عراقی رہنما مقتدیٰ الصدر: وہ جوشیلا مذہبی رہنما جو عراق میں امن لا سکتا ہے

عراق مظاہرے مقتدیٰ الصدر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقتدیٰ الصدر نے عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سنہ 2003 میں جب امریکہ نے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں عراق میں طوائف الملوکی، تشدد اور عدم استحکام پیدا ہوا جو آج بھی جاری ہے۔

اس وقت بیرون ممالک میں شاید کم ہی لوگوں نے ایک نیم تعلیم یافتہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کا نام سنا ہو گا۔

عدم استحکام کے تقریباً 17 برس کے عرصے میں وہ اس وقت عراق کے سب سے زیادہ مشہور رہنما ہیں اور یقینی طور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا شمار عراق کے طاقتور، معروف ترین اور با رعب چہرے والے لیکن بہت پیچیدہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

انقلابی، جوشیلا، آزاد خیال ایک دم سے موڈ بدل لینے والا، یہ سب خصوصیات اس شخص کے بارے میں مشہور ہیں جن کے اقدامات اور موقف اکثر الجھا دینے والے اور متضاد معلوم ہوتے ہیں۔

تاہم ان ہی خصوصیات کی وجہ سے وہ عراق میں سالہا سال سے جاری شورش کے دوران قائم رہنے میں کامیاب ہوئے جس دوران ان کے حامی امریکہ اور اس کے اتحادیوں، عراقی فوج، نام نہاد دولتِ اسلامیہ، اور مخالف شیعہ ملیشیاؤں کے خلاف لڑائی لڑتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی عراق اور بغداد کے شیعہ آبادی کے غریب علاقوں میں الصدر خاندان ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔

ان کی موجودہ سیاسی تحریک، جو کہ کئی دھڑوں کا ایک اتحاد ہے، کا نام ’سائرون‘ ہے جس کے معنی ’سفر جاری ہے‘ بنتے ہیں، سنہ 2018 کے عام انتخابات میں سب سے بڑا اتحاد بن کر اُبھرا۔ اس کامیابی کے بعد مقتدیٰ الصدر ایک مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں (عراق میں کوئی جماعت بھی قطعی اکثریت حاصل نہیں کر پاتی ہے)۔

صفِ اول کا بادشاہ گر ہونے کے علاوہ مقتدیٰ الصدر ملک بھر کو ہلا دینے والے موجودہ سیاسی مظاہروں کے پسِ پشت ایک اہم کردار بھی ہیں۔ یہ مظاہرے حکومت میں بدعنوانی، نااہلی کے خلاف جاری ہیں اور یہ وہی موضوعات ہیں جن کا ذکر مقتدیٰ الصدر برسوں سے اپنی تقریروں میں کرتے چلے آرہے ہیں۔

خاندانی اور موروثی حیثیت

اگر وہ امریکی افواج کی عراق میں مداخلت کے وقت ایک نامعلوم شخصیت تھے تو انھیں نمایاں ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

جیسے ہی صدام حسین کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی انھوں نے ان رابطوں کو فعال کرنا شروع کر دیا جو ان کے والد اور عراق کی ایک نامور اور نہایت معزز شخصیت آیت اللہ العظمیٰ صادق الصدر نے بغداد کی غریب شیعہ آبادی میں اور جنوبی عراق میں ترکے میں چھوڑے تھے۔

مقتدیٰ الصدر کی عوام میں موجودہ مقبولیت کو ان کے مذہبی خاندانی پس منظر اور ان کے نمایاں خاندانی مذہبی پس منظر کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق میں سنہ 2003 کی امریکی مداخلت کے بعد مقتدیٰ الصدر ایک بڑے لیڈر بن کر ابھرے۔۔

مقتدیٰ کے والد اور ان کے سُسر آیت اللہ العظمیٰ محمد باقر الصدر کو عراق میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان دونوں نے اپنی اس حیثیت کی بدولت غریب شیعہ آبادی میں سماجی کاموں اور سیاسی رابطوں کی تنظیمیں بنائی ہوئی تھیں۔ اسی وجہ سے یہ دونوں صدام حسین کے غیض و غضب کا شکار ہوئے۔

یہ دونوں ہی ممتاز علما پُرتشدد موت کا شکار ہوئے تھے۔ محمد باقر الصدر کو سنہ 1980 میں اپنی بہن امینہ کے ہمراہ دورانِ حراست قتل کیا گیا تھا، اور محمد صادق اور مقتدیٰ کے دو بھائی کو سنہ 1999 میں ایک قاتلانہ حملے میں گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ حملہ صدام حسین کے ایجنٹوں نے کیا تھا۔

اس لیے حملے کے وقت صرف 30 برس کے مقتدیٰ الصدر کو سیاسی ورثے میں قربانی، شہادت اور سماجی خدمات جُزوِ لاینفک کے طور پر ملی تھیں۔

ان کے سیاسی پوسٹروں میں ان کی تصویر انہی دو بڑے علما کے درمیان شائع کی جاتی ہے، تینوں کے سروں پر سیاہ عمامہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کا سلسلہ نسب پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کے خاندان سے جا ملتا ہے۔

بعض اوقات مقتدیٰ الصدر سفید کفن پہنے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ بھی اپنے بزرگوں کی راہ پر چلتے ہوئے شہادت کے لیے تیار ہیں۔ ان کی ایسی تصویریں ان کے شیعہ حامیوں میں بہت زیادہ جوش و ولولہ پیدا کرتی ہیں۔

امریکی دُشمن

مداخلت کے بعد ابھی امریکہ اور اس کے اتحادی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ مقتدیٰ الصدر امریکہ کے عراق سے نکل جانے کا مطالبہ کرنے والے ایک بڑے لیڈر بن کر اُبھرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عراق میں امریکی مداخلت کے بعد جب مقتدیٰ الصدر کو گرفتار کیا گیا تھا تو بغداد کے شیعہ علاقوں میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

پھر ان کی تقریروں نے عملی شکل اختیار کر لی۔ انھوں نے اپنے حامیوں پر مبنی ایک تنظیم جیشِ مہدی بنائی جو جلد ہی امریکی فوجی کمانڈروں کی نظر میں ان کے لیے عراق میں سب سے بڑا خطرہ بن گئی۔

سنہ 2004 کے بعد سے جیشِ مہدی کا امریکی فوج سے کئی بار تصادم ہوا اور ان پر سڑک کنارے نصب کئی بم دھماکوں اور دیگر حملوں کے الزامات بھی لگے۔ مقتدیٰ الصدر نے امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والے عراقی سیاسی رہنماؤں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے حامی سنہ 2006 سے سنہ 2007 تک کئی ایک سنی شیعہ فرقہ وارانہ لڑائیوں میں اور عمومی ہنگامہ آرائی میں ملوث رہے۔ سنہ 2008 میں نے ان کے حامیوں نے بصرہ میں امن قائم کرنے کے لیے اس وقت کے وزیرِ اعظم نوری المالکی کی جانب سے بھیجی گئی عراقی فوج کے دستوں کے خلاف باقاعدہ معرکے لڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقتدیٰ الصدر کی جیشِ مہدی کو اب حکومت میں شامل کرکے امن میلیشیا بنا دیا گیا ہے۔

اس کے بعد سے اب تک مسلسل ہنگامہ خیزی کے ادوار کے دوران مقتدیٰ الصدر نے عسکری اور سیاسی میدانوں میں ایک عملیت پسند حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

جیشِ مہدی میں اب کئی تبدیلیاں آچکی ہیں اور اب اسے امن کمپنی کہا جاتا ہے۔

سیاسی طور پر دیکھیں تو ’سائرون‘ نے الصدر کی حامی وسیع تر تحریک سے جنم لیا ہے۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے مقتدیٰ الصدر کو ان دونوں میدانوں پر گرفت قائم رکھنے اور گمنامی سے بچنے کا موقع ملا ہے۔

سنہ 2018 کے انتخابات میں انھوں نے اپنے 34 ارکان پارلیمان کو دوبارہ انتخابات سے لڑنے سے روکا اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر امیدواروں کی ایک نئی فہرست ترتیب دی جس میں کیمیونسٹ، سیکیولر اور سنی افراد بھی شامل تھے۔ یہ کسی شیعہ مذہبی تنظیم کے لیے نہایت حیران کن بات تھی۔

ایران کی مخالفت

ان کے کئی فیصلے تبدیل ہوتے ہوئے اور عجیب و غریب نظر آتے ہیں، خاص کر جب بیرونی ممالک سے تعلقات کا معاملہ آتا ہے۔

جہاں وہ عراق میں امریکی مداخلت کے مخالف رہے ہیں، وہیں وہ عراق اور شام میں مداخلت کی وجہ سے ایران پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ سنہ 2017 میں انھوں نے ایران کے سب سے بڑے علاقائی حریف سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔

تاہم انھوں نے سنہ 2007 سے لے کر سنہ 2011 تک ایران میں پناہ بھی لی تھی۔ اس دوران انھوں نے خود کو مذہبی علمی لحاظ سے بلند کرنے کے لیے قم کے مدرسوں میں تعلیم بھی حاصل کی تھی۔

رواں سال ستمبر میں ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کے ماسٹر مائنڈ جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس ویڈیو سے عراق کے طول و عرض میں ایک لرزش سی پیدا ہوگئی تھی۔

مقتدیٰ الصدر کے سوانح نگار پیٹرک کاک برن کے نزدیک مقتدیٰ الصدر کی ان سرگرمیوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقتدیٰ الصدر عراقی عوام میں بہت مقبول رہنما ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ اور ان کے والد تسلسل کے ساتھ عراقی سیاست میں ایک عوامیت پسند اور قوم پرست مذہبی حکمتِ عملی پر قائم رہے ہیں جس کے حامی ملک اور بیرونِ ملک میں کئی طاقت کے مراکز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نہ کوئی مستقل دوست ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’مقتدیٰ کے معاملے میں سیاسی موقف کی تبدیلی کو مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک ہی وقت میں پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت کے رہنما ہیں اور ان کے حامی عراق کے موجودہ مظاہروں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’وہ سنہ 2003 کے بعد کے حالات میں بننے والی شیعہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہیں، بھلے ہی اس کے باقی حصے انھیں ناپسند کرتے ہوں۔ ساتھ ساتھ وہ اسی اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے مخالف بھی ہیں۔‘

سنہ 2003 تک عراق میں شیعہ سیاستدان بننے کے خواہشمند اور حال ہی میں مستعفی ہونے والے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی، کو ان کے ایک دوست نے خبردار کیا تھا کہ ’مقتدیٰ پر نظر رکھنا، سڑکوں پر اس کی طاقت ہے۔‘

اور یہی صورتحال آج بھی ہے۔

پیٹرک کاک برن کہتے ہیں کہ ’اس وقت موجودہ سیاسی بحران کا اگر کوئی حل ہے تو مقتدیٰ کو اس کے قلب میں موجود ہونا ہوگا۔‘

اسی بارے میں