کرسٹوفر کولمبس کی وہ ناجائز اولاد جس نے امریکہ دریافت کرنے والے ملاح کو گمنامی سے بچا لیا

ہرنینڈو

دنیا میں بہت کم لوگ شاید اس حقیقت سے واقف ہیں کہ امریکہ دریافت کرنے والے کرسٹوفر کولمبس کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں، اس کے لیے ہم ان کے ناجائز بیٹے، ہرنینڈو کے شکر گزار ہیں، کیونکہ ہرنینڈو ہی وہ شخص ہیں جو امریکہ کے دریافت کُنِندہ کے بارے میں بہترین معلومات رکھتے تھے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے تاریخ دان اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ایڈورڈ ولسن لی کی دلچسپ کتاب ’کیٹلاگ آف شپ ریکڈ میموریل‘ یا ’تباہ شدہ جہاز کی یادوں کی فہرست‘ میں دونوں کا ذکر ملتا ہے۔

اس کتاب میں قرونِ وسطیٰ اور نشاط ثانیہ کے ادوار میں کیتھولک بادشاہوں اور ان کے جانشینوں کے درباروں میں سازشوں اور طاقت کی لڑائی، 15ویں اور 16ویں صدی میں جہاز رانی کے شاندار واقعات، عظیم ایجادات، فنکاروں اور مفکرین کی بات کی گئی ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر اس کتاب میں محبت اور دوستی میں گرفتار دو مردوں کی زندگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کولمبس نے نہیں مسلمانوں نے دریافت کیا‘

’کولمبس کا بحری جہاز سانتا مریا مل گیا‘

صدیوں پہلے ڈوبنے والے جہاز کی تلاش

اگرچہ انھیں کبھی بھی قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا، لیکن ہرنینڈو کا اپنے والد کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا۔ کولمبس کے چوتھے اور آخری بحری سفر پر اس نے نئی دنیا یا نیو ورلڈ کا سفر کیا تھا اور اس کی اپنی آنکھوں میں بھی بڑے بڑے خواب تھے۔

اگر کولمبس دنیا پر فتح حاصل کرنا چاہتا تھا تو ہرنینڈو دنیا کو ایک عالمگیر لائبریری میں بند کرنا چاہتا تھا جس میں دنیا کی تمام ثقافتوں اور زبانوں میں موجود تمام کتابیں، اشتہارات، کتابچے اور موسیقی کے جریدے اور دیگر پرنٹس موجود ہوں۔

لیکن ہرنینڈو نے صرف یہ غیر معمولی منصوبہ ہی نہیں بنایا تھا بلکہ اس نے نقشے بنائے، عوامی عہدہ بھی سنبھالا، وہ ایک سختی برداشت کرنے والے مسافر بھی تھے اور اپنے والد کی سوانح حیات بھی لکھی جو صدیوں تک کولمبس کے بارے میں ہمارے پاس واحد حوالہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Central Bank of Bahamas

بی بی سی مُنڈو کی اس موضوع پر ایڈورڈ ولسن سے گفتگو

آپ نے ہرنینڈو کولن کی شناخت کیسے کی؟

یہ قدرتی طور پر ہوا۔

بحیثیت تعلیم دان، میں برسوں سے تاریخ کی کتابوں کے لیے وقف رہا ہوں، خاص طور پر اس عرصے سے جو پرنٹنگ پریس کی تشکیل کے فوراً بعد کا تھا اور اس نے دنیا کو کیسے بدلا۔ اور اسی تناظر میں مجھے ہرنینڈو کی پہچان ہوئی۔

اس دور کو سمجھنے کے لیے ان کی لائبریری بہت ضروری ہے کیونکہ انھوں نے جنون کے ساتھ اپنی ہر کتاب میں یہ لکھا تھا کہ انھوں نے یہ کتاب کب اور کہاں سے خریدی تھی۔ اور یہ کہ انھوں نے ان کتابوں کے لیے کتنا معاوضہ ادا کیا تھا۔ ان تمام معلومات کی مدد سے ہم ان کی ایک بہت ہی مفصل انداز میں دوبارہ تخلیق کرسکتے ہیں۔

مجھے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جب میں نے ان کی زندگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں اور ان کی کہانی پر کام شروع کیا تو مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ ان کے بارے میں لوگ زیادہ نہیں جانتے تھے کیونکہ دراصل یہ ایک غیر معمولی زندگی تھی۔

یہ بورجین کہانی یا امبرٹو ایکو کے ناول کی طرح ہے، لیکن حقیقی اعداد و شمار کے ساتھ: کرسٹوفر کولمبس کا ناجائز بیٹا، ایک عالمگیر لائبریری بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Image caption ایڈورڈ ولسن لی، تاریخ دان

یہ خود کو سحر میں جکڑنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر سامعین کو سنانے کے لیے ایک بہترین کہانی کی طرح لگتا تھا۔

بلاشبہ وہ ایک ایسی مسحورکن شخصیت تھے، جنھوں نے لوگوں کی جانب سے خود کے ساتھ منسوب کاموں کے علاوہ بھی بہت سارے کام کیے تھے۔ تو آپ ان کو کیسے بیان کریں گے؟

میرے خیال میں ان کی شخصیت کو کئی طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ ہم انھیں نشاطِ ثانیہ کے دور کا بڑا نام، ایک جامع العلم شخص، کوئی ایسا فرد جو ہر فن مولا اور ہر ہنر جانتا ہو، ہم انھیں اس طرح بیان کریں گے۔

انھوں نے نہ صرف عالمگیر کتب خانہ بنانے کا یہ غیر معمولی کام کیا تھا بلکہ وہ اپنے وقت کے سب سے اہم نقش نگاروں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے ڈکشنری بنانے کا آغاز کیا، سپین کا جغرافیائی انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا، اپنے دور کی موسیقی کی ریکارڈنگ کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا اور دنیا کے پہلے تصور کیے جانے والے نباتاتی باغ کا آغاز کیا تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت ہی انوکھے شخص تھے جو بالکل اپنے والد کی طرح کسی نہ کسی طرح زندہ رہتے تھے، جن کا تاریخ میں اپنا مقام ہے۔

ان کی معلومات میں دلچسپی ایک طرح کا عملی چیلنج تھا، پرنٹنگ پریس نے ان معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جس کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ اتنی معلومات کو یکجا کر کے مرتب اور قابل فہم کیسے بنایا جائے۔

اور میرے خیال میں انھوں نے اس منصوبے کا آغاز اپنے والد کی خواہشات کے برعکس کیا تھا۔ جس طرح کولمبس زمین کا احاطہ کرنا چاہتے تھے، اسی طرح ہرنینڈو بھی علم کی دنیا کو مسخر کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے بھی اپنے والد کی طرح یہ سوچا تھا کہ جس نے بھی اس عظیم کام کو پورا کیا اس میں بے حد طاقت ہو گی۔ اور وہ غلطی پر نہیں تھے۔ جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ معلومات طاقت کا ایک ذریعہ ہے۔

وہ ایک دور اندیش شخص تھے۔

اتنے زیادہ کہ آپ انھیں گوگل کا پیش رو قرار دیتے ہیں، خاص طور پر ان کتابوں کے خلاصے کے لیے جو 16ویں صدی میں علم کو یکجا کرنے اور اسے سرچ کے قابل بنانے کی ایک لازوال کوشش ہے۔

دراصل، میں سمجھتا ہوں کہ ان کی پوری لائبریری اور ان کے تمام کیٹلاگ ایک ساتھ مل کر گوگل کی پیش رو ہیں، ایک طرح کا الگورتھم ہے جو کتابوں کی اس وسیع دنیا میں لے جانے کی کوشش ہے۔

یقیناً دنیا کی تمام کتابیں رکھنا ایک اچھے خیال کی طرح لگتا ہے، لیکن اگر آپ انھیں ڈھونڈ نہیں سکتے تو یہ کتابیں نہ ہونے سے بھی بدتر ہوسکتا ہے۔ یہ کسی لامحدود لائبریری کی طرح، ایک حقیقی ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے، جو خوفناک ہے کیونکہ یہاں سب کچھ دہرایا جا سکتا ہے۔

لہذا کوئی سود مند کام کرنے کے لیے آپ کو ان کتابوں کی درجہ بندی کر کے انھیں ترتیب دینا ہو گا۔

انھوں نے بہت سارے طریقے استعمال کیے، لیکن شاید سب سے زیادہ پُراثر ’کتاب آف ایپی ٹومز‘ کا طریقہ تھا، جس نے ہر کتاب کو ایک چھوٹے سے خلاصے میں بند کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور اس طرح کسی خاص کتاب کو تلاش کرنے کو زیادہ مؤثر اور تیز تر بنایا تھا۔

ہرنینڈو اور کرسٹوفر میں بہت گہرا تعلق تھا، اور امریکہ کا وہ سفر جو انھوں نے ایک ساتھ کیا جس میں وہ دونوں مرنے والے تھے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس پر اثر انداز نہیں ہوا ہو گا یا اس کے بیٹے پر، جبکہ دونوں کے درمیان ناجائز اولاد کا مسئلہ بھی تھا؟

ایڈورڈ لی کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں ہرنینڈو جو بھی تھے کولمبس اس کا مرکز تھے۔

شاید وہ، وہ شخص تھے جو کولمبس کو سب سے بہتر جانتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUZANNE REITZ / ARNAMAGNÆAN INSTITUTE
Image caption ایپی ٹومز کی کتاب

سوچیے کہ آپ کسی کے ساتھ ایک ٹوٹے ہوئے جہاز کے چھوٹے سے کیبن میں ایک سال تک اکٹھے رہیں، ایسے میں ہر دن اپنی موت کا انتظار کرنا کیسا ہوگا۔

اور اسی وقت، جیسا کہ آپ نے کہا، ناجائز اولاد ہونے کا مسئلہ تھا، جس کا ایک طرف یہ مطلب تھا کہ ہرنینڈو اپنے کولمبس کے لقب کا وارث نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف انہیں یہ ثابت کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ کولمبس کا بیٹا ہونے کے لائق تھے۔

غالباً، ہرنینڈو کے پاس والد کا نام حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے کارناموں کی طرح کا کارنامہ انجام دیں اور کولمبس انھیں اپنا روحانی بیٹا بنا لیں کیونکہ وہ قانونی طور پر ان کے بیٹے نہیں تھے۔

یہ بات بھی واضح نہیں کہ کولمبس کی شخصیت کے بارے میں ہم کس حد تک جاتنے ہیں، کم از کم وہ ہیرو اور عظیم شخصیت جو صدیوں تک ہمارے پاس تھی دراصل اس کی عکاسی ہرنینڈو نے کی تھی۔

یہاں کسی نہ کسی طرح سے یہ خیال الٹ ہو جاتا ہے کہ بچے والدین کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتے۔ اس معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ اس بیٹے کے بغیر کرسٹوفر کولمبس کا وجود نہ رہ پاتا۔ لیکن ہرنینڈو ڈی کولن نے کولمبس کی جو تصویر پیش کی ہے وہ کتنی قابل اعتماد ہے؟

مجھے یقین ہے کہ ہرنینڈو کی سوانح حیات، جو کولمبس کی کہانی کی اساس ہے اور ہمارے پاس سینکڑوں برسوں سے ہے، تقریباً مکمل طور پر درست ہے، لیکن یہ کہانی مکمل نہیں ہے۔

ہرنینڈو ایک انتہائی محتاط شخص تھے، اور ان کی کتاب میں دستاویزات کے بہت سارے حوالے موجود ہیں، جن کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سچ بول رہے تھے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انھوں نے کچھ چیزوں کو خذف کیا تھا۔

جب انیسویں صدی میں مختلف سکالرز نے اس کہانی میں دلچسپی لینا شروع کی اور تاریخ کی محفوظ شدہ دستاویزات تلاش کرنا شروع کیں تو کولمبس کے خطوط اور اس کے ہم عصر لوگوں کی دیگر کہانیاں مل گئیں۔ ان سے ہمیں اس بات کا بہتر اندازہ ہونے لگا کہ وہ اس میں کون تھا اور ہمارے سامنے اس کی ایک کم مثالی شکل بھی سامنے آئی۔ کولمبس کی ایک ایسی شبیہ سامنے آئی کہ اس نے کچھ بھیانک کام بھی کیے اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں تو وہ پاگل پن کے قریب تھا۔

ہرنینڈو نے یہ بھی نظر انداز کیا اور چھپایا کہ کولمبس نے اپنے آپ کو خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے دیکھا تھا، جو اس کے چوتھے سفر پر ہرنینڈو پر واضح طور پر ظاہر ہوا ہوگا، جب انھوں نے ایک ساتھ بہت وقت گزارا تھا۔ اور نہ ہی وہ اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ آیا ان کے والد نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اعتراف کیا تھا کہ وہ کبھی بھی ویسٹ انڈیز نہیں بلکہ ایک نئے براعظم پہنچے تھے۔

لیکن ہم اس جذباتی تناظر کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جس میں یہ سوانخ عمری لکھی گئی۔ یہ سوانح عمری کولمبس کی موت کے تقریباً 30 برس بعد ایسے وقت میں لکھی گئی جب کچھ کردار ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے اور ایسے دعوے کر رہے تھے کہ وہ کولمبس سے پہلے ہی امریکہ پہنچ چکے تھے۔

اس لیے ہرنینڈو نے کولمبس کو گمنامی سے بچانے کے لیے سوانح عمری لکھی۔

آپ خود کولمبس کو احساس برتری اور نرگیسیت کا شکار سمجھتے ہیں، حالانکہ آپ کی اپنی تحریروں میں بھی اس بات کی اچھی طرح سے عکاسی ہوتی ہے کہ ان دنوں سفر کرنا کتنا مشکل تھا اور ایسے میں کولمبس کے ساتھ ہمدردی نہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔

درحقیقت صرف خبط کا شکار آدمی ہی بنا کچھ دیکھے اس یقین پر کہ دوسری طرف کچھ ہوگا، چالیس دن سمندر میں گزار سکتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ آپ کو اپنی ذات کی حفاظت کا بہت یقین ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Edward Wilson Lee

جبکہ دوسری جانب یہ سچ ہے کہ یہ ایک بہت ہی انسانی کہانی ہے، کیوںکہ اگرچہ آج کولمبس مشہور ہے، یا کچھ لوگوں کی نظر میں بدنام، ان کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے تھے جب وہ خود ہی اس عظیم خواب کے بارے میں سوچتے ہوئے یہ تسلیم کرتے تھے کہ اس خواب کی مکمل تعبیر نہیں ہو سکی ہے جس کی نوید انھوں نے عیسائی بادشاہوں کو دی تھی۔ نہ تو وہ ان کو وہ سونا لا کر دے سکے جس کا وعدہ انھوں نے کیتھولک بادشاہوں کے ساتھ کر رکھا تھا کہ وہ ان کو فوراً مالدار بنا دیں گے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ زمین کو گھیرنے والے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ کو بھی بدل ڈالیں گے، لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔

اور اس نے انہیں ناکامی کا احساس دلایا۔

اپنی زندگی کے آخری ایام میں کولمبس نے محسوس کیا کہ کسی نے اس کے کیے ہوئے کام کو تسلیم نہیں کیا، اور یہ کہ اس کے سارے منصوبے اور خواب ناکامی میں ختم ہوسکتے ہیں۔

کتاب میں ایک حصہ ہے، جو یقیناً شاعرانہ ہے، لیکن یہ بھی انکشاف کرتا ہے کہ جب کولمبس کو بحراوقیانوس کے وسط میں یہ معلوم ہوا تھا کہ قطب نما ٹھیک سے کام نہیں کرتا اور اس نے اس مفروضے کے بارے میں بھی سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ زمین گول نہ ہو بلکہ یہ عورت کی چھاتی کی شکل میں ہو اور نپل ایک آسمانی گنبد ہو۔

جی یہ خوبصورت حد تک حیران کن ہے۔

میرا خیال ہے کہ کبھی کبھی تاریخ اس طرح کی داستانوں میں پھنس جاتی ہے کہ کولمبس ہی تھا جس نے پہچان لیا تھا کہ زمین گول ہے۔

تاہم، شاید بعض اوقات وہ اس پر یقین کرتے تھے اور پھر اس پر شبہ بھی کرتے تھے۔ کولمبس کے لیے بھی دنیا مسلسل اپنی شکل بدل رہی تھی۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کولمبس کو لگتا تھا کہ بیانیہ اور زبان کتنے اہم ہیں۔ اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں، مثلاً ان کا یہ کہنا کہ : ’میں جانتا تھا کہ ہسپانوی ناموں کے ساتھ میں نے جو مقامات ڈھونڈے ہیں وہ واقعی سپین کے شہر لگتے ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی تھا۔ آپ کے خیال میں یہ شعور کہاں سے پیدا ہوا؟

یہ سچ ہے اور تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بہت کم تعلیم یافتہ شخص تھا۔

ہم جانتے ہیں کہ اس نے اپنی کتابیں ہرنینڈو کے پاس چھوڑ دیں، لیکن ہم صرف چار کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس کے پاس بہت کم تحریریں ہوں گی جنھیں اس نے سنبھال کر رکھا جن میں ’مارکو پولو کے سفر‘ بھی شامل تھی۔

لیکن اس کے پاس کچھ ایسا تھا جسے وہ بیان کرنا پسند کرتا تھا، ایک قسم کی اندرونی روشنی جسے آج ہم ایک الہام قرار دے سکتے ہیں۔ جو اسے نئے جہاں کے سفر اور وہاں ہونے والی ہر چیز سے جوڑے رکھتا تھا۔

درحقیقت، اس نے ان ہی زنجیروں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کے ساتھ وہ تیسرے سفر میں ناکامی کے بعد ہتھکڑیوں میں یورپ لایا گیا تھا۔ جو اس کے لیے ایک بڑی ناکامی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اور آپ کے خیال میں کولمبس کو متحرک رکھنے کی وجہ کیا تھی: خواہش، طاقت، دولت یا دریافت کرنے کی خواہش، یا یہ تمام باتیں؟

میرے خیال میں اس کی پوری زندگی ایک ارتقائی عمل جاری رہا۔ ہمارے پاس یہ سوچنے کی معقول وجہ ہے کہ کولمبس، بہت سے دوسرے اطالوی تاجروں کی طرح وہ اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ مشرقی بحیرہ روم میں تجارت کے لیے کوئی متبادل راستہ تلاش کر رہا تھا۔

لیکن جب اس نے اپنا سفر شروع کیا اور ایسی دنیا کو دریافت کیا جہاں پہلے کبھی کوئی نہیں گیا تھا تو اس کا اپنا نقطہ نظر تبدیل ہو گیا تھا۔ وہ پیسہ کمانے اور تجارت کو چھوڑ کر وہ کرنے چلا گیا جو تاریخ کے عظیم واقعات میں سے ایک بن گیا۔

اسی وقت اس نے خود کی ایسی شبیہہ تیار کرنا شروع کر دی کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جس کی قسمت میں عظیم کارنامے انجام دینا ہے اور اسی وقت اس نے اپنا موازنہ پیغمبر نوح کے ساتھ کرنا شروع کر دیا۔

اور مجھے لگتا ہے کہ ہرنینڈو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا: ان کی کتابوں کا مجموعہ اس لیے شروع ہوا کہ وہ کتابوں سے پیار کرتے تھے، لیکن زندگی میں ان کو یقین ہو گیا کہ ان کا مقدر ایک عظیم علمی مشین بنانا ہے، جسے انھوں نے انسانیت کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا تھا۔

آپ کی کتاب کا عنوان ایک اداسی اور ناکامی بیان کرتا ہے۔ آپ نے اس کا انتخاب کیوں کیا؟

میرے خیال میں یہ ایک خوبصورت جملہ ہے اور اسی وجہ سے میں نے سوچا کہ ظاہر ہے یہی اس کا عنوان ہونا چاہیے۔

’تباہ شدہ جہاز کی کتابوں کی فہرست‘ میں ہزاروں کتب کی فہرست دی گئی ہے جو اٹلی سے سپین جاتے ہوئے جہاز کی تباہی کی وجہ سے ضائع ہو گئیں۔ لیکن اس المیے سے یہ بھی سبق سیکھا گیا کہ ہر کتاب کی نقل بھی ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PUBLIC DOMAIN

عالمی لائبریری کی تعمیر ایسا ہی تھا جیسے مستقل طور پر دلدل میں بھاگنا اور ہمیشہ اپنے آپ کو پانی کی سطح سے اوپر رکھنے کی کوشش کرنا۔ یعنی ایک نا ممکن خواب۔

تو یہ عنوان اس کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہرنینڈو کی موت کے بعد لائبریری کا کیا ہوا؟

یہ لائبریری اس کے بھائی ڈیاگو (کرسٹوفر کولمبس کے قانونی بیٹے) کے بیٹے کو ورثے میں دے دی گئی تھی۔ لیکن اسے یہ نہیں چاہیے تھی، لہذا کتابیں ایک خانقاہ کو دے دی گئیں جہاں بارٹولو ڈے لاس کاساس نے انھیں اپنی مشہور ’انڈیز کی تاریخ‘ لکھنے کے لیے استعمال کیا۔

پھر انھیں سویل کے گرجا گھر میں منتقل کردیا گیا، جہاں وہ تالے میں بند رہیں۔ جہاں وہ صدیوں تک فراموش اور نظرانداز ہوئیں۔

وہ آج بھی گرجا گھر کا حصہ ہیں، لیکن آپ صرف اس صورت میں ہی جاسکتے ہیں اگر آپ کسی تحقیق یا مخصوص واقعات کے لیے دورہ کر رہے ہوں۔

کتاب واقعی دلچسپ ہے۔ اس کو لکھنے کا تجربہ کیسا تھا؟

ہرنینڈو ایک دلکش شخصیت ہے اور جب آپ سوانح حیات لکھتے ہیں تو آپ کسی اور کی زندگی میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ آپ کو وہ شخص بہت قریب محسوس ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس میں اور مجھ میں بہت کچھ مشترک ہے۔ ظاہر ہے، اگر میں کتابی کیڑا نہ ہوتا تو میں یہ کتاب نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لحظ سے اس کی دنیا میں رہنا حیرت انگیز تھا۔

آپ کی لائیبریری میں کتنی کتابیں ہیں؟

میں نے ان کی گنتی نہیں کی۔ میں کہوں گا تقریباً دو ہزار، لیکن میری بیگم کہیں گی کہ اس سے زیادہ ہیں۔

وقتاً فوقتاً یہ کہا جاتا ہے کہ کرسٹوفر کولمبس اطالوی نہیں تھا بلکہ ہسپانوی یا پرتگالی تھا۔ ہمیں اس کے بارے میں کتنا یقین ہے؟

کولمبس جیسے کرداروں کے ساتھ یہ غیر معمولی بات نہیں ہے کہ بہت سے لوگ اس پر اپنا ’قبضہ‘ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ یہاں چند دستاویزات ہی موجود ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں، خاص طور پر اگر ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ہرنینڈو اپنی سوانح حیات میں یہی کہتے ہیں۔

ایک چیز جو میں نے اپنی تحقیق کے دوران آزمائی وہ یہ تھی کہ وہ سوانح حیات ہرنینڈو نے لکھی ہے۔ اس پر کچھ شکوک و شبہات تھے لیکن مجھے ان کی تصنیف کی تصدیق کرنے والی دستاویزات ملی ہیں۔

لہذا ہمیں اتنا یقین ہے کہ وہ اٹلی کے ساحلی شہر جینووا میں ایسے ہی پیدا ہوئے جیسے 500 سال پہلے غریب خاندانوں میں پیدائش ہوتی تھی۔

متعلقہ عنوانات