محمدی دربار: امام حسین کے زائرین کو دھوپ سے بچانے کے کام میں مصروفِ عمل پاکستانی

محمدی دربار تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 85 سالہ محمدی دربار کا منصوبہ ہے کہ عراق کے شہر نجف سے کربلا تک کی سڑک پر پودے لگائے جائیں تاکہ زائرین دھوپ اور گرمی سے بچ سکیں

کراچی کے رہائشی 85 سالہ محمدی دربار کا خاندان جب گذشتہ سال پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین کے چہلم کے موقعے پر زیارات کے بعد عراق سے لوٹا تو صحرا کی سخت دھوپ سے ان جلد جل چکی تھی۔

اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ عراق میں شیعہ مسلمانوں کے نزدیک مقدس سمجھے جانے والے دو شہروں نجف اور کربلا کو ملانے والی سڑک پر سایہ دار درخت موجود نہیں ہیں۔

بس یہیں سے محمدی دربار کے دل میں خیال آیا کہ انھیں اس 75 کلومیٹر طویل سڑک پر پودے لگانے چاہییں۔

ہر سال صفر کے مہینے میں امام حسین کے چہلم (اربعین) میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد عراق آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر افراد اسی سڑک پر چلتے ہوئے نجف سے کربلا پہنچتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شجرکاری جب جنون بن جائے

سندھ: دس لاکھ تمر کے درخت کاشت کرنے کی کوشش

’10 برس میں لاہور کے 70 فیصد درخت کٹے، نتیجہ تو آنا تھا‘

گذشتہ برس ان زائرین میں محمدی دربار کا پوتا اور بہو بھی شامل تھیں۔ ان کی کھینچ کر لائی گئی تصاویر میں تمام راستے اور اس کے اردگرد کا علاقہ بنجر نظر آرہا تھا۔

’جب میرے بچے عراق گئے اور تصاویر میں میں نے انھیں دھوپ میں چلتے دیکھا تو مجھے اس چیز کا احساس ہوا کہ وہاں تو کوئی سایہ دار درخت نہیں ہے۔‘

بس پھر کیا تھا انھوں نے اس سڑک کو سایہ دار بنانے کی ٹھان لی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پودے تو میں نے تیار کر لیے تھے لیکن اب مجھے انھیں عراق بھجوانے اور وہاں لگانے کے لیے اجازت کی ضرورت تھی جو میرے پاس نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/@ImamAliNet
Image caption چہلم امام حسین کے موقع پر زائرین عراق کے شہر نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں (فائل فوٹو)

اس مقصد کے لیے انھیں پاکستانی اور عراقی دونوں حکومتوں سے اجازت درکار تھی۔ پاکستانی حکومت سے اجازت ملنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہماری بیوروکریسی کہاں مدد کرتی ہے۔ خیر میں نے کسی طرح اجازت لے ہی لی۔‘

پھر ایک سال قبل انھوں نے عراق کا سفر کیا، وہاں عہدیداروں سے بات کی اور پودے لگانے کے اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا اور اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ وہ درختوں کی دیکھ بھال کریں گے۔

عراق دورے کے موقع پر وہ کراچی سے کچھ پنیریاں بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا پودا یہاں کی گرمی سہہ پائے گا اور کون سا پروان نہیں چڑھے گا۔

پودے لگانے کے بارے میں محمدی کا منصوبہ سن کر عراقی حکومت نے فوراً اجازت دے دی۔

اس وقت نجف میں موجود محمدی دربار کہتے ہیں کہ ’وہاں تو سب لوگوں نے بہت مدد کی۔ جب میں نے پنیریاں لگائیں تو انھوں نے بتایا کہ کون سا پودا یہاں لگ سکتا ہے، ان لوگوں سے مجھے بتایا کہ کون کون سا پودا زائرین کو بیمار کر سکتا ہے اور کون سے پودے بہت اچھے چلیں گے۔‘

ان کا تجربہ کامیاب رہا۔

’میں نے دیکھا کہ میری لگائی پنیریاں بہت اچھے سے پھل پھول گئی ہیں۔ میں نے نیم کے درخت لگائے اور وہی پودا جو پاکستان میں تین سال میں تیار ہوتا یہاں چھ مہینے میں پھل پھول گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق بھیجنے سے قبل کراچی کے مضافات میں ایک فارم پر درختوں اور پودوں کے تھیلوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے

وہ کہتے ہیں کہ اس چیز نے ان کی مزید حوصلہ افزائی کی۔ ’میں نے 50 ہزار نیم کے پودے تیار کیے۔ ابھی پہلے مرحلے میں میں صرف 9800 پودے ہی لا رہا ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ تقریباً 11 مختلف اقسام کے پودے لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عراق میں ان دنوں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ اسی وجہ سے محمدی دربار کو چند مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی بھیجی گئی پودوں کی کھیپ بھی ایک ماہ مؤخر ہوئی۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ کسٹمز سے پاس ہونے کے بعد پودوں کی پہلی کھیپ لانے والے ٹرک بذریعہ ایران آج عراق پہنچ رہے ہیں اور وہ یہاں بے صبری سے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

انھیں یقین ہے کہ پودے اچھی حالت میں عراق پہنچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرکوں پر لادے جانے سے قبل کراچی کے مضافات میں واقع ایک فارم پر پودوں کے تھیلے نظر آ رہے ہیں جن پر ان کا وزن اور پوزیشن لکھی ہوئی ہے

محمدی نے بتایا کہ پاکستان سے آنے والے پودوں کی کھیپ کے ساتھ تین ماہرین بھی ہیں۔ ’عراقی حکومت سے میری یہی بات ہوئی تھی کہ تین ماہرین میں لاؤں گا اور مزدور عراقی حکومت فراہم کرے گی۔‘

عراق پہنچنے کے بعد یہ پودے موسم سرماِ بغداد کی ایک نرسری میں گزاریں گے اور مارچ میں انھیں لگانے کے منصوبے کا آغاز ہوگا۔ محمدی چاہتے ہیں کہ مارچ سے پہلے پہلے وہ ٹریکٹر اور پودوں کے لیے گڑھے کھودنے والی مشین عراق لا سکیں۔

عراقی حکومت نے ان پودوں کو رکھنے کے لیے جگہ فراہم کی ہے، جبکہ پودے لگانے کے لیے آٹھ مزدوروں کی ضرورت ہوگی۔ ان مزدوروں اور ماہرین کی تنخواہ عراقی حکومت دے گی جبکہ لانے اور لے جانے کا خرچہ محمدی کا ہے۔

ان کے عراق میں رہنے کے لیے بندوبست بھی عراقی حکومت نے کیا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے لیکن محمدی دربار اس تعداد کو پانچ لاکھ تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق لے جائے جانے والے پودوں کو مزدور ایک ریڑھی کے ذریعے ٹرک کی طرف لے جا رہے ہیں

پودوں کی دیکھ بھال کا منصوبہ

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پچھلے تین ماہ میں یہاں پودوں کی نشونما اور پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور انھیں یہ جان کر بہت خوشی ہے کہ ’یہاں پانی کی اتنی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

’صرف دو سال مجھے ان کی دیکھ بھال کرنی پڑے گی، بعد میں یہ خود پھل پھول جائیں گے۔`

محمدی نے بتایا کہ نگرانی کے لیے وہ خود عراق کا سفر کرتے رہیں گے اور اس کے علاوہ اپنے تین ماہرین بھی عراق میں ہی رکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مزدور پودوں کو ٹرک میں احتیاط سے لاد رہے ہیں

اس سب پر ان کا کل کتنا خرچہ آیا؟

اس کے جواب میں محمدی کہتے ہیں ’یہاں تو خرچے کا سوال ہی نہیں، امام حسین کی خدمت کے لیے میرے سے جو کچھ ہو سکا میں کرتا جاؤں گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میرے خاندان والے میرا ساتھ نہ دیتے تو اس عمر (85 سال) میں میرے لیے یہ سب کرنا ممکن نہ تھا۔‘

مستقبل میں محمدی، امام حسین اور ان کے بھائی حضرت عباس کے روضوں کے اطراف گل موہر کے درخت لگانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

محمدی دربار کے روزانہ کے معمول کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے پوتے مفضل دربار کہتے ہیں کہ ان کے 85 سالہ دادا فجر کے ساتھ ہی اٹھ جاتے ہیں اور کچھ ورزش کے بعد فارم پر جا کر اپنا سارا وقت اسی منصوبے کی تکمیل کے لیے انتظامات میں گزار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں