عراق میں مظاہرے: حکومت مخالف مظاہروں کی نمائندگی کرتی عراقی خواتین اور ان کے فن پارے

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اکتوبر سے عراق بھر میں حکومت مخالف احتجاج ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں لیکن ان میں غیر معمولی بات یہ ہے کہ روایتی انداز کے برعکس مردوں کے بجائے یہاں مظاہرین کی رہنمائی خواتین کر رہی ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد کی دیواروں پر خواتین کی تصاویر بنائی گئی ہیں اور اس طرح معاشرے میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بغداد کا تحریر سکوائر، جو مظاہروں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، عدم تعاون کی ایک تخلیقی علامت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عراق کی دو یزیدی خواتین کے لیے سخاروف ایوارڈ

دولتِ اسلامیہ سے تعلق پر 15 ترک خواتین کو سزائے موت

جب ایرانی خواتین نے 40 برس بعد سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آئیں

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دیواروں پر یہ تصاویر عراقی خواتین کے حوصلے اور ہمت کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں اور حکومت مخالف مظاہروں کی بصری نمائندگی کرتی ہیں۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خواتین کے بنائے گئے یہ فن پارے ایک بہتر مستقبل کے لیے ان کے متحرک کردار کو نمایاں انداز میں پیش کرتے ہیں۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان فن پاروں اور مظاہروں کی مدد سے خواتین نے اپنی ایک مجموعی کمیونٹی بنا لی ہے جس سے وہ اپنی قومی شناخت کو زندہ رکھ سکیں گی اور تاریخ کو ایک نئے انداز میں لکھ سکیں گی۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

معاشرے میں خواتین کی حفاظت سے متعلق خطرات کے پیشِ نظر انھیں اپنے والدین اور شوہروں کی جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا رہتا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے 400 سے زیادہ افراد ہلاک کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود خواتین مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں اور کبھی کبھار انھیں ایسا چھپ کر کرنا پڑتا ہے۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماضی میں خواتین کو عراق کی سیاسی تحریکوں میں نظر انداز کیا گیا لیکن اب مظاہروں میں کوئی سیاسی ایجنڈا نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے سیاست میں حصہ لینا کا فیصلہ کیا ہے۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ ایسا معاشرہ ہے جہاں مرد و خواتین زیادہ تر ایک ساتھ احتجاج نہیں کرتے۔ لیکن اب ایک مشترکہ مقصد کے لیے دونوں کا ساتھ کام کرنا معاشرے کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہی ہے۔

عراق، مظاہرے، بغداد، خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں