برطانیہ: کیا آپ 23 سالہ رکن پارلیمان کی طرح اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ عطیہ کریں گے؟

Nadia Whittome smiling تصویر کے کاپی رائٹ Nadia Whittome
Image caption نادیہ ویٹوم نے چھ سال پہلے سیاست میں شمولیت اختیار کی۔

نادیہ ویٹوم برطانوی پارلیمان کی کم عمر ترین رکن ہیں اور حالیہ عام انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر لوگ انہیں زیادہ نہیں جانتے تھے۔

23 سالہ نادیہ ویٹوم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ مقامی لوگوں میں تقسیم کر دیں گی اور اس کے بعد سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل مچ گئی تھی۔

نادیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مشرقی نوٹنگھم کی نشست کے انتخابات میں کامیابی سے قبل عارضی ملازمت ڈھونڈ رہی تھیں۔

انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سالانہ صرف 35 ہزار پاؤنڈ لے کر جائیں گی جو انہیں ملنے والے 80 ہزار پاؤنڈ کی رقم سے کافی کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے وعدہ کیا ہے کہ میں بھی ایک عام مزدور جتنی تنخواہ لوں گی جو اعداد و شمار کے قومی ادارے کے مطابق 35 ہزار پاؤنڈ سالانہ بنتی ہے۔‘

’میں باقی تمام رقم مقامی سطح پر فلاحی کاموں میں خرچ کروں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے امیر لوگ خیرات کم کیوں دیتے ہیں؟

پاکستان میں ہر سال 240 ارب روپے کی خیرات

یہ ہمدردی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA Media
Image caption نادیہ کہتی ہیں کہ وہ تنخواہ میں اضافہ اس وقت تک قبول نہیں کریں گی جب تک اساتذہ، آگ بجھانے والا عملہ اور نرسوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوتا۔

ویٹوم کا کہنا تھا کہ ’ان کا فیصلہ اس بات پر منحصر نہیں کہ وہ کتنا خیراتی کام کرتی ہیں بلکہ پبلک سیکٹر میں ایسے مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے جو مالیاتی بحران کے بعد سے کٹوتیوں کا شکار ہیں۔‘

’یہ ہمدردی نہیں اور نہ ہی ایسا ہے کہ ایک رکنِ پارلیمان کو تنخواہ نہیں لینی چاہیے، بلکہ یہ ایسی حقیقت ہے جس ہمارے اساتذہ، نرسز اور آگ بجھانے والے امدادی کارکن بھی گزر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’جب ان کی تنخواہیں بڑھیں گی تو میری بھی بڑھ جائے گی۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس فیصلے سے اجرتوں کے بارے میں بحث شروع ہو۔‘

فوری تبدیلی

ماضی میں نفرت انگیز جرائم کے خلاف کام کرنے والی ویٹوم کے پاس قانون کی ڈگری ہے اور وہ لیبر پارٹی کی جانب سے مشرقی نوٹنگھم کی امیدوار منتخب ہوئیں۔ اس کے بعد اس جگہ سے پارٹی کے سابق رکنِ پارلیمان کرس لیسزلی نے پارٹی چھوڑ کر نئے گروپ کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے حالات بدلے ہیں اس سے وہ بہت حیران ہوئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’کچھ ماہ قبل کرسمس کے موقع پر عارضی ملازمت کے لیے درخواست دیتے ہوئے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کرسمس تک میں رکنِ پارلیمان بن جاؤں گی۔‘

Image caption ماضی میں نفرت انگیز جرائم کے خلاف کام کرنے والی ویٹوم کے پاس قانون کی ڈگری ہے

ویٹوم نے اپنی نو عمری میں ہی 2013 کے مالیاتی بحران کے دوران سیاست میں آنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے دیکھا کہ میرے ہمسائے، دوست اور خاندان کے لوگ روزمرہ اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔‘

’پوری مغربی دنیا میں، نیویارک سے لے کر یہاں نوٹنگھم تک، ترقی پسند اور بنیاد پرست نوجوان سیاستدان ابھر رہے ہیں۔‘

’ہم ملازمت پیشہ ہیں، ہم تشدد کے خلاف کھڑی ہونے والے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ دباؤ اور استحصال اور نفرت سے بھرپور جرائم کا شکار ہونا کیسا لگتا ہے۔ ‘

ان کے انتخاب کے بعد کئی لوگوں نے انھیں سوشل میڈیا پر مبارکباد دی۔

لیکن ان کی جانب سے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنی تنخواہ دینے پر کئی لوگ متاثر نہیں ہوئے۔

میلینی اون اس جماعت کی سابق رکنِ پارلیمان تھیں تاہم حالیہ انتخابات میں وہ اپنی نشست ہار گئیں۔ انھوں نے ایک طنزیہ ٹویٹ میں لکھا ’آہ! میں نے دیکھا کہ آج بھی بھلائی کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ ایک اہم ملازمت کے لیے مناسب اجرت دی جانا ملازت پیشہ لوگوں کے لیے کچھ زیادہ ہی اچھی تنخواہ ہے۔‘

لیکن بی بی سی کے وکٹوریا شائر پروگرام میں بات کرتے ہوئے نادیہ نے اس الزام کو مسترد کیا ’اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ایک رکنِ پارلیمان کے کام کو کم تر سمجھا جا رہا ہے، ارکانِ پارلیمان بہترین اور اہم کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہی رقم اگر آگ بجھانے والے عملے، نرسوں یا ٹیچنگ اسسٹنٹ کے لیے مناسب نہیں تو پھر ایک رکنِ پارلیمان کے لیے کیسے ہو سکتی ہے؟‘

’مجھے اس سے ملنے والا ردِعمل کافی اچھا لگا ہے۔‘

اسی بارے میں