اسرائیل۔اردن امن معاہدہ: اسرائیلی کسانوں کا اُردن میں داخلہ بند

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُردن کے بادشاہ نے اس معاہدے کے خاتمے کے اعلان کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی باشندوں کو اردن کے بارڈرز کے اندر واقع دو سرحدی علاقوں تک رسائی حاصل تھی۔

سنہ 1994 میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت اسرائیلی کسانوں کو اردن کے دو سرحدی علاقوں تزوفر اور بقورا میں کاشت کاری کرنے کی اجازت ہے۔

اس امن معاہدے کے تحت دی گئی زمین کی لیز کی معیاد 25 برس تھی جو 10 نومبر سنہ 2019 (اتوار) کو مکمل ہو چکی ہے۔

اتوار کے روز لیز کی معیاد ختم ہونے کے بعد اردن، اسرائیل کی سرحد پر واقع گیٹس کو بند کر دیا گیا اور خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی کسانوں کو اردن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

مقبوصہ غرب اردن سے متعلق اسرائیلی بیان کی مذمت

غربِ اردن کی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عہد

'اسرائیل کو غربِ اردن کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کا حق ہے'

گذشتہ برس ہی اردن کے بادشاہ عبداللہ نے اعلان کر دیا تھا کہ ان کا زمین کی لیز کی معیاد بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس اعلان کو اردن اور اسرائیل کے درمیان خراب ہوتے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

شاہ عبداللہ کے اس اعلان کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ پر امید ہیں کہ وہ اس لیز کی مدت میں توسیع کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایک اسرائیلی کسان ایلی ارازی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی برادری گذشتہ سات دہائیوں سے ان علاقوں میں کاشت کاری کر رہی ہے۔

انھوں نے لیز کی معیاد نہ بڑھانے اور سرحدی گیٹس بند کرنے کو 'منھ پر مکا مارنے' جیسا قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیل، اردن معاہدہ کب اور کیسے ہوا تھا؟

زیرِ بحث دونوں علاقے اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہیں اور گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ چند نجی اسرائیلی گروہوں کے زیرِ تصرف تھے۔

اسرائیل اور اردن کے درمیان سنہ 1948 سے سنہ 1994 تک جنگ لڑی گئی جس کے بعد سنہ 1994 میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک امن معاہدہ کیا گیا۔

یہ معاہدہ اس لیے بھی کافی اہم تھا کہ اردن ان دو عرب ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے آج تک اسرائیل کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ان دونوں علاقوں پر اردن کی ملکیت تسلیم کی گئی تاہم اسرائیلی باشندوں کو آئندہ 25 برسوں کے لیے یہ آزادی دی گئی کہ وہ ان علاقوں کو اپنے زیر استعمال لا سکتے ہیں۔

معاہدے کی شق کے مطابق زمین کی 25 سالہ لیز اپنے اختتام پر خود بخود مزید 25 برس کے لیے بڑھ جائے گی تاکہ کوئی ایک فریق معاہدے کی معیاد مکمل ہونے سے ایک سال قبل اسے ختم کرنے کا اعلان نہ کر دے۔

معاہدے کی اس شق کے تحت یہ لیز ختم ہونے سے ایک سال قبل، یعنی سنہ 2018 میں اردن کے بادشاہ نے اس لیز کو ختم کرنے اور اس کی معیاد میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

اردن اس معاہدے کی تجدید کیوں نہیں کرے گا؟

لیز کی معیاد ختم ہونے پر اتوار کے روز اردن کے بادشاہ عبداللہ نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 'زمینوں کے ہر ایک انچ پر ہماری مکمل خودمختاری نافذ کرنے' کا اعلان کیا۔

لیز کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کو حالیہ برسوں میں اردن اور اسرائیل کے مابین کشیدہ تعلقات کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ان کشیدہ تعلقات کی بڑی وجوہات میں یروشلم کی حیثیت اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن معاہدے پر پیشرفت نہ ہونا ہے۔

اردن کے بہت سے باشندے فلسطینی نژاد ہیں اور عوامی جائزوں کے مطابق اردن کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد دونوں ممالک میں ہوئے امن معاہدے کو اچھا نہیں سمجھتی۔

گذشتہ برس اردن کے 87 ممبران پارلیمان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے جس میں اس لیز کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حالیہ کچھ عرصے میں اردن اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت بھی ہوا تھا جب اسرائیل نے اردن کے دو باشندوں کو عدالت میں پیش کیے بغیر زیر حراست رکھا۔

اس واقعے کے تناظر میں اردن نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا جس کے بعد گذشتہ ہفتے دونوں باشندوں کو رہا کر دیا گیا۔

اسی بارے میں