ایران: 53 ارب بیرل خام تیل والی نئی آئل فیلڈ دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر روحانی نے آئل فیلڈ کے بارے میں تفصیلات کا اعلان یزد شہر میں خطاب کے دوران کیا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران میں ایک نئی آئل فیلڈ دریافت ہوئی ہے جس سے ملک کے تیل کے ذخائر میں ایک تہائی اضافہ ہو گا۔

یہ آئل فیلڈ جنوب مغربی صوبے خوزستان میں واقع ہے اور اِس کا رقبہ 2400 مربع کلومیٹر ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ اِس جگہ پر 53 ارب بیرل خام تیل موجود ہے۔

امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اپنا تیل دوسرے ممالک کو فروخت کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

’مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ‘

ایران نے جوہری انسپکٹر کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا

گزشتہ برس یہ پابندیاں اُس وقت عائد کی گئی تھیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکہ طرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

صدر حسن روحانی نے یزد نامی شہر میں اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تیل کا یہ ذخیرہ زمین میں 80 میٹر کی گہرائی پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی آئل فیلڈ ہے جو بوستان سے اومیدیاہ تک 2400 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ATTA KENARE
Image caption امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اپنا تیل دوسرے ممالک کو فروخت کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اھواز شہر میں 65 ارب بیرل والی آئل فیلڈ کے بعد یہ ایران کی دوسری بڑی آئل فیلڈ ہو سکتی ہے۔ اھواز شہر بھی خوزستان صوبے میں واقع ہے۔

ایران تیل پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے جو سالانہ اربوں ڈالر کا تیل برآمد کرتا ہے۔

صدر روحانی کے مطابق ایران کے مجموعی تصدیق شدہ ذخائر 150 ارب بیرل ہیں۔

ایران کے تیل کے ذخائر دنیا میں چوتھے نمبر پر جبکہ گیس کے ذخائر دوسرے نمبر پر ہیں۔ خلیجِ فارس میں ایک بڑی سمندری آئل فیلڈ ایران اور قطر کے درمیان مشترک ہے۔

اِس آئل فیلڈ سے تیل نکالنے کی شرح میں صرف ایک فیصد اضافے سے ایران کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدن 32 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حسن روحانی نے کہا 'میں امریکہ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جن دنوں آپ نے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں ایرانی ورکروں اور انجینیئروں نے 53 ارب بیرل تیل دریافت کر لیا ہے۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سنہ 2015 میں ہونے والے تاریخی معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

معاہدے کے تحت ایران عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کیے جانے کے جواب میں اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے اور عالمی ماہرین کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر آمادہ ہو گیا تھا۔

پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، اس کی کرنسی کی قدر انتہائی کم، افراطِ زر بہت زیادہ اور غیرملکی سرمایہ کاری بہت کم ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں