پورن: عرب دنیا میں نوجوان پورن سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟

اسکندریہ
Image caption اسکندریہ میں بھی لڑکوں کے لیے پورنوگرافی سے بچاؤ کے خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں

یہ صرف مسعود کی بات نہیں، بلکہ لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو اپنے دبے ہوئے جنسی جذبات کی تسکین کے لیے انٹرنیٹ کا رخ کرتے ہیں اور برہنہ تصاویر اور پورن ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

کئی نوجوانوں کی طرح مسعود کا خیال بھی یہی تھا کہ ان کا ہر وقت پورن دیکھنے کا یہ شوق اس وقت ختم ہو جائے گا جب ان کی شادی ہو جائے گی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔

جب وہ 20 برس پہلے تک اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے تھے تو وہ چھپ چھپا کر کوئی بلیو فلم دیکھ لیتے تھے، اور آج جب وہ اپنے مکان میں رہتے ہیں تو تب بھی ان کا یہ شوق کم نہیں ہوا۔ اگر کوئی چیز بدلی ہے تو وہ یہ ہے کہ اب مسعود ایک پورن ویب سائٹ سے دوسری پر چلے جاتے ہیں اور اپنے سمارٹ فون پر اسی قسم کا مواد دیکھتے رہتے ہیں۔

لیکن مسعود (فرضی نام) نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں اپنے اس جنسی جنون کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی کیونکہ اس کی وجہ سے ان کے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات بری طرح متاثر ہو گئے اور اب انھیں پورن دیکھنے میں بھی کوئی مزا نہیں آتا۔

’قربت کے بغیر قربت‘

ایک اور صاحب نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنی روایتی عرب بیوی کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات نارمل تھے، لیکن وہ بوسہ یا کِس بالکل نہیں کرتی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں میاں بیوی کے درمیان موبائل فون حائل ہو جاتا تھا۔ ان کے بقول پورن دیکھنے کی عادت کی وجہ سے ان میں جنسی ہیجان صرف پورن دیکھ کر ہی پیدا ہوتا۔ اہلیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ’قربت کے بغیر قربت‘ تھی۔

ہم مسعود کی کہانی کی طرف واپس آئیں گے، لیکن ان کی کہانی انوکھی نہیں کیونکہ بہت سے عرب گھروں میں یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ گذشتہ عرصے میں دنیا کے اِس حصے میں انٹرنیٹ کی سپیڈ دوگنا تیز ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ موبائل فونز میں اضافے سے ہر کسی کو پورن فلموں کے ٹکڑے پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں۔

Image caption شریف طلیانی کے خیال میں خوشی سے بھرپور شادی اور پورن دیکھنے کی عادت میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا

’پورن کلچر‘

مصر کی زقازیق یونیورسٹی سے منسلک نفسیاتی امراض کے ماہر پروفیسر وائل ابو ہندی کہتے ہیں کہ لاکھوں عرب نوجوان پورنوگرافی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

’پورنوگرافی عرب معاشروں میں پھیل چکی ہے۔‘

ابو ہندی کے بقول ’بہت سی خواتین ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ ان کے شوہر انھیں پورنوگرافی دیکھنے کو کہتے ہیں تاکہ ان کے جنسی جذبات میں اضافہ ہو۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ چاہے شوہروں کی اس خواہش کی تکمیل کریں یا انکار کر دیں، دونوں صورتوں میں خواتین کو پچھتاوا ہوتا ہے۔‘

میں کہہ سکتا ہوں کہ جن گھروں میں بیوی اور بچوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ والد پورنوگرافی دیکھتا ہے، ان میں دس سے 15 فیصد یقیناً ایسے خاندان ہوتے ہیں جہاں میاں بیوی کے تعلقات متاثر ہو جاتے ہیں یا وہ خاندان ٹھیک سے اکھٹے رہنے کے قابل نہیں رہتا۔‘

’مخالفت نہ کریں‘

لیکن پورن فلموں کے اداکار شریف طلیانی کے خیال میں شادی کے رشتے اور پورن دیکھنے میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں پورن دیکھتا ہوں، لیکن اس کے باوجود میں شادی اور بچے پیدا کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔‘

’میں ایک ایسی دلہن کی تلاش میں ہوں جو میرے خیالوں کے مطابق ہو۔‘

طلیانی کو فخر ہے کہ یورپ منتقل ہونے سے پہلے وہ مصر میں جہاں رہتے تھے، وہ وہاں خاصے مقبول تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورن فلمیں بنانے والی کمپنیوں کے لیے کام کرنے پر ان کے خاندان والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ پورن فلموں میں کام کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ شوٹنگ سے پہلے جنسی طاقت میں اضافہ کرنے والی چیزیں یا ٹانک وغیرہ استعمال کریں۔

’لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ اداکاروں میں کوئی جنسی کمزوری ہوتی ہے، بلکہ آپ کو ایک مقررہ وقت میں ایک منظر کی فلمبندی مکمل کرنا ہوتی ہے۔‘

Image caption چرچ کی جانب سے شروع کیے جانے والے پروگرام میں شادی کے جھگڑوں سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے

’تباہ کن اثرات‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹیلیگرام‘ پر ایک چیٹ میں، جس کا مقصد شادی شدہ جوڑوں کو پورن دیکھنے کی لت سے جان چھڑانے میں مدد کرنا ہے، وہاں ایک شوہر نے لکھا کہ پورن دیکھنے کی عادت کی وجہ سے انھوں نے اپنی بیوی سے بھی پورن سٹار کی طرح دکھائی دینے کا کہنا شروع کر دیا، لیکن جب انھوں نے اپنی بیوی کو موبائل پر دیکھا تو انھیں لگا کہ یہ کوئی نارمل جنسی تعلق نہیں تھا، بلکہ یہ محض ایک حماقت تھی۔

مصر میں جاری ایک رضاکارانہ پروگرام ’واعی‘ کے بانی ڈاکٹر محمد عبدالجواد کہتے ہیں کہ اس قسم کے رویے آپ کی اہلیہ کے جذبات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ساتھی کا ساتھ دینے کے لیے، یا اپنے گھر کو بچانے کے لیے اس قسم کی بات تسلیم بھی کر لیتی ہے، تب بھی اس کے منفی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اس قسم کے تجربے کے بعد اکثر میاں بیوی کا رشتہ ایک موڑ پر ٹوٹ جاتا ہے یا ان میں طلاق ہو جاتی ہے کیونکہ ان کی زندگی میں خوشی کی کمی ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر جواد کا اندازہ ہے کہ آج کل 15 سے 20 فیصد طلاقیں پورن ویب سائٹس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ بیویوں کو لگتا ہے شوہر ان کا مقابلہ پورن فلموں کی اداکاراؤں سے کرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے۔

ڈاکٹر جواد کے بقول ’پورن دیکھنا والا ہمیشہ اپنا دفاع یہ کہہ کر کرتا ہے کہ اُس کی اس عادت سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر کوئی متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر اس کے گھر کے افراد ضرور متاثر ہوتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر جواد بتاتے ہیں کہ تحقیق کے مطابق بہت زیادہ پورن دیکھنے کے اثرات ویسے ہی ہوتے ہیں جو کسی نشہ آور چیز کے استعمال سے ہوتے ہیں۔

حساس مسائل

عرب دنیا میں ’لو کلچر‘ کے نام سے ایک سروس شروع کی گئی ہے جس کا مقصد معاشرے کو درپیش جنسی مسائل سے نمٹنا ہے۔ عرب معاشرے میں اس سروس کا آغاز ایک دلیرانہ قدم ہے۔

اگر پورن دیکھنے والے کو اس کی لت نہ پڑ جائے اور وہ اپنی ساتھی سے عجیب وغریب جنسی حرکات کا مطالبہ نہ کرے تو ’لو کلچر‘ سے منسلک ماہرین پورنوگرافی کو ایک مسئلہ نہیں سمجھتے۔

لیکن خاندانی مسائل پر کام کرنے والی صحافی دالیا فکری اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ چونکہ عرب دنیا میں جنسی مسائل کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی، کوئی سیکس ایجوکیشن نہیں دی جاتی، اس لیے اس قسم کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔

’عدالتوں کی راہداریوں میں آپ کو اس قسم کے بہت سے معاملات سننے کو ملتے ہیں۔ بعض اوقات ایک بیوی صرف اس وجہ سے طلاق لینے عدالت پہنچ جاتی ہے کہ اسے اذیت کا احساس ہو جاتا ہے لیکن وہ اپنے شوہر کی پورن دیکھنے کی عادت کا ذکر بھی نہیں کرتی کیونکہ اسے خطرہ ہوتا ہے کہ اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا کہ اس نے اپنی شادی کے خفیہ راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔‘

’اس لحاظ سے ’لو کلچر‘ اپنی قسم کا پہلا قدم ہے جہاں ماہرین لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا کے بند کواڑوں کے پیچھے چیٹ رُومز ایسے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں جو رضاکارانہ طور پر اپنے جنسی تجربات ایک دوسرے کو بتا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مرد ہماری خدمات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اپنے مسائل کو مزید پیچیدہ کر لیں۔‘

دالیا فکری کے بقول انٹرنیٹ نے اپنے مسائل کھل کر بیان کرنے میں عورتوں کی مدد کی ہے، لیکن خواتین کو غیرتربیت یافتہ ماہرین کے مشوروں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔‘

Image caption حسام اور ماریان کہتے ہیں کہ بہت سی بیویوں کو شکایت ہے کہ ان کے شوہر پورن دیکھتے ہیں

شادی سے پہلے بحالی

کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو مصر کے تبلیغی چرچ کی جانب سے ایک دعوت نامہ بھی ملا جس میں ہمیں ان کے ایک تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب میں شمولیت کے لیے بلایا گیا۔ اس پرگرام کے تحت شادی شدہ افراد اور حال ہی میں شادی کرنے والے میاں بیوی کو باہمی تعلقات اور شادی کے جھگڑوں سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

فیملی کاؤنسلِنگ پروگرام کے بانی پادری اشرف فارس کہتے ہیں کہ مصر میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا مطلب یہ ہے کہ ’اب ایسے خاندانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے جو خاندان ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں اور ناخوش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ بہت سے مرد پورن ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور اپنی بیویوں سے ’معمول سے زیادہ چیزوں` کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

اشرف فارس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو سمجھنا پڑے گا کہ پورن فلموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ نارمل نہیں ہوتا۔ ’اکثر مصری بیویوں کو الزام دیا جاتا ہے کہ ان کے جذبات بہت سرد ہیں اور وہ بہت بھولی ہوتی ہیں، لیکن اکثر مسئلہ خاوند کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس اپنی بیوی کے جذبات کی چابی نہیں ہوتی۔‘

اس سروس کے تحت میاں بیوی، ماریان اور حسام، ایسے مسیحی خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں جو مشکلات میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے دونوں نے خصوصی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔

ماریان بتاتی ہیں کہ ان کے پاس جو شادی شدہ جوڑے آتے ہیں ان میں ہمیشہ بیوی گلہ کرتی ہے کہ شوہر نے اسے دھوکہ دیا ہے، چاہیے شوہر کے تعلقات کسی دوسری خاتون کی بجائے صرف کمپیوٹر سے ہوں۔

’پورنوگرفی ایسے ہی جیسے آپ کی شادی میں کوئی تیسرا فریق بھی آ گیا ہو۔ اور اس سے وہ عہد و پیمان ٹوٹ جاتے ہیں جو ایک میاں بیوی کے درمیان ہوتے ہیں۔‘

’اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو بتانا ہے کہ اگر انہوں نے کسی پورن سائٹ پر ’دیکھیے‘ کا بٹن دبا دیا اور انہیں پورن دیکھنے کی عادت پڑ گئی تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔‘

’شادی سے مسائل بگڑ جاتے ہیں‘

جہاں تک خواتین کی دنیا کا تعلق ہے، ان کے ہاں صورت حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ روایتی طور پرخواتین کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان کے شوہر پورن دیکھتے ہیں۔

ان خواتین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلق زندگی کا صرف دس فیصد ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات باقی 90 فیصد زندگی پر بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

سلمیٰ (فرضی نام) کہتی ہیں کہ پورن مناظر کے ساتھ ان کا تعلق اس وقت بنا تھا جب وہ پندرہ سولہ سال کی تھیں اور ان کی سہیلیاں ترکی زبان کی فلموں میں رومان سے بھرپور مناظر کی باتیں کرتی تھیں۔

لیکن سلمیٰ بتاتی ہیں کہ یہ چیز شادی کے بعد ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئی کیونکہ ان کے شوہر ہم بستری سے پہلے کے جذبات انگیز مناظر پر کوئی توجہ نہیں دیتے تھے۔

اس کے بعد سلمیٰ نے بھی پورن سائٹس کا رخ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے پورن مناظر دیکھے تو انہیں اپنی زندگی کا موازنہ کر کے بہت حیرت ہوئی۔ ’میں سوچتی تھی کہ جب دوسرے مرد جنسی طور پر اتنے پرجوش ہیں تو میرا شوہر ایسا کیوں نہیں ہے۔‘

Image caption 'لو کلچر' کا آغاز عرب دنیا میں ایک دلیرانہ قدم ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کے شوہر بھی پورن دیکھتے ہیں تو سلمیٰ کا کہنا تھا کہ ’اگر شوہر پورن دیکھتا ہے تو بیوی کو پتہ چل جاتا ہے۔ وہ یہ بات زیادہ دیر تک چھپا نہیں سکتا۔‘

تین بچوں کی والدہ سلمیٰ کہتی ہیں کہ ’میں نے پورن دیکھنے کی عادت سے چھٹکارہ پانے کے لیے ایک تربیتی پروگرام میں جانا شروع کر دیا، لیکن اس کے باوجود شوہر کے ساتھ میرے تعلقات زیادہ بہتر نہیں ہوئے۔‘

’جس چیز کو تباہ ہونے میں برسوں لگے، وہ ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو سکتی۔‘

’بحالی کا دروازہ‘

سلمیٰ کے برعکس، مسعود کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشکل ہوئی، لیکن انھیں مسئلے کا حل مل گیا ہے۔ انھوں نے پورن کی عادت سے بحالی کے لیے ایسے تربیتی پروگرام پر عمل کیا جس میں انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ مسلسل 90 دن کسی بھی قسم کے جنسی فعل سے پرہیز کریں گے۔ نہ کسی قسم کی خود لذتی میں ملوث ہوں گے اور کسی جنسی ساتھی کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں۔

اس کے لیے انھوں نے اپنے کمپیوٹر پر ایک بلاک کر دینے والا سافٹ ویئر انسٹال کر دیا، انٹرنیٹ کا کنکشن کٹوا دیا، لیکن اس کے باوجود انھوں نے یہ 90 دن گن گن کے گزارے کیونکہ پورن سے دور رہنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔

اس پروگرام میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ 90 دن کے لیے مسعود اپنی بیوی کے قریب بھی نہیں جا سکتے تھے۔

’یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب آپ کو پورن دیکھنا اور کسی قسم کی جنسی حرکت کرنا نہایت گھٹیا کام لگتا شروع ہو جاتا ہے، لیکن اچھی بات یہ تھی کہ میں معمول کی نارمل زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا۔‘

اتنے دنوں کے پرہیز سے ایک نیا جھگڑا بھی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ آپ کی بیوی کو نہیں پتا کہ آپ اپنا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’میں نے اپنی بیوی سے دیانتداری سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا رویہ حوصلہ افزا نہیں تھا، اس لیے میں نے اس سے اپنی پورن دیکھنے کی لت کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کیا۔‘

لیکن مسعود کہتے ہیں کہ کچھ وقت گزرنے کے ساتھ شاندار نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے۔

کمپیوٹر کی سکرین کو ’بدلتے رہیں‘

مسعود کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا کہ پچھلے عرصے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بات کا ہر موقع گنوا رہا تھا، لیکن اب میرے پاس موقع تھا کہ میں کمپیوٹر کے سامنے سے اُٹھ جاؤں اور ان سے بات کروں۔ اس سے پہلے میں ہر وقت کمپیوٹر پر کوئی اہم کام کرنے کا ڈھونگ رچا رہا تھا اور جب سب سو جاتے تھے تو دھڑا دھڑ پورن دیکھنے لگ جاتا تھا۔‘

’میں ہر رات چار گھنٹے پورن دیکھتا رہتا تھا۔ لیکن جب میں نے یہ حرکت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تو آہستہ آہستہ اپنے ارد گرد کے ہر شخص کے ساتھ میرے تعلقات بہتر ہونے لگے۔ تربیت والے 90 دن کے دوران مجھے اپنی بیوی سے بھی ہم بستری کی اجازت نہیں تھی، چنانچہ میرے پاس بیوی سے بات کرنے کا وقت بھی زیادہ تھا۔ اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں