ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بِن زاید النہان اس بچی کے گھر جانے پر کیوں مجبور ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ @MohamedBinZayed
Image caption ولی عہد نے عائشہ محمد مشیہت المزروئی نام کی اس بچی کے والدین سے بھی ملاقات کی

ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر شیخ محمد بِن زاید النہیان پیر کو ایک بچی کے گھر جانے پر مجبور ہو گئے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بِن سلمان متحدہ عرب امارت کے دورے پر ہیں اور اسی دورے کے دوران ایک تقریب میں دونوں رہنما بچوں سے مل رہے تھے۔

یہ بچیاں دونوں ملکوں کے پرچم اٹھائے دونوں جانب قطار میں کھڑی تھیں۔ ایک طرف کی بچیوں سے سعودی ولی عہد محمد بِن سلمان مل رہے تھے تو دوسری جانب قطار میں کھڑی بچیوں سے ابو طہبی کے ولی عہد محمد بِن زاید مل رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

متحدہ عرب امارات کا نیا گولڈن ویزا کیا ہے؟

انڈیا کی مشرقِ وسطیٰ سے بڑھتی قربتوں کی وجہ کیا؟

’خاتون نے عاشق کا پلاؤ بنا کر پاکستانی مزدوروں کو کھلا دیا‘

اس دوران محمد بِن سلمان والی قطار سے نکل کر ایک بچی بھاگتی ہوئی ولی عہد محمد بِن زاید سے ہاتھ ملانے دوسری قطار میں جا پہنچی۔

ولی عہد محمد بِن زاید جیسے ہی بچی کے قریب پہنچے اس بچی نے اپنا ہاتھ ان کی جانب بڑھایا لیکن ولی عہد اسے دیکھے بغیر ہی آگے بڑھ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @MohamedBinZayed
Image caption بچی کی مایوسی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی

بچی اس سے مایوس ہوئی اور اس بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس کے بعد شہزادہ محمد بِن زاید نے اس بچی کے گھر جا کر اس سے ملاقات کی۔

ولی عہد نے عائشہ محمد مشیہت المزروئی نام کی اس بچی کے والدین سے بھی ملاقات کی۔

متحدہ عرب امارت میں ولی محمد بِن زاید کا اس بچی سے ملنے کا ویڈیو بھی وائرل ہو گیا ہے۔ اس ملاقات کی تصاویر ابو طہبی کے ولی عہد کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل پر بھی پوسٹ کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں