#MiaKhan: افغانستان سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوش والد کا بیٹیوں کی تعلیم کی خاطر روزانہ 12 کلومیٹر کا سفر

میاں خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان سے تعلق رکھنے والے میاں خان کا نام بدھ کو پاکستان اور افغانستان میں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا رہا اور وجہ تھی ان کی اپنی بیٹیوں کی تعلیم میں دلچسپی۔

50 سالہ میاں خان افغانستان کے صوبہ پکتیا کے گاؤں ڈنڈک کے رہائشی ہیں اور ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین تعلیم کے میدان میں کافی پیچھے ہیں، میاں خان اپنی سات بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کے لیے جو کوشش کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا پر نہ صرف صارفین کو قابلِ تحسین لگی بلکہ انھیں وہ ایسے والدین کے لیے ایک مثال لگے جو اپنی اولاد خاص طور پر بچیوں کو تعلیم نہیں دلوانا چاہتے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میاں خان کا کہنا تھا کہ وہ کوچی یعنی خانہ بدوش ہیں اور روزانہ اپنی تین بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کی غرض سے گاؤں سے 12 کلومیٹر دور واقع سکول لے کر جاتے ہیں اور پھر وہیں سکول کی چھٹی تک انھیں واپس گھر لے جانے کے لیے انتظار کرتے ہیں۔

میاں خان کے مطابق پہلے وہ خود روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرتے تھے تاہم دل کے مرض کی باعث اب وہ محنت مزدوری نہیں کر سکتے اور اس مرض نے انھیں گھر میں بٹھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبات کے لیے بائیک ٹو سکول منصوبہ

’لڑکیاں کبھی خواب دیکھنا نہ چھوڑیں‘

BBCShe#: بلوچستان کی نڈر خواتین

کچھ عرصہ قبل انھوں نے پشاور میں اپنے دل کے عارضہ کا علاج کروایا تھا جہاں ان کے دل کی شریانیں بند ہونے کی وجہ سے انھیں سٹنٹ لگائے گئے تھے۔

میاں خان کی سات بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ والد کی بیماری کی وجہ سے ان کے بیٹوں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزدوری شروع کر دی تھی لیکن تنگدستی کے باوجود اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانا ان کی زندگی کا بنیادی مقصد بن چکا ہے۔

میاں خان نے بتایا کہ وہ خود تو تعلیم حاصل نہیں کر سکے لیکن اپنے پسماندہ گاؤں کو دیکھ کر بڑی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ بیٹیوں کو تعلیم دلوائیں اسی لیے روزانہ انھیں سکول لے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.facebook.com/@Swedish Committee for Afghanista

میاں خان نے بتایا کہ ان کا گاؤں بہت پسماندہ ہے اور گاؤں میں زیادہ آبادی نہیں ہے البتہ اب لوگ اس علاقے میں آباد ہو رہے ہیں اور زیادہ تر افراد باغبانی کے پیشے سے منسلک ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے قریب ایک سکول ہے لیکن وہاں استاد نہیں ہیں۔

میاں خان کی تین بڑی بیٹیاں ان کے ساتھ گاؤں سے باہر تعلیم حاصل کرنے جاتی ہیں۔ ان میں سے دو بیٹیاں روزی اور سائرہ ساتویں جبکہ جنت بی بی پانچویں جماعت میں پڑھ رہی ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی چھوٹی چار بیٹیاں گاؤں میں ہی ایک استاد کے گھر پڑھنے جاتی ہیں۔

سکول کب اور کیسے جاتے ہیں؟

میاں خان کی بڑی بیٹی روزی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صبح چھ بجے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دوسرے گاؤں جاتے ہیں۔

دشوار گزار راستہ ہونے کے باعث انھیں سکول پہنچنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں اس لیے کبھی وقت پر اور کبھی تاخیر سے سکول پہنچ پاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.facebook.com/@Swedish Committee for Afghanista

ان کا کہنا ہے کہ سکول تاخیر سے پہنچنے پر کبھی کبھار ان سے سکول کا سبق بھی رہ جاتا ہے۔

روزی نے بتایا کہ ان کے سکول کی چھٹی 12 بجے ہوتی ہے اور ان چار گھنٹوں میں ان کے والد سکول کے باہر بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے ہیں۔ چھٹی کے بعد وہ انھیں سکول سے واپس لاتے ہیں اور تقریباً دوپہر کے دو بجے وہ گھر پہنچتے ہیں۔

روزی کا کہنا ہے کہ انھیں سکول میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے جن میں انگریزی اور سائنس کے مضامین شامل ہیں۔

روزی کے مطابق ان تمام بہنوں کی خواہش ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنیں اور اپنے علاقے میں لوگوں کی خدمت کر سکیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل؟

سوشل میڈیا پر میاں خان کی اپنی بیٹی کے ساتھ تصویر ایسی وائرل ہوئی کہ ہر کوئی اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔

سیدہ طوبیٰ نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’سلام ہے اس ہیرو والد پر جو اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل ہر سکول لے جاتے ہیں اور چھٹی ہونے کے چار گھنٹے تک وہاں انتظار کرتے ہیں۔ ایسے علاقے میں یے بہت بڑی بات ہیں جہاں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ترجیح نہیں ہے۔ خدا ان پر رحمت کرے۔‘

ٹوئٹر پر بیشتر افراد نے کہا ہے کہ یہ پشتون والد حقیقی ہیرو ہے جنھوں نے اپنی زندگی اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے وقف کر دی ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں بچیوں کی تعلیم کی طرف عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی یہیں وجہ ہے کہ بیشتر پسماندہ علاقوں میں لڑکیاں بغیر تعلیم حاصل کیے کم عمری میں بیاہ دی جاتی ہیں۔

حالیہ اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں خواتین کی شرح تعلیم میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بچیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں