محمد شاہ سبحانی: اداکارہ زیبا شہناز کے لاپتہ بھتیجے کی لاش لندن کے قریب ایک جنگل سے برآمد

سبحانی تصویر کے کاپی رائٹ FAMILY PHOTO

پاکستانی اداکارہ زیبا شہناز کے آٹھ ماہ سے لاپتہ رہنے والے بھتیجے کی لاش لندن کے قریب ایک سنسنان جنگل سے برآمد ہوئی ہے۔

27 سالہ محمد شاہ سبحانی رواں سال 7 مئی سے مغربی لندن سے لاپتہ ہوئے تھے۔ اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب وہ لاپتہ ہوئے تھے تو شاید ان کے پاس ہزاروں پاؤنڈز تھے۔

جمعے کو اپنے ایک بیان میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ انھوں نے محمد شاہ سبحانی کی گمشدگی اور قتل کے حوالے سے نو لوگوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستان کی معروف اداکارہ زیبا شہناز نے ایک ویڈیو میں اپنے بھتیجے کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ’سب کا خیال رکھنے والا بچہ تھا‘ جس کے لاپتہ ہونے سے کچھ عرصہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’میرے باپ نے ماں کو قتل کیوں کیا؟‘

حیدرآباد: خاتون کے ریپ، قتل کے ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

انڈین سفارتکار کا قتل مقبول بٹ کی پھانسی کی وجہ بنا؟

’ہمیں امید تھی کہ وہ واپس آجائے گا‘

سبحانی کی بہن قیرات کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امید تھی کہ ہمارا بھائی واپس آجائے گا۔ ہمیں بہت دکھ ہوا جب ان کی لاش گھر سے 16 میل دور ایک جنگل سے ملی۔‘

’کسی نے انھیں بے دردی سے قتل کیا اور ایک ویران جنگل میں پھینک دیا۔ ہمیں ان کی ہڈیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ یہ ہمیں ہمیشہ کے لیے خوف میں مبتلا رکھے گا۔‘

اس کے ساتھ ہی اداکارہ زیبا شہناز نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’کسی نے اس سے ادھار پیسے لیے تھے، وہ ان سے پیسے مانگ رہا تھا۔ وہ پیسے نہیں دے رہے تھے۔ رمضان کی پہلی تاریخ کو اسے فون آیا کہ پیسے لے جاؤ۔ وہ ٹیلی فون ٹھیک کروانے مارکیٹ گیا تھا۔ اسے فون آیا کہ ہمارے گھر آجاؤ اور پیسے لے لو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MET POLICE

’وہ لندن میں اپنے ابو کی مہنگی گاڑی لے کر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں روزے تک انتظار کرتی رہی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وہ گاڑی میرے بہنوئی کے گراج کے سامنے سے گزرتی ہوئی نظر آئی لیکن اس کے کالے شیشے تھے، یہ سمجھ نہیں آیا کہ کون بیٹھا ہے۔ اس کا فون بھی وہیں جا کر بند ہوا ہے۔ وہ اپنے گھر بتاتا رہتا تھا کہ کہاں ہوں۔‘

آٹھ مہینے سے اس کی تلاش جاری تھی۔ ہم اس امید میں تھے کہ کہیں چلا گیا یا کوئی لے گیا، نہ ہی کسی سے کوئی دشمنی ہے۔‘

’یہ ہماری فیملی کا ایسا بچہ تھا جس کی سب گواہی دیتے تھے۔ ماں باپ کی خدمت کرنے والا، ہم سب کا خیال رکھنے والا۔ اس کی کوئی فضول مصروفیت یا دوست نہیں تھے۔‘

’اس کا واحد شوق جم تھا۔ اپنے گھر کے پیچھے جم تھا اس میں جاتا تھا۔‘

اداکارہ زیبا شہناز سمیت سبحانی کے خاندان نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MET POLICE

’لاش ڈھونڈنا مشکل تھا، تحقیقات جاری ہیں

میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق محمد شاہ سبحانی سے ’سب محبت کرتے تھے۔‘ انھیں مقتول کی لاش اس کے گھر سے 15 میل دور بکنگہم شائر کاؤنٹی سے ملی تھی۔

’نہ صرف انھیں قتل کیا گیا بلکہ ایک پروقار اور مہذب تدفین سے محروم کیا گیا۔‘

پولیس نے بتایا ہے کہ وہ جیرارڈس کراس کے قریب سبحانی کو تلاش کر رہے تھے کیونکہ ان کی گمشدگی کے دنوں میں وہاں ایک چوری شدہ بی ایم ڈبلیو ایکس 5 بھی دکھائی دی تھی جس کی نمبر پلیٹ بدلی ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق گاڑی میں دو مسافر تھے جو ’بظاہر آوارہ گردی کر رہے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے لیے سبحانی کی لاش ڈھونڈنا مشکل رہا کیونکہ قتل میں ملوث لوگوں نے لاش کو چھپانے کے لیے وہاں پل اور سائڈ واکس بنا رکھیں تھیں تاکہ بڑے پیمانے پر پانی کے بہاؤ کا راستہ تبدیل کیا جاسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MET POLICE

پولیس کے مطابق سبحانی 7 مئی کی شام ایکٹن پولیس سٹیشن گئے تھے جہاں پولیس کے مطابق انھیں ممکنہ طور پر 3800 پاؤنڈز ادا کیے جانے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پولیس نے کہا ہے کہ پھر وہ ہونسلو گئے جہاں سے انھیں ڈربی روڈ پر ایک کاروباری مرکز سے 5000 پاؤنڈز وصول کرنے تھے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق وہ وہاں اپنی آؤڈی کیو 3 کار پر گئے تھے لیکن اسے بعد میں کوئی اور وہ کار لے کر گیا۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق سبحانی بظاہر کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث تھے۔ لیکن انھوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

لندن کی پولیس نے کہا ہے کہ اگر ایسی معلومات فراہم کی جاتی ہیں جس کی مدد سے قتل میں ملوث افراد کا پتا لگایا جا سکے تو 20 ہزار پاؤنڈر کا انعام دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ اگلے تین ہفتوں کے دوران جائے وقوعہ کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MET POLICE
Image caption پولیس کے ریکارڈ کے مطابق سبحانی کی کار آخری مرتبہ ہونسلو کا وہٹن روڈ پر دیکھی گئی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں