کھانا پہنچانے والے ڈرائیور: ’ایک قتل یقینی ہو چکا تھا اور وہ قتل میرا ہی ہونا تھا‘

سونیا کِنگ تصویر کے کاپی رائٹ Matt Johnson, WSB-TV
Image caption ’وہاں ایک قتل اب یقینی ہو چکا تھا، اور وہ قتل میرا ہی ہونا تھا: سونیا کِنگ

آرڈر پر کھانا منگوانا (یا ٹیک اوے) جتنا آسان آج کل ہے پہلے کبھی نہیں تھا۔ کئی ممالک میں ایک نہیں اب درجنوں ایسی ایپس موجود ہیں جن پر آپ کسی بھی وقت کھانا آرڈر کریں، چند منٹ کے اندر ڈیلوری والا گرما گرم کھانا لیے آپ کے دروازے پر کھڑا ہوگا۔

لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آپ کو گلی میں ہر وقت کوئی ڈیلوری وین یا موٹر سائیکل فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بیچارے ڈیلوری والے ڈرائیوروں کی مار پٹائی کے واقعات بہت بڑھ گئے اور بعض اوقات تو ان لوگوں کو آپ تک کھانا پہنچانے کے لیے جان کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔

گذشتہ سال 5 مئی کو جب سونیا کِنگ نے ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں ’ڈور ڈیش‘ نامی ڈیلوری کمپنی کے کمپیوٹر پر لاگ اِن کیا تو وہ بڑی خوش تھیں۔ انھیں یقین تھا کہ چھٹیوں کے اِن دنوں میں وہ اچھے خاصے پیسے بنا لیں گی۔

لیکن اس دن ان کے حصے میں صرف ایک ہی آرڈر آیا، اور آرڈر بھی جس میں ان کی جان جا سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’کیا آپ خود کسی کا جھوٹا کھانا کھائیں گے؟‘

کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا: انڈیا میں زوردار بحث

ڈرون کے ذریعے پیزا ڈلیوری شروع

سونیا جیسے ہی رِک پینٹر نامی خریدار کے گھر کھانا دے کر مڑیں تو اُس نے پیچے سے سونیا پر حملہ کر دیا اور سونیا کے بالوں اور ان کے نقاب کی مدد سے سونیا کا گھلا گھونٹنے کی کوشش کی۔

چار بچوں کی ماں، 31 سالہ مسلمان سونیا رک پینٹر کے چنگل سے نکلنے میں اس وقت کامیاب ہوئیں جب دھینگا مشتی کے دوران ان کے ہاتھ میں اپنی گاڑی کی چابیاں آ گئیں۔ سونیا نے اُسی چابی سے پینٹر کے چہرے اور سر پر کئی وار کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایٹلانٹا میں چھٹیوں کا مطلب ہے کھانے کے زیادہ سے زیادہ آرڈر اور ڈرائیوروں کے لیے زیادہ کمائی

’میں اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی، لیکن اس نے میرے بال بہت مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھِے۔ میں نے اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں، لیکن وہ پھر بھی میرے بالوں کو نہیں چھوڑ رہا تھا۔‘

’وہاں ایک قتل اب یقینی ہو چکا تھا، اور وہ قتل میرا ہی ہونا تھا۔‘

’میں کسی پر وار نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ میرے سامنے میرے بچوں کی شکلیں آ رہی تھیں۔ میرے شوہر کی شکل میری ذہن میں گھوم رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں اس گھر سے نکل کر اپنے خاندان کے پاس کیسے پہنچوں گی۔‘

سونیا کو قید اور زدو کوب کرنے کے جرم میں 54 سالہ رِک پینٹر کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Matt Johnson, WSB-TV
Image caption ’اب میں لوگوں پر اعتبار نہیں کرتی اور بری ترین صورت حال کے لیے تیار رہتی ہوں'

اگرچہ سونیا کو اس حملے میں صرف خراشیں اور چھوٹے زخم آئے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ ابھی تک حملے کے نفسیاتی نتائج سے پیچھا نہیں چھڑا پائی ہیں۔

ان کے بقول ’اب میں بہت سے ان لوگوں سے بھی فاصلے پر رہتی ہوں جنھیں میں پیار کرتی ہوں۔ اب میں لوگوں پر اعتبار نہیں کرتی۔ اور میں ہر وقت بری ترین صورت حال کے لیے تیار رہتی ہوں۔‘

سونیا کا شمار دنیا کے مخلتف ممالک میں موجود ایسے ڈیلوری ڈرائیوروں کی ایک چھوٹی تعداد میں ہوتا ہے جنھیں اپنے کام کے دوران حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ تعداد اتنی کم بھی نہیں۔

یہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ پولیس کے پاس ابھی تک اس قسم کے واقعات کے اعداد وشمار موجود نہیں ہیں، اور ڈیلوری کمپنیاں بھی ایسا ریکارڈ شائع نہیں کرتیں۔

لیکن گھر یا دفاتر میں کھانا پہنچانے والے ڈرائیوروں پر حملوں کی خبریں آپ کو سڈنی سے لیکر نیویارک تک، دنیا بھر سے مل سکتی ہیں۔

مثلاً، لندن میں ڈیلوری ڈرائیوروں کو خریداروں سے خطرہ نہیں ہوتا، لیکن مجرموں کے گروہ ان سے گاڑی چھیننے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر اگر یہ افراد موٹرسائیکل یا چھوٹے سکوٹروں پر کھانا پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

کچھ ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ تشدد یا تشدد کی دھمکیاں روزانہ کی بات ہے۔

Image caption ’ڈاکوؤں کا ایک گروہ، تقریباً آٹھ دس لوگوں کا گروہ، اچانک اندھیرے سے نمودار ہوا‘

اُوبر اِیٹ سے منسلک ڈرائیور، ساجدالرحمان کہتے ہیں کہ ’سڑک پر جس شخص کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے وہ فوڈ ڈیلوری والا ڈرائیور ہوتا ہے۔‘

اس سال اگست میں مشرقی لندن میں ایک 31 سالہ ڈرائیور پر رات کو تقریباً نو بجے اس وقت حملہ ہوا جب وہ کام ختم کر کے گھر لوٹ رہے تھے۔

’ڈاکوؤں کا ایک گروہ، تقریباً آٹھ دس لوگوں کا گروہ، اچانک اندھیرے سے نمودار ہوا۔ ان میں سے ایک نے فلائینگ کِک مار کے مجھے موٹر سائیکل سے نیچے گرا دیا۔ پھر سب نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔‘

اس گروہ نے نہ صرف ڈرائیور کا سکوٹر اور موبائل فون چرا لیا بلکہ اس کا کاندھا اور پاؤں کی ہڈی بھی توڑ دی۔

لندن میں موٹر سائیکل اور چھوٹے سکوٹر والے جرائم اتنا بڑا مسئلہ بن گئے ہیں کہ شہر کی پولیس نے اس کے انسداد کے لیے خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ اعداد و شمار نہیں کہ ایسی وارداتوں میں کتنے ڈیلوری ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن رحمان اور ان کے ساتھی ڈرائیوروں کے پاس خاصے اعداد و شمار موجود ہیں۔

رحمان کہتے ہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کو واٹس ایپ پر خطرے سے خبردار کر دیتے ہیں اور کبھی سارے ڈرائیور مل کر حملہ آوروں کا پیچھا کر کے ان کا سامنا بھی کرتے ہیں۔

جب بی بی سی نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس سے پوچھا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال میں موٹر سائیکل والے جرائم کی تعداد نصف ہو کر نو ہزار رہ گئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر ایک گھنٹے میں تقریباً ایک واردات۔

ڈرائیور کہتے ہیں کہ کمپنیاں ان کی حفاظت اور مدد کے لیے مزید اقدامات کر سکتی ہیں۔

چونکہ رحمان اپنا کام کرتے ہیں اور کسی کمپنی کے باقاعدہ ملازم نہیں ہیں، اس لیے انھیں بیماری وغیرہ میں چھٹی بھی نہیں مل سکتی۔ حالانکہ رحمان کے بقول انھیں بتایا گیا تھا کہ اُوبر اِیٹ کسی ڈرائیور کے بیمار ہو جانے کی صورت میں بھی ایک ماہ کی نتخواہ دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اُوبر اِیٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے ڈرائیوروں کے تحفظ کے لیے مسلسل کوشاں ہے

’میرے خاندان کا تمام انحصار میری کمائی پر تھا۔ اب مجھے ان پر انحصار کرنا پڑ گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں یہ سارے اخراجات کہاں سے پورا کروں گا۔‘

رحمان کو اُوبر ایٹ کے سافٹ ویئر سے بھی شکایت ہے کیونکہ یہ سافٹ ویئر ڈرائیور کو اس وقت یہ نہیں بتاتا کہ اس نے کھانا کہاں پہنچانا ہے جب تک کہ وہ آرڈر پہنچانے کے لیے ہاں نہ کر دے گا۔ یوں ڈرائیور کے لیے ان علاقوں میں جانے سے انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے جہاں غنڈوں کے گروہ ہوتے ہیں۔

’ہمیں ایڈریس کا تب ہی پتہ چلتا ہے جب ہم کھانا اٹھا چکے ہوتے ہیں۔ تب اگر ہم وہاں جانے سے انکار کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے کیونکہ اگر ایسا کریں تو کمپنی ہمارا اکاؤنٹ معطل کر دیتی ہے۔

جب ہم نے اُوبر ایٹ سے اس حوالے سے بات کی تو کپمنی نے ہمارے سوالوں کے براہ راست جواب نہیں دیے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ’ کمپنی اپنے ان ڈرائیوروں کے تحفظ کی پوری کوشش کرتی ہے جو ہماری ایپ استعمال کرتے ہیں۔`

کمپنی کے بقول ان کی ایپ میں ڈرائیور اپنے ایسے پانچ دوستوں یا عزیزوں کے ایڈریس ڈال سکتے ہیں جن پر انھیں بھروسہ ہو اور ایمرجنسی کی صورت میں ڈرائیور بٹن دبا کر مدد کے لیے بلا سکتا ہے اور ڈرائیور اس وقت کہاں ہے، اسے ہم براہ راست جی پی ایس پر دیکھ سکتے ہیں۔

اگر کسی ڈرائیور پر حملہ ہوتا ہے تو ہو سکتا ہے یہ چیز خبروں میں آ جائے، لیکن ڈیلوری ڈرائیوروں کے لیے شاید سب سے بڑا خطرہ سڑک پر حادثے کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرائیور زیادہ کمائی کے لیے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ گاہکوں تک کھانا پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلووو کا ایک اور ڈرائیور اگست میں حادثے کا شکار ہوا

اس برس ارجنٹائن کے دارالحکومت، بیونس آئرس میں ایک جج نے شہر میں کھانا آرڈر کرنے والی ایپس پر پابندی لگا دی کیونکہ کچھ کمپنیاں مزدوروں سے متعلق قونین اور ٹریفک قوانین کے تقاضے پورے نہیں کر رہی تھیں۔

کمپنیوں نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

جج روبرٹو گلارڈو کے اس فیصلے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ایک پیزا ڈیلوری کرنے والے 63 سالہ شخص، ارنیسٹو فلوریڈیا کو ایک کار نے اس وقت ٹکر مار دی تھی جب وہ پیزا کے لیے شہر کی سب سے مشہور دکان ’گلوو‘ سے نکل کر ڈیلوری کے لیے جا رہے تھے۔

حادثے کے بعد ارنیسٹو نے کمپنی کو میسج بھیجا کہ وہ زحمی ہو گئے ہیں اور ان سے ہِلا نہیں جا رہا، لیکن اس پر کپمنی کی طرف سے جواب آیا کہ وہ کھانے کی تصویر بھیجیں تا کہ اس آرڈر کو منسوح کیا جا سکے۔

گلوو کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس معاملے کو بہت توجہ سے دیکھا ہے اور انھوں نے معافی بھی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت ہم سے غلطی ہو گئی، اور یہ پیغام دیکھ کر ارنیسٹو بہت پریشان ہو گئے ہوں گے۔‘

بعد میں کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس شخص کو ٹیم سے نکال دیا ہے جس نے ارنیسٹو کو پیغام بھیجا تھا، اور ارنیسٹو اب مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں اور اب بھی کمپنی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ادھر جارجیا میں سونیا کِنگ کا کہنا ہے کہ ’ڈور ڈیش‘ کو اپنے چار لاکھ ڈرائیوروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔

مثلاً کپمنی کو چاہیے کہ وہ اپنے گاہکوں کے پس منظر اور ان کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے ان پر حملہ کیا تھا (رِک پینٹر)، وہ اس سے پہلے بھی لوگوں پر حملہ کرنے کے جرم میں کئی مرتبہ جیل جا چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sonya King
Image caption 'ڈور ڈیش' کو اپنے چار لاکھ ڈرائیوروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں

’میں تقریباً مر چکی تھی‘

سونیا کو یہ شکایت بھی ہے کہ حملے کے بعد وہ اپنی کمپنی میں کسی سے بات نہیں کر سکیں، کیونکہ وہ صرف ای میل پر رابطہ کر سکتی تھیں، اور جب کمپنی نے پہلا رابطہ کیا اس وقت حملے کو تین دن گزر چکے تھے۔

اس کے جواب میں ڈور ڈیش کا کہنا تھا کہ جس طرح سونیا کے معاملے سے نمٹا گیا اس پر ہمیں ’دلی افسوس‘ ہے۔

’ہم اپنی برادری کے لوگوں کے تحفظ کو ایک نہایت سنجیدہ معاملہ سمجھتے ہیں اور اپنے لوگوں کے خلاف نامناسب رویے یا کسی قسم کے خوف وہراس کو برداشت نہیں کرتے۔‘

کپمنی کا مزید کہنا تھا کہ اب انھوں نے اپنے تمام امریکی ڈرائیوروں کے لیے دوران کار حادثے کی صورت میں انشورنس بھی کر لی ہے جس کے لیے ملازمین سے کوئی پیسے نہیں لیا جاتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں