صنفی تعصب: ایپل کریڈٹ کارڈ میں مردوں اور خواتین کے لیے ادھار حاصل کرنے کی علیحدہ علیحدہ حد مقرر کرنے کی شکایات پر تفتیش کا آغاز

ایپل تصویر کے کاپی رائٹ APPLE

امریکہ میں ایک نگراں مالیاتی ادارے نے ان دعوؤں کی تفتیش شروع کی ہے کہ آیا ایپل کمپنی نے صنفی تعصب برتتے ہوئے اپنے کریڈٹ کارڈز میں خواتین اور مردوں کے لیے ادھار حاصل کرنے کی علیحدہ علیحدہ حد مقرر کی ہے۔

ایسی شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ ادھار حاصل کرنے کی حدود طے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے الگوردھم (حساب کتاب کا مخصوص عمل) خواتین کے خلاف فطری طور پر متعصب ہو سکتے ہیں۔

نیو یارک کے مالیاتی عمور کے محکمے (ڈی ایف ایس) نے ایپل کارڈ سروس کو چلانے والے سرمایہ کاری بینک 'گولڈ مین سیکس' سے رابطہ کر لیا ہے۔

ڈی ایف ایس کا کہنا ہے کہ جانتے بوجھتے یا انجانے میں برتا گیا تعصب 'نیویارک میں رائج قوانین کی خلاف ورزی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ریزر کی قیمت میں ’صنفی تعصب‘ کا خاتمہ

ترقی کے باوجود صنفی تعصب زدہ زبان عام

صنفی رائے زنی: قطر ایئرویز کے سربراہ نے معافی مانگ لی

بلومبرگ نیوز ایجنسی نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ ٹیکنالوجی منتظم ڈیوڈ ہینسن نے شکایت کی ہے کہ انھیں ان کی اہلیہ کی نسبت 20 گنا زیادہ کریڈٹ حد دی گئی ہے۔

ایک ٹویٹ میں ڈیوڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ تعصب اس کے باوجود برتا گیا کہ ان کی اہلیہ کا کریڈٹ سکور ان سے زیادہ بہتر ہے۔

اس شکایات کے بعد ایپل کمپنی کے شریک بانی سٹیو وزنیک کی ٹویٹ سامنے آئی کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا ہے اس کے باوجود کہ ان کی ملکیتی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس مشترکہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @stevewoz

بینک اور دوسرے قرض فراہم کرنے والے ادارے اپنے اخراجات کم کرنے اور قرضوں کی درخواستوں کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر مشین لرننگ ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

'قانون کی خلاف ورزی'

ڈیوڈ ہینسن، جو کہ 'روبی آن ریلز' نامی پروگرامنگ ٹول کے تخلیق کار ہیں، کا کہنا ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ الگوردھمز بھی تعصب برت سکتے ہیں۔

امریکہ میں صحت کے شعبے کی ایک بڑی کمپنی یونائیٹڈ ہیلتھ گروپ کو بھی ان دعوؤں کے بعد تفتیش کا سامنا رہا ہے کہ ان کے سسٹم میں موجود الگوردھمز سیاہ فارم مریضوں کے مقابلے میں سفید فارم مریضوں کو زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ڈیوڈ ہینسن نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'ایپل کارڈ ایک صنفی تعصب پر مبنی پروگرام ہے۔

’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ایپل کمپنی کے انفرادی نمائندوں کی رائے کیا ہے، مگر اس سے فرق پڑتا ہے کہ انھوں نے کون سے الگوردھمز پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے سسٹم کا حصہ بنایا۔ اور یہ (الگوردھم) امتیازی سلوک برتتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فائل فوٹو

ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انھوں نے اس معاملے کو اٹھایا تو ان کی اہلیہ کی کریڈٹ کی حد بڑھا دی گئی ہے۔

ڈی ایف ایس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ 'اس بات کی تفتیش کریں گے کہ آیا نیویارک میں رائج قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام صارفین سے ان کی صنف سے قطع نظر برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔'

' کوئی بھی الگوردھم جو خواتین یا کسی دوسرے طبقے کے ساتھ جان بوجھ کر یا انجانے میں متعصبانہ سلوک کرتا ہے وہ نیویارک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔'

بی بی سی نے گولڈ مین سیکس کا موقف جاننے کے لیے بھی رابطہ کیا ہے۔

سنیچر کو انھوں نے بلومبرگ کو بتایا کہ 'قرض فراہم کرنے کے ہمارے فیصلے کسی بھی صارف کی کریڈٹ ساکھ کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ جنس، نسل، عمر، جنسی رجحان یا قانون کے تحت ممنوع دیگر عوامل کے تحت۔'

ایپل کارڈ کا افتتاح رواں برس اگست میں ہوا تھا اور یہ گولڈ مین کمپنی کا پہلا کریڈٹ کارڈ ہے۔

گولڈ مین اپنے صارفین کو آن لائن بینک کے ذریعے ذاتی قرضوں اور بچت کے کھاتوں سمیت مزید سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے۔

تاہم آئی فون تیار کرنے والی کمپنی ایپل اس کارڈ کی تعریف اپنی ویب سائٹ پر یہ کہتے ہوئے کرتی ہے کہ 'یہ ایک نئی قسم کا کریڈٹ کارڈ ہے جس کی تخلیق ایپل نے کی ہے نا کہ کسی بینک نے۔'

اسی بارے میں