاسی فیصلے کیے جاتے ہیں

سیاستدان تقسیم ہیں

اس بارے میں سیاستدان بالکل تین دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ کچھ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ہو سکے برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے جبکہ کچھ سمجھتے ہیں کہ ایک اور ریفرنڈم ہونا چاہیے اور کچھ کا خیال ہے کہ بریگزٹ کو مکمل طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم بورس جانسن کے پاس اتنے ممبر پارلیمان نہیں کہ نئے قوانین آسانی سے پاس کرا سکیں۔

ان کو امید ہے کہ جلد انتخابات ہونے کی وجہ سے ان کے کنزرویٹیو ممبر پارلیمان کی تعداد بڑھ سکتی ہے جس سے ان کو بریگزٹ پلان حاصل کرنے میں آسانی ہو گی۔

کنزرویٹیو جماعت برطانیہ کی سب سے پرانی جماعت ہے جو 18 ویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ یہ اپنے آپ کو مرکز کے دائیں جانب کی جماعت کہتی ہے۔ کنزرویٹیو فری مارکیٹ، کم ٹیکسوں اور انفرادی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

عام انتخابات تو 2022 میں ہونے تھے لیکن اب پارلیمان میں جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عام انتخابات کی رات ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے

ووٹنگ کس طرح ہوتی ہے؟

عام انتخابات میں برطانیہ کے 46 ملین (چار کروڑ ساٹھ لاکھ) افراد ووٹ ڈالتے ہیں جس سے وہ اپنے اپنے حلقے میں ممبر پارلیمان منتخب کرتے ہیں۔ برطانیہ میں کل 650 انتخابی حلقے ہیں۔

18 برس یا اس سے بڑی عمر کا کوئی بھی فرد ووٹ ڈال سکتا ہے، بس اس کا برطانوی شہری ہونا، ووٹ کے لیے رجسٹر ہونا یا دولتِ مشترکہ یا ریپبلک آف آئرلینڈ کا اہل شہری ہونا شرط ہے۔

نوجوانوں کی نسبت زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ ووٹ ڈالتے ہیں۔ 2017 کے عام انتخابات میں 20 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں کے ووٹ 59 فیصد جبکہ 60 سے 69 کی عمر کے لوگوں کے ووٹ 77 فیصد تھے۔

ووٹنگ مقامی پولنگ سٹیشنوں میں ہوتی ہے جو کہ زیادہ تر گرجا گھروں اور سکولوں میں بنائے جاتے ہیں۔ ووٹرز بیلٹ پیپرز پر امیدوار کے نام کے ساتھ نشان لگاتے ہیں اور اسے ایک بند بیلٹ باکس میں ڈال دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتخابی نتائج کا اعلان کر کے جیتنے والے امیدوار کے متعلق بتایا جا رہا ہے

جیتنے والے کس طرح منتخب کیے جاتے ہیں؟

اپنے حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو دارالعوام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

جیتنے کے لیے انھیں بس اپنے مدِمقابل امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ یا جیت کے یے انھیں اپنے حلقے میں آدھے سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

اکثر ممبر پارلیمان کا تعلق کسی جماعت سے ہوتا ہے لیکن کچھ آزاد امیدوار کے طور پر بھی کھڑے ہوتے ہیں۔

کوئی بھی جماعت جس کے پاس دارالعوام میں 326 سے زیادہ ممبر پارلیمان ہوتے ہیں عموماً وہی جماعت حکومت بناتی ہے۔ برطانیہ کے ووٹنگ کے نظام کے مطابق وہ پارٹی بھی اقتدار حاصل کر سکتی ہے جس کے پاس قومی ووٹ کا حصہ 50 فیصد سے بھی کم ہے۔

برطانیہ ’فرسٹ پاس دا پوسٹ‘ ووٹنگ نظام استعمال کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی مقامی امیدوار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرے گا اور جس جماعت کے پاس سب سے زیادہ جیتنے والے امیدوار ہوں گے وہی حکومت بنائے گی۔ سو مجموعی طور پر پورے ملک میں پارٹی کتنے ووٹ حاصل کرتی ہے اس کا انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

اگر کسی جماعت کے پاس بھی اکثریت نہ ہو تو وہ جماعت جو دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا پارٹنرشپ بناتی ہے کنٹرول حاصل کر سکتی ہے۔

وزیرِ اعظم کو عوام ووٹ کے ذریعے منتخب نہیں کرتے۔ انھیں جیتنے والی جماعت کے امیدوار منتخب کرتے ہیں اور ملکۂ برطانیہ ان کی تقرری کرتی ہیں، جن پر لازم ہے کہ وہ ممبر پارلیمان کے فیصلے کا احترام کریں۔

ملکۂ برطانیہ کا اختیار

ملکہ ریاستِ برطانیہ کی سربراہ ہیں، اگرچہ وہ حکومت کی سربراہ نہیں ہیں۔ الیزبتھ دوئم ملک کی سب سے لمبے عرصے تک رہنے والی فرمانروا ہیں۔ وہ 1952 میں تخت پر بیٹھی تھیں۔ وہ ریاستی ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں جیسا کہ پارلیمان کا باقاعدہ آغاز، ریممبرنس ڈے یا یومِ یادگار کی سالانہ پریڈ میں ملک کی نمائندگی اور غیر ملکی سرکاری دورے کرنا وغیرہ۔ وہ مسلح افواج اور چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2017 میں ہونے والے انتخابات میں کیا ہوا تھا؟

سنہ 1922 سے لے کر اب تک ہر الیکشن یا تو کنزرویٹیو یا لیبر پارٹی جیتتی رہی ہے۔

لیبر پارٹی کا قیام 1900 میں مزدوروں کی تحریک کے دوران ہوا تھا تاکہ پارلیمان میں ورکرز کی نمائندگی ہو سکے۔ یہ دولت اور مواقعوں کی تقسیم، ورکنگ کلاس کے زیادہ حقوق اور مضبوط ریاستی پبلک سروسز پر یقین رکھتی ہے۔

2017 میں بھی یہی دو بڑی جماعتیں تھیں لیکن دونوں میں سے کسی کے پاس بھی اتنے ممبر پارلیمان نہیں تھے کہ اکثریتی حکومت بنا سکیں۔ کنزرویٹیوز کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں تھیں اور انھوں نے دارالعوام میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے ساتھ پارٹنرشپ کی تھی۔

ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کا قیام 1971 میں شمالی آئرلینڈ کے تنازعہ کے دوران ہوا تھا۔ اس دور کو مشکلات کا دور کہا جاتا ہے۔ بطور یونینسٹس ڈی یو پی شمالی آئرلینڈ کے برطانیہ کا حصہ بننے کی حمایت کرتی ہے اور اسقاط حمل اور ایک ہی جنس کی شادیوں پر اپنی قدامت پسند سوچ کی وجہ سے مشہور ہے۔ 2017 کے الیکشن کے بعد ڈی یو پی کے ممبر پارلیمان نے دارالعوام کے ووٹ میں کنزرویٹیوز کی حمایت کر کے ان کو حکومت بنانے دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برطانیہ نے یورپی اتحاد سے نکلنے کے حق میں فیصلہ کیا تھا

الیکشن کے بعد کنزرویٹیوز اور لیبر دونوں کے ہی ممبر پارلیمان کم ہوئے ہیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹس کے بڑھے ہیں۔ لبرل ڈیموکریٹس کو عام طور پر لب ڈیمز کہا جاتا ہے اور اس جماعت کا قیام 1988 میں برطانیہ کے سب سے پرانے سیاسی اداروں لبرل پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے انضمام سے ہوا تھا۔ اس جماعت کی خواہش ہے کہ اسے برطانوی سیاست میں مرکزی حیثیت میں دیکھا جائے۔

پارلیمان کا دوسرا چیمبر دارالامراء ہے۔ یہ دارالعوام سے آزاد ہے لیکن قوانین بنانے میں دارالعوام کے ساتھ اس کا بھی کردار ہے اور یہ حکومت کے کام پر بھی نظر رکھتا ہے۔ اس کے ممبران کو لارڈ کا ٹائٹل دیا جاتا ہے اور یہ نہ تو منتخب ہوتے ہیں اور نہ کسی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا کسی جماعت سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔

اس کے ممبران کو ملکہ مقرر کرتی ہیں اور وہ ایسا وزیرِ اعظم کے مشورے سے کرتی ہیں۔

کون پارلیمان کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے؟

کوئی بھی برطانوی شہری یا برطانیہ میں دولتِ مشترکہ اور ریپبلک آف آئرلینڈ کا اہل شہری جو پولنگ کے دن 18 سال کا ہو الیکشن کا امیدوار بن سکتا ہے۔

اس کو 500 پاؤنڈ جمع کروانے ہوتے ہیں اور اگر اس کو اپنے حلقے میں پانچ فیصد سے بھی کم ووٹ ملے تو اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔

امیدواروں کو کچھ شرائط پر پورا اترنا ہوتا ہے جیسا کہ قیدی، سرکاری ملازم، جج اور پولیس اور فوج کے ملازم الیکشن میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔

نتائج کا کب پتہ چلتا ہے؟

عام انتخاب کے دن ووٹنگ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک جاری رہتی ہے۔ نتائج تمام رات اور اگلے دن تک آتے رہتے ہیں۔

جب تمام نتائج آ جاتے ہیں تو جتنے والی جماعت کے لیڈر، اگر کوئی جماعت اکثریت سے جیتی ہے تو، بکنگھم پیلس حکومت بنانے کے لیے ملکہ کی اجازت لینے جاتے ہیں۔

جب انھیں اجازت مل جاتی ہے، جو کہ ایک رسم ہی ہے، تو وہ وزیرِ اعظم کے روایتی گھر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں آ جاتے ہیں۔ اکثر وہ گھر سے باہر کھڑے ہو کر خطاب کرتے ہیں جس میں وہ آنے والے برسوں میں اپنی پارٹی کے منصوبوں کے متعلق بتاتے ہیں۔

اسی بارے میں