جاپان: دفاتر میں افسران ماتحت عملے کے ساتھ شراب نوشی کی محفلیں کیوں نہیں سجانا چاہتے؟

DRINK تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

28 سالہ ریتو کتامورا کا تعلق جاپان سے ہے اور انھیں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد اپنی پہلی ’ڈرنک پارٹی‘ یاد ہے۔

وہ اُن دنوں ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی میں کام کرتے تھے جہاں دفتر کے بعد سارے ساتھی باقاعدگی سے گپ شپ کے لیے اکھٹے ہوتے اور شراب نوشی کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسی پارٹیز میں ’پہلے پہل مجھے لگتا تھا کہ مجھ پر زیادہ پینے کے لیے دباؤ ہے تاکہ میں دوسروں کا ساتھ دے سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے جلد ہی نشہ ہو جاتا تھا۔‘

کام کے بعد دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب پینا طویل عرصے سے جاپانی ثقافت کا حصہ ہے۔ اسے ’نوماکئی‘ بھی کہا جاتا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کی محفلیں سماجی رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین مے نوشی میں مردوں کے برابر

جاپان: کچھ دفاتر میں خواتین کے عینک پہننے پر پابندی

نوجوانوں کی بدلتی عادتیں: ’شراب کبھی چکھی تک نہیں‘

لیکن اب کچھ دفاتر میں ایسی محفلیں کم ہو گئی ہیں جس کی وجہ اعلٰی عہدوں پر فائز افراد کے اس خوف کا اضافہ ہے کہ کہیں ان پر طاقت کے زور پر عملے کو ہراساں کرنے کا الزام نہ لگا دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIKU KITAMURA
Image caption ریکو کیتامورا سمجھتے ہیں کہ ان پر دباؤ ہوتا تھا کہ وہ پارٹیوں میں شرابی نوشی کریں

بہت سے جاپانی روایتی طور پر اپنے باس کو سمجھنے اور اس کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے اس قسم کی محفلوں پر انحصار کرتے تھے۔

کومیکو نیماتو جو کہ کیوٹو یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز میں سوشیالوجی کے پروفیسر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ڈرنک پارٹی میں جانے کے لیے دباؤ ڈالنے کو کبھی کبھی ہراسانی کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ ہمیشہ ہوتا تھا۔ یہ جاپان میں کارپوریٹ کلچر کے معمول کا حصہ تھا لیکن اب اسے ’افسران کی جانب سے ہراسانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘

اس کی وجہ سے کچھ منیجر اب اپنے ماتحتوں کو شراب نوشی کی دعوت دیتے ہوئے کتراتے ہیں۔

کیتامورا کہتے ہیں کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران دفتر کے سربراہان یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ عملے کے ساتھ ڈرنک کرنا ضروری نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاپان میں کام کے بعد ڈرنک کے لیے جانا اکثر ضروری سمجھا جاتا تھا

منیجرز جوابی کارروائی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں یہ بالکل محسوس کر سکتا ہوں کہ مینیجرز اس کے لیے اصرار نہیں کرتے اور خطرے سے بچاؤ کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔

’لوگ اس بارے میں زیادہ آگاہی رکھتے ہیں‘

ایسے ہی افراد میں جاپان کی ایک ٹریڈنگ کمپنی کے منیجر 47 سالہ ٹاٹس کاٹسوکی بھی شامل ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو ڈرنک کرنے کے لیے باہر مدعو نہیں کرتے کیونکہ ہراسانی کے بارے میں کمپنیوں کے قوانین سخت ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگ عموماً ہر قسم کی ہراسانی سے پریشان ہوتے ہیں، بڑے افسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خدشے کی وجہ سے اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بھی۔

وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ پانچ سالوں میں اس آگاہی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی افراد کو’ اس قسم کی باتوں کی وجہ سے ہر دوسرے دن نوکری سے فارغ کیا جا رہا ہے۔‘

’ماتحت عملے سے تعلق رکھنے والے افراد اب اپنا نام بتائے بغیر شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ اس لیے وہ پہلے کی نسبت زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں۔‘

اب بات کرتے ہیں مسٹر کاٹسوکی کی جنھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز دو عشرے سے زیادہ عرصہ پہلے ایک ایسی جگہ پر کیا جو آج کے جاپانی دفتروں سے بہت مختلف تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’مقام کار پر ایشا گروپ اہم ہوتا ہے جس میں ہم آہنگی ہو‘: پروفسیر ہیگیریین

وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں لوگوں کی سوچ مختلف ہوتی تھی اور وہ ٹوکیو میں اپنے دفتر کے ساتھیوں کے ہمراہ ہفتے میں تین چار مرتبہ شراب نوشی کے لیے جاتے تھے۔

’میرے باس مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم فارغ ہو گئے ہو تو چلتے ہیں۔ یوں میرے پاس انکار کا کوئی راستہ نہیں بچتا تھا۔‘

مسٹر کاٹسوکی کے بقول ان دنوں مہمانوں کے چلے جانے کے بعد بھی پارٹی چلتی رہتی تھی اور کبھی کبھی صبح تک جاری رہتی تھی۔ یہاں تک کہ انھیں لگتا تھا کہ وہ بہت زیادہ شراب نوشی کر رہے ہیں اور اگلی صبح تک وہ نشے کے اثرات ختم کرنے میں لگے رہتے تھے۔

لیکن بحیثیتِ مجموعی یہ کوئی مشکل دن نہیں تھے کیونکہ ’میں سمجھتا تھا کہ اس قسم کی محفلیں اچھی ہوتی ہیں کیونکہ یوں آپ کو اپنے باس کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ ہم کام کے بارے میں بہت باتیں کرتے تھے، اور کام کے علاوہ بھی بہت باتیں کرتے تھے اور یوں آپ دوسرے شخص کو بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔‘

جب مسٹر کاٹسوکی کی نسل نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز نوے کی دہائی میں کیا اور اس دہائی کے ابتدائی برسوں میں جاپان کی معیشت کی بدحالی شروع ہو چکی تھی۔ معیشت میں اس مندی کے نتیجے میں شاہ خرچیوں کا دور ختم ہو چکا تھا اور اس کی جگہ ایک طویل اور دردناک معاشی دور شروع گیا تھا۔

ان دنوں ’زندگی بھر ایک دفتر میں نوکری‘ والی بات ختم ہونا شروع ہو گئی تھی اور جزوقتی ملازمت اور خواتین کے ملازمتوں میں آنے جیسے عوامل کی وجہ سے روایتی جاپانی دفاتر میں رواج بدل رہے تھے۔

پروفیسر نموٹو کے مطابق معاشی مندی سے پہلے شراب نوشی کو کام کا حصہ سمجھا جاتا تھا، لیکن جوں جوں ماحول تبدیل ہوتا گیا، عملے سے توقعات بھی تبدیل ہونے لگیں، جن میں اپنے باس کے ساتھ دفتر سے باہر گپ شپ لگانا بھی شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نئے قوائد

مسٹر کاٹسوکی کہتے ہیں کہ اب جاپان میں دفاتر وغیرہ کا ماحول ایسا ہی ہے جیسا دنیا میں کسی بھی جگہ پر ہوتا ہے، جس میں رات کے کھانے وغیرہ کی باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے۔

ان کے بقول اب دفتری تقریبات میں شراب نوشی کم ہو گئی ہے اور ایسے باس کم ہی رہ گئے ہیں جو اپنے سٹاف کے کاندھے پر ہاتھ مار کر کہیں کہ چلو آج رات کہیں باہر چلتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ باس ڈرتے ہیں کہ ان پر عملے کو ہراساں کرنے کا الزام نہ لگ جائے۔

مسٹر کاٹسوکی کے مشاہدات دنیا بھر میں دفاتر کے بدلتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اب کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ دفتر کے نئے ’قوائد‘ کیا ہیں۔

وہ اس حوالے سے اپنی ٹیم سے باقاعدگی سے بات کرتے رہتے ہیں اور اور وہ عملے کو بتاتے رہتے ہیں کہ اب کیا چیز قابل قبول ہے تا کہ کوئی اس حد کو عبور نہ کرے۔

اب لوگوں کو یقین نہیں کہ وہ اپنی دفتر کی ساتھی کو یہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہ ’آپ نے اپنا ہیئر سٹائل بدل لیا ہے۔‘ اب دفتروں میں پہلے کی نسبت گفتگو بہت کم ہوتی ہے کیونکہ لوگ ڈرتے ہیں کہ ان سے منھ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جس کے بعد انھیں یہ سننا پڑے کہ آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں۔

نکال دیے جانے کا ’احساس‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک ایسے وقت میں جب منیجر نئے ماحول اور قوائد میں راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عملے کے کچھ نوجوان لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انھیں باہر رکھا جا رہا ہے۔ ان نوجوانوں کو لگتا ہے کہ ہراساں کرنے کے ممکنہ الزام کی وجہ سے لوگ ضروت سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

ٹوکیو میں اب ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی سے منسلک مسٹر کیتامارا کہتے ہیں کہ کچھ نئے آنے والے ’محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شراب نوشی کے لیے نہیں بلایا جاتا ہے۔‘

’وہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں جان بوجھ کر باہر رکھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شراب نوشی اب بھی اپنے باس کے قریب آنے کا طریقہ ہے۔ اس لیے وہ اپنے باس سے پوچھ لیتے ہیں کہ ’کیا ہوا، آپ مجھے ڈرنک پارٹی پر کیوں نہیں بلاتے۔‘

مسٹر کیتامارا کو دفتر میں نئے ہونے کی وجہ سے محفلوں میں جانے سے دباؤ بھی محسوس ہوتا ہے، لیکن انھیں شراب نوشی پسند ہے اور چاہتے ہیں کہ انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔

صوفیہ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل مینیجمنٹ کی پروفیسر پریسا ہیگیرین بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتی ہیں اور ان کے خیال میں جاپان میں اپنے منیجر سے تعلقات بڑھانے میں کھانے اور شراب نوشی کی محفلوں کی اہمیت خاصی زیادہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جاپان میں لوگ شراب نوشی پسند کرتے ہیں۔ شراب اور سگریٹ نوشی کو سکون کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان چیزوں کو اتنا بُرا نہیں سمجھا جاتا۔‘

’لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ کام مل کر کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کی محفلوں میں شرکت آپ کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں