آسٹریلیا میں جنگل کی آگ سے تین ہلاک، ہزاروں بے گھر

جنگل آگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آسٹریلیا میں لگی جنگل کی آگ کی وجہ سے تین افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں شہری گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ریاست نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنز لینڈ کے جنگلات میں لگی آگ کے پیش نظر جمعہ کو ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اب بھی سو مختلف مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔

وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے کہا ہے کہ آگ بجھانے والے عملے کے تیرہ سو اہلکاروں کی مدد کے لیے فوج بھی طلب کی جا سکتی ہے۔

سینکڑوں کی تعداد میں شہریوں نے بھی متاثرہ علاقوں میں رضاکارانہ طور پر امدادی کاموں میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے۔

وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے کہا کہ ان کا ’دل آج ان کے ساتھ ہے جن لوگوں نے اپنے عزیزوں اور چاہنے والوں کو کھو دیا ہے۔‘

حکام نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی سخت موسمی حالات کے وجہ سے سڈنی سمیت کئی دوسری جگہوں پر بھی آگ لگ سکتی ہے۔

تازہ ترین صورت حال؟

کوئنز لینڈ میں ہزاروں شہریوں نے رات عارضی پناہگاہوں میں بسر کی جبکہ حکام یہ جائزہ لیتے رہے کہ کیا شہریوں کو ان کے گھر بھیجا جا سکتا ہے۔

آگ بجھانے والے اداروں کے اعلی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ڈیڑھ سو سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہفتے کی رات نسبتاً سرد رہی جس سے لوگوں کو شدید گرمی سے کچھ سکون ملا۔ لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں گرمی کی شدت میں اضافے، خشک اور تیز ہواؤں کے چلنے سے جھاڑیوں میں آگ بھڑکنے کا خدشہ ہے جس کو قابو میں کرنا کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو شدید موسم کی وجہ سے نیو ساوتھ ویلز کے وسیع علاقوں میں انھیں لوگوں کو خبردار کرنا پڑے گا اور سڈنی میں آگ لگنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

نیوساوتھ ویلز کے دیہی علاقوں میں آگ بجھانے والے ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید موسمی حالات کی بنا پر آگ تیزی سے پھیلنے کا اندیشہ ہے جس کی زد میں کئی آبادیاں بھی آ سکتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ صورت حال گزشتہ جمعہ کو پیش آنی والی صورت حال سے بد تر ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے زیادہ وسیع علاقے متاثر ہو سکتے ہیں اور بڑی بڑی آبادیاں اور شہر بھی آگ کی لپیٹ میں آ سکتےہیں۔

متاثرہ افراد کون ہیں؟

سڈنی سے 340 میل دور شمال میں امدادی عملے کو گزشتہ جمعہ آگ کی زد میں آنے والے ایک علاقے کو صاف کرتے ہوئے ایک گاڑی میں ایک جھلسی ہوئی لاش ملی۔

اسی قصبے میں آگ میں جھلس جانے والی ایک خاتون کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکیں۔

گلین انز قصبے کے میئر کارول سپارکس نے کہا ہے کہ شہری اس قدرتی آفت سے بری طرح خوف زدہ اور صدمے کی حالت میں ہیں۔

آسٹریلوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ آگ کے شعلے 20 فٹ بلند تھے اور 80 کلو میٹر کی رفتار سے چلنے والی ہوا کے ساتھ پھیل رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ علاقے کے مکینوں کے لیے ایک انتہائی خوفناک منظر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہفتے کو نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس نے تصدیق کی کہ سڈنی سے تین سو کلو میٹر دور ایک چھوٹے سے قصبے ٹیری میں ایک خاکستر گھر کے ملبے سے ایک شخص کی لاش ملی جس کے بعد آگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گھر ایک 63 سالہ خاتون کا تھا لیکن انھوں نے ملبے سے ملنے والی لاش کی شناخت ظاہر نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے شناخت پوسٹ مارٹم کے بعد ظاہر کی جائے گی۔

آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست نیو ساوتھ ویلز میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران سینکڑوں جگہوں پر آگ بھڑک اٹھنے کے واقعات پیش آئے اور ایک جگہ پر دو افراد جو اپنا گھر چھوڑنے پر تیار نہیں تھے ہلاک بھی ہو گئے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں جنگل کی آگ سے دو ہزار ایکڑ پر پھیلی جھاڑیاں اور درخت جل چکے ہیں جن میں آسٹریلیا میں پائے جانے والے ریچھ سے مشابہ جانور کوآلہ کے لیے مخصوص ایک علاقہ بھی تھا۔ خدشہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جانور اس آگ میں ہلاک ہو گئے ہوں گے۔

خشک سالی

نیو ساؤتھ ویلز میں گزشتہ ہفتے بارشیں بھی ہوئی تھیں جن سے کسان بہت خوش ہوگئے تھے لیکن ان اس علاقے میں طویل عرصے سے جاری خشک سالی میں کمی نہیں آئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر علاقے میں مزید بارش نہ ہوئیں تو بہت سی جگہوں پر لگی آگ اسی طرح بھڑکتی رہے گی۔

پانی ڈالنے والی جہازوں کو اکثر طویل فاصلوں تک پرواز کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی دستیاب نہیں ہے۔ کچھ علاقوں میں حکام نے بورنگ کر کے پانی کی طلب کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آب و ہوا میں تبدیلی سے تعلق؟

آسٹریلیا میں ہر سال جنگل کی آگ بھڑک اٹھنے کے واقعات ہوتے ہیں لیکن جس موسم میں یہ واقعات پیش آتے ہیں اس کا دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک وجہ ماہرین کے مطابق آب و ہوا میں تبدیلی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ گرم ترین مہینوں کی آمد سے پہلے ہی آگ لگنے کے واقعات میں شدت سے تشویش کا شکار ہیں کیونکہ گزشتہ سال آسٹریلیا کی تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔

حکام نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے آسٹریلیا کی تاریخ میں 2017 چوتھا اور 2018 تیسرا گرم تین سال تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماحول کے بارے میں سنہ 2018 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس سے قدرتی آفات اور خشک سالی میں بھی شدت پیدا ہو گئی ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحول کے بارے میں 188 ملکوں کے عہد ساز معاہدے جس میں عالمی حدت میں صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اضافے کو دو فیصد تک رکھنے کی کوشش کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو بھی گیا تو بھی سائنسدانوں کے خیال میں آسٹریلیا کو ایک انتہائی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا کاربن کے اخراج کے اپنے اہداف کو پورا نہیں کر پا رہا۔

اسی بارے میں