مالٹا کا ’گولڈن پاسپورٹ‘: دنیا بھر کے امیر لوگ اس چھوٹے سے یورپی ملک کی شہریت کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

مالٹا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یورپی یونین کا ایک مشن ’قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تفتیش‘ کرنے کے لیے مالٹا کا دورہ کر رہا ہے کیونکہ صحافی ڈیفنی کیروانا کے قتل کی تحقیقات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

سنہ 2017 میں صحافی ڈیفنی کیروانا کے قتل نے جہاں ایک طرف ملک کی سیاسی اشرافیہ کو ہلا کر رکھ دیا وہیں مالٹا میں مبینہ بدعنوانی اور کمزور عدالتی نظام کے بارے میں وسیع تر خدشات کو اجاگر کیا۔

دوسری جانب مالٹا کی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ’گولڈن پاسپورٹ‘ سکیم کی جانچ پڑتال بھی وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ یورپی یونین کے پارلیمان کے ایک وفد نے مالٹا کی ’گولڈن پاسپورٹ‘ سکیم کو ’پورے یورپی یونین میں مجرموں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو درآمد‘ کرنے کے خطرے سے دوچار کرنے جیسا قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا پاسپورٹ 196 ویں نمبر پر

پاسپورٹ کے بارے میں تیرہ دلچسپ حقائق

مختلف ممالک اپنا پاسپورٹ کیوں فروخت کر رہے ہیں؟

دنیا میں ایسے امیر افراد شہریت کی فروخت کی اس عالمی منڈی کے بڑے گاہک ہیں جو کم ٹیکس دینا چاہتے ہیں، اچھی تعلیم کے خواہشمند ہیں یا پھر سیاسی وجوہات انھیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔

تو مالٹا کی شہریت کتنے میں پڑتی ہے اور ہم مالٹا کا پاسپورٹ خریدنے والوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

آپ مالٹا کی شہریت کیسے خرید سکتے ہیں؟

دولت مند افراد اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مالٹا کی حکومت نے یہ سکیم سنہ 2014 میں متعارف کروائی تھی۔

پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی درخواست دہندہ کو یہ شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں:

  • قومی ترقیاتی فنڈ میں 650,000 یورو جمع کروانا
  • 150,000 یورو مالٹا کی سٹاک مارکیٹ میں لگانا یا اتنی ہی رقم کے شیئرز خریدنا
  • 350,000 یورو مالیت کی جائیداد خریدنا یا 16,000 سالانہ کرائے پر جائیداد لینا

مجموعی طور پر یہ رقم لگ بھگ 11 لاکھ 50 ہزار یورو کے مساوی بنتی ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی درخواست دہندہ کو لازمی طور پر 12 ماہ سے زائد عرصہ تک ’رہائشی حیثیت‘ (ریزیڈنٹ سٹیٹس) برقرار رکھنا ہوتی ہے اور اس عرصے کے دوران درخواست دہندہ کا وہاں رہنا لازمی شرط نہیں ہے۔

اس سکیم کے اجرا سے اب تک 833 سرمایہ کاروں اور ان کے خاندانوں کے دیگر 2109 افراد نے مالٹا کی شہریت حاصل کی ہے۔

سنہ 2017 کے وسط سے لے کر سنہ 2018 کے وسط تک اس سکیم کے ذریعے 16 کروڑ 23 لاکھ 75 ہزار یورو اکھٹے کیے گئے ہیں، جو کہ اس دورانیے میں مالٹا کی مجموعی قومی پیداوار کا 1.38 فیصد کے برابر ہے۔ اگرچہ سنہ 2018 میں پاسپورٹ کی فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

مالٹا جیسے چھوٹے ممالک کے لیے یہ ایک واضح ترغیب ہے کہ وہ اس طرح کی سکیمیں بنائیں تاکہ اچھی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

فلورنس میں یورپین یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ میں نقل مکانی پر تحقیق کرنے والے محقق لک وان ڈیر بیرن کا کہنا ہے ’بہت سی چھوٹی ریاستیں ایسے پروگرامز کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنے لگی ہیں۔‘

مالٹا کا پاسپورٹ کون لوگ خرید رہے ہیں؟

مالٹا کی حکومت کسی انفرادی شخص کے آبائی ملک کی معلومات جاری نہیں کرتی جو ’گولڈن پاسپورٹ‘ کے لیے درخواست دیتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر دنیا کے ان خطوں کی معلومات دی جاتی ہے جہاں جہاں کے لوگ شہریت حاصل کر رہے ہیں یا اس کے امیدوار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2017 میں صحافی ڈیفنی کیروانا کے قتل نے جہاں ایک طرف ملک کی سیاسی اشرافیہ کو ہلا کر رکھ دیا وہیں مالٹا میں مبینہ بدعنوانی اور کمزور عدالتی نظام کے بارے میں وسیع تر خدشات کو اجاگر کیا

خطے کے حوالے سے دی گئی معلومات کے مطابق ایسے درخواست گزاروں میں یورپی ممالک کے لوگ سرِفہرست ہیں، دوسرے نمبر پر خلیجی ممالک کے افراد، تیسرے پر ایشیا، چھوتھے پر افریقہ اور پانچویں پر شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

تاہم یورپی یونین کے ممبر ممالک پابند ہیں کہ وہ سالانہ شہریت کے حصول کے اعداد و شمار شائع کریں۔ یعنی ہر برس کن کن افراد نے شہریت حاصل کی ہے۔

مالٹا میں اس پالیسی کے سنہ 2014 میں نفاذ کے بعد سعودی عرب، روس اور چین سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 2015 سے پہلے سعودی عرب کے شہریت حاصل کرنے والے افراد نہیں تھے مگر اس کے بعد سے اب تک 400 سے زائد افراد ایسا کر چکے ہیں۔

دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی جائز اور قانونی وجوہات ہوتی ہیں لیکن اس کام کے لیے مالٹا کی حکومت کو اپنے ملک کے سسٹم کو ناجائز طور پر استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

جنوری 2019 میں اس سکیم سے متعلق یورپین کمیشن کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں اس سکیم کے حوالے سے خدشات ہیں کیونکہ مالٹا کی سکیم دوسرے یورپی یونین کے ممالک کی شہریت حاصل کرنے والی سکیموں سے ’کم سخت‘ ہے۔

مثال کے طور پر درخواست دینے والوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ شہریت حاصل کرنے سے قبل مالٹا میں رہیں یا موجود ہوں یا ان کا اس ملک سے پہلے سے کوئی تعلق ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحافی ڈیفنی کیروانا کے قتل کی تحقیقات کے نتیجے میں پڑنے والے دباؤ کے بعد مالٹا کے وزیرِ اعظم جوزف مسکاٹ نے حال ہی میں استعفیٰ دیا ہے

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کی بین الاقوامی تنظیم (او ای سی ڈی) نے سنہ 2018 میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مالٹا کو ’گولڈن پاسپورٹ‘ سکیم کی وجہ سے ٹیکس چوری کے زیادہ خطرات سے دوچار ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔

مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام درخواست گزاروں بشمول سیاسی افراد کی باقاعدہ سکریننگ کرتی ہے۔

لوک وانڈر بارن کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد اس سکیم کو اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلوانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں یا اپنے خاندانوں کو اپنے آبائی ممالک سے مالٹا لانے کے لیے بھی۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پروگرام شہریت حاصل کرنے والے افراد کے اصل ممالک میں عدم مساوات کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ یہ پروگرام صرف اشرافیہ یا امیر افراد کو دوسری شہریت کے حصول کے قابل بناتا ہے۔‘

یورپی یونین میں قبرص اور بلغاریہ میں بھی شہریت حاصل کرنے کے لیے اسی نوعیت کی سکیمیں جاری کی گئی ہیں۔

سنہ 2008 سے سنہ 2018 کے دوران قبرص نے 1685 سرمایہ کاروں سمیت ان کے خاندانوں کے 1651 افراد کو شہریت دی۔

تاہم رواں برس نومبر میں قبرص نے 26 سرمایہ کاروں کے ’گولڈن پاسپورٹ‘ یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیے کہ ’شہریت دینے کے عمل کے دوران غلطیاں‘ ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں