ایران جوہری معاہدہ: تہران نے عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کے انسپکٹر کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران نے اقوام متحدہ کے عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے) کی ایک انسپکڑ کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔ خاتون انسپکٹر کو گذشتہ ہفتے جوہری مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم اے ای او آئی کا کہنا ہے کہ جب خاتون نے نطنز میں واقع یورینیم کی افزودگی کے مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سکریننگ کے دوران خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

اے ای او آئی کا مزید کہنا ہے کہ حکام کو خدشہ ہے کہ مذکورہ خاتون 'مشکوک مواد' لے کر جا رہی تھیں۔

دوسری جانب آئی اے ای اے کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

’امریکی دباؤ کو ہمسایوں میں دوریوں کا باعث نہ بننے دیں‘

امریکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا: ایران

یہ اعلان بدھ کو ایرانی شہر قم کے زیرِ زمین فردو جوہری پلانٹ میں نصب سینٹری فیوجز کو یورینیم ہیکسافلورائیڈ (یو ایف 6) گیس کی فراہمی چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق قم کے زیرِ زمین فردو جوہری پلانٹ میں نصب سینٹری فیوجز کو یورینیم ہیکسافلورائیڈ (یو ایف 6) گیس کی فراہمی بدھ کی صبح سے شروع کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایران کے صدر حسن روحانی نے اس اقدام کا اعلان منگل کو کیا تھا اور یہ ایران کی جانب سے سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کے سلسلے میں چوتھا قدم ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ عمل اقوام متحدہ کے عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں سرانجام دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ فرودو پلانٹ میں تمام جوہری مواد کی افزودگی کی معطلی ایران کی جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں ایک اہم رکاوٹ تھی جسے ایران نے بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے قبول کیا تھا۔

یہ ری ایکٹر تہران کے جنوب میں ایک پہاڑ تلے 90 میٹر زیرِ زمین بنایا گیا ہے تاکہ اسے فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس معاہدے میں ایران کو سنہ 2031 تک اس مقام پر یورینیم کی افزودگی سے روکا گیا تھا۔

امریکہ کی جانب سے گذشتہ سال مئی میں معاہدے سے دستبرداری اور اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران کو اپنے وعدوں کی مرحلہ وار معطلی کا سلسلہ شروع کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم (اے ای آئی او) کے ڈائریکٹر علی اکبر صالحی نے منگل کو کہا تھا کہ تہران نے فرودو میں یورینیم کو پانچ فیصد تک افزودہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن یہ عمل ’فوری طور پر نہیں‘ ہو گا تاہم ’مستحکم آئسوٹوپس‘ کی افزودگی بدھ سے شروع ہونے کی امید ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کو یہ بھی کہا تھا کہ ’پسِ پردہ‘ بات چیت جاری ہے اور انھیں امید ہے کہ اگلے دو مہینوں میں اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

واضح رہے کہ مئی سنہ 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے کی منسوخی کے بعد ایران اس معاملے کو یورپ کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہا ہے اور تہران نے آہستہ آہستہ رواں سال مئی سے جوہری معاہدے کی پاسداری چھوڑ دی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے حال ہی میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ تازہ ترین رول بیک امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی ’خلاف ورزیوں‘ کا ’علاج‘ ہے۔

ایران نے جوہری معاہدے میں اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ سنہ 2026 تک سب سے کم موثر سینٹری فیوجز لگائے گا جن کی تعداد 5060 سے زیادہ نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ ایران نے فرودو کے مقام پر کسی قسم کی افزودگی نہ کرنے کی بھی حامی بھری تھی اور وہاں موجود 1044 سینٹری فیوجز نے یورینیم ہیکسافلورائیڈ گیس کے بغیر چلنا تھا۔

ایرانی صدر نے منگل کو ریاستی ٹی وی پر ایک تقریر میں کہا کہ 'کل سے ہم فرودو میں گیس کا استعمال شروع کر دیں گے۔'

تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں افزودہ یورینیم حاصل کی جائے گی یا نہیں۔

صدر روحانی نے یہ بھی کہا کہ انھیں فرودو کے حوالے سے دیگر فریقوں کی حساسیت کے بارے میں علم ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'جب وہ اپنے وعدے پورے کریں گے تو گیس روک دی جائے گی۔۔ یہ ایک قابلِ واپسی اقدام ہے۔'

پیر کو ایران کی جوہری تونائی کی تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے نتانز پر جدید سینٹری فیوجز کی تعداد دگنی کر دی ہے۔

علی اکبر صالحی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہاں اب 60 آئی آر۔6 سینٹری فیوجز ہیں جو کہ 20 فیصد تک یورینیم افزودگی چار منٹ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا کرنے میں چار دن لگتے تھے۔

اسی بارے میں