وائٹ ہاؤس: صدر ٹرمپ کا مواخذے کی کارروائی میں شرکت سے انکار

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے یوکرین کے نو منتخب صدر کو سابق امریکی نائب صدر اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کے الزامات پر تحقیقات شروع کرنے پر مجبور کرنے کے لیے یوکرین کی فوجی امداد روک لی تھی

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وکلا ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز ہونے والی مواخذے کی سماعت میں شرکت نہیں کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مشیر پیٹ چیپولون نے ہاؤس جوڈیشیئری کمیٹی کو ایک خط میں بتایا کہ مسٹر ٹرمپ کو کمیٹی سے ’منصفانہ‘ سلوک کی توقع نہیں اس لیے وہ اس سماعت میں شریک نہیں ہوں گے۔

گذشتہ ہفتے ہاؤس جوڈیشیئری کمیٹی کے چیئرمین جیرولڈ نیڈلر نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ یا تو شرکت کریں یا پھر مواخذے کی ’کارروائی کے متعلق شکایت کرنا بند کریں۔‘

جیرولڈ نیڈلر ٹرمپ کی مخالف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا صدر ٹرمپ دوسری سماعت میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ دوسری سماعت کے متعلق بلائے جانے پر وہ علیحدہ سے جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ دوسری سماعت کی تاریخ جمعے تک طے نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے

میرا مواخذہ ہوا تو مارکیٹ مندی کا شکار ہو جائے گی: ٹرمپ

صدر ٹرمپ کی برطرفی کا امکان کم تو کارروائی کیوں؟

وائٹ ہاؤس کا انکار، ایوان نمائندگان کیا کر سکتا ہے؟

خط میں کیا کہا گیا ہے؟

یہ خط امریکی جریدے پولیٹیکو میں شائع ہوا ہے اور اس میں ایوان کی کمیٹی پر تحقیقات میں ’ضابطے اور بنیادی انصاف پسندی کی عدم موجودگی‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ چار دسمبر کو سماعت میں شریک ہونے کی دعوت میں وائٹ ہاؤس کو سماعت کی تیاری کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی گواہوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔

پیٹ چیپولون نے کہا کہ میڈیا اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ تمام شاہدین ’بظاہر اساتذہ‘ ہیں جس میں ’کوئی فیکٹ وٹنس‘ شامل نہیں۔ فیکٹ وٹنس وہ گواہ ہوتے ہیں جو کسی واقعے کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر شہادت دیتے ہیں جبکہ ایکسپرٹ گواہ ججز کو اپنی رائے کے ذریعے مدد فراہم کرتے ہیں۔

صدر کے مشیر نے مزید کہا کہ کمیٹی نے تین گواہوں کو طلب کیا ہے لیکن ریپبلیکن پارٹی کو صرف ایک ہی کو طلب کرنے کی اجازت دی ہے۔

پیٹ چیپولون نے جیرالڈ نیڈلر کے اس دعوے پر سخت تنقید کی کہ یہ مرحلہ ماضی میں ہونے والے مواخذوں سے ہم آہنگ ہے اور کہا کہ صدر بل کلنٹن کے خلاف سنہ 1998 میں زیادہ منصفانہ کارروائی ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ آگے کی سماعتوں میں صدر ٹرمپ کی نمائندگی کیے جانے کے لیے مسٹر نیڈلر کو اس بات کی یقین دہانی کروانی ہوگی کہ منصفانہ کارروائی کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور یہ کہ پورا مرحلہ ’عدل اور انصاف‘ پر مبنی ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی کانگریس نے صدر ٹرمپ کو دعوت دی ہے کہ وہ چار دسمبر کو ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی پہلی سماعت میں شریک ہوں

بدھ کے روز کیا ہوگا؟

مواخذے کی تحقیقات میں بدھ کے روز ہونے والی سماعت دوسرا مرحلہ ہے جس میں جولائی میں مسٹر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو پر کارروائی ہوگی۔

اس فون کال میں صدر ٹرمپ نے مسٹر زیلنسکی سے کہا تھا کہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ کی جانب سے امیدوار بننے کی دوڑ میں پیش پیش شخصیت جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف جانچ کروائیں جنھوں نے پہلے یوکرین کی توانائی کی کمپنی بورسما کے ساتھ کام کر رکھا ہے۔

اس تفتیش میں اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی کہ کیا مسٹر ٹرمپ نے بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر ڈباؤ ڈالتے ہوئے یوکرین کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد بند کرنے کی دھمکی تو نہیں دی۔

صدر نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

ٹرمپ کو سماعت میں شرکت کی دعوت

امریکی کانگریس نے صدر ٹرمپ کو دعوت دی تھی کہ وہ چار دسمبر کو ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی پہلی سماعت میں شریک ہوں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی ہاؤس جیوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرولڈ نیڈلر نے کہا تھا کہ اگر صدر سماعت کے موقع پر آئیں گے تو وہ گواہوں سے سوال کرنے کے مجاز ہوں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد روک لی تھی تاکہ وہ یوکرین کے نو منتخب صدر کو اس بات پر مجبور کر سکیں کہ وہ سابق امریکی نائب صدر اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کے الزامات پر تحقیقات شروع کروائیں۔

مواخدے کی کارروائی میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا امریکی صدر نے بائیڈن کے خلاف تحقیقات نہ کرنے پر یوکرین کو امداد روکنے کی دھمکی دی تھی یا نہیں۔

لیکن دوسری جانب صدر ٹرمپ امریکہ کے ایوان نمائندگان میں صدر کے مواخذے کے لیے کی جانے والی تحقیقات کو ایک ’انتقامی کارروائی‘ قرار دیتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی نے دو ہفتوں کی عوامی سماعت کو مکمل کیا اور اس سے پہلے بند کمرے میں کئی ہفتوں تک گواہوں کے بیانات جمع ہوئے۔

ڈیموکریٹس کے چیئرمین برائے انٹیلیجنس کمیٹی ایڈم شِف کہتے ہیں کہ کمیٹی، جو کہ تحقیقات کی سربراہی کر رہی ہے، اب اپنی رپورٹ پر کام کر رہی ہے اور اسے تین دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر کو اپنے خط میں نیڈلر نے لکھا کہ یہ سماعت مواخذے کی آئینی اور تاریخی اہمیت پر بحث کا ایک اچھا موقع ہے

جیرولڈ نیڈلر نے کیا کہا؟

نیڈلر نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کو بذریعہ خط اگلے ماہ سماعت کی دعوت دی۔

نیڈلر کا کہنا تھا کہ ’صدر کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مواخذے کی کارروائی کا حصہ بنیں گے یا پھر مواخذے کے عمل پر اعتراضات ہی اٹھاتے رہیں گے۔

’مجھے امید ہے کہ وہ گذشتہ صدور کی طرح بذات خود یا وکیل کے ذریعے اس انکوائری کا حصہ بنیں گے۔‘

صدر کو اپنے خط میں نیڈلر نے لکھا کہ یہ سماعت مواخذے کی آئینی اور تاریخی اہمیت پر بحث کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس بات پر بھی بحث کریں گے کہ کیا آپ پر لگے الزامات کانگریس کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ مواخدے کی انکوائری کا حکم دے سکے۔‘

انھوں نے ٹرمپ کو یکم دسمبر شام چھ بجے (ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم) تک کا وقت دیا ہے تاکہ وہ سماعت میں اپنی موجودگی کے حوالے سے تصدیق کر سکیں اور اگر وہ پیش نہیں ہو سکیں گے تو کیا ان کے وکیل ان کی جگہ پیش ہوں گے۔

مواخذے کی انکوائری میں اب کیا ہو گا؟

قانونی کمیٹی مواخذے کی شقیں ترتیب دینے اور صدر پر لگے الزامات کی وضاحت کے لیے دسمبر کے آغاز میں کام شروع کرے گی۔

کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کے باعث ایک ووٹ کے بعد مواخذے کی سماعث سینیٹ میں ہو گی جہاں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔

اگر ٹرمپ کو دو تہائی اکثریت مجرم قرار دے دیتی ہے، جو کہ انتہائی مشکل ہے، تو وہ امریکہ کے پہلے صدر ہوں گے جنھیں مواخذے کے ذریعے ہٹایا گیا ہو۔

وائٹ ہاؤس اور کچھ رپبلکن چاہتے کے مواخذے کی سماعت دو ہفتوں پر محیط ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مواخذہ مشکل کیوں ہے؟

کسی امریکی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل اس لیے ہے کہ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہیے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرِ قانون جانتھن ٹرلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) میں صرف ایک سادہ اکثریت چاہیے۔ ڈیموکرٹس کے زیرِ کنٹرول ایوانِ نمائندگان بالکل ایک صدر کا جو کہ ریپلکن ہیں، باآسانی مواخذہ کر سکتے ہیں اگر وہ جرم ثابت کر لیں۔‘

اس کے بعد سینیٹ (ایوانِ بالا) صدر پر ایک مقدمہ چلاتی ہے جس میں سزا کی صورت میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے مگر اس کے لیے سادہ اکثریت کافی نہیں۔

پروفیسر ٹرلی کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ریپبلیکن اکثریت والی سینیٹ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹائے جب آپ کو ایک بھاری اکثریت چاہیے۔‘

صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 100 میں 67 سینیٹرز کی حمایت چاہیے۔

تاہم کیونکہ 53 سینیٹر اس وقت ریپبلکن ہیں، اس بات کا امکان بہت کم ہے ان کی کوئی بڑی تعداد صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔

تاریخ میں صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن مگر دونوں کو سینیٹ سے بری کر دیا گیا۔

اسی بارے میں