’دی امیریکنز‘: 16 برس تک اپنے روسی جاسوس والدین کی حقیقت سے بے خبر رہنے والے بیٹے کی کینیڈین شہریت بحال

کینیڈا، روس، جاسوسی، تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الیگزینڈر واویلوف کہتے ہیں کہ اب وہ نہ صرف خود کو کینیڈین محسوس کرتے ہیں بلکہ قانون کی نگاہوں میں بھی کینیڈین ہیں

کینیڈا کی ایک عدالت نے ملک میں جھوٹی شناخت اپنا کر رہنے والے روسی جاسوس جوڑے کے بیٹے الیگزینڈر واویلوف کی کینیڈین شہریت بحال کر دی ہے۔

انھوں نے عدالت کی جانب سے اپنی کینیڈین شہریت رکھنے کی اجازت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

الیگزینڈر واویلوف کی کینیڈین شہریت اس وقت منسوخ کر دی گئی تھی جب روسی انٹیلیجنس کے لیے کام کرنے والے ان کے والدین کو سنہ 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

الیگزینڈر کینیڈا میں پیدا ہوئے تھے اور انھیں اپنی گرفتاری تک یہ یقین تھا کہ ان کے والدین بھی کینیڈین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس: ’مصافحہ نہیں تو شہریت نہیں‘

’ملالہ کینیڈا کی نئی بہادر ترین شہری ہیں‘

کینیڈا: سوچی کی اعزازی شہریت کے خاتمے کا فیصلہ

کینیڈا کی سپریم کورٹ نے جب سے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے تب سے اب تک یہ پہلی مرتبہ ہے جب انھوں نے اس پر گفتگو کی ہے۔

انھوں نے جمعے کو ٹورنٹو میں میڈیا سے بات کرتے ہویے کہا کہ ’میں جو ہوں، میں وہ ہوں۔ آپ جو کچھ اپنے ورثے (شناخت) کے بارے میں سیکھتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ وہ آپ کی شخصیت کا تعارف ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ عدالت سے کیس جیتنے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ نہ صرف خود کو کینیڈین محسوس کرتے ہیں بلکہ اب قانون کی نگاہوں میں بھی کینیڈین ہیں۔

والدین جو روسی جاسوس تھے

تصویر کے کاپی رائٹ FBI
Image caption آندرے بیزروکوف اور ایلینا واویلوفا

الیگزینڈر فولی کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 3 جون 1994 کو ٹریسی لی این فولی اور ڈونلڈ ہاورڈ ہیتھ فیلڈ کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ کم از کم انھیں تو یہی لگتا تھا۔

تاہم ان کے والدین کے حقیقی نام ایلینا واویلوفا اور آندرے بیزروکوف تھے اور وہ جھوٹی شناختوں کا لبادہ اوڑھ کر کینیڈا میں داخل ہوئے تھے تاکہ دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی کے لیے جاسوسی کر سکیں۔

کینیڈا میں وہ نارمل، خوش و خرم اور ایک نوجوان خاندان کے طور پر نظر آتے۔ واویلوف کے بڑے بھائی ٹموتھی ان سے چار برس قبل ٹورنٹو میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ ایک موقع پر ان کے والدین نے اپنی ذاتی ڈائپر ڈیلیوری سروس شروع کر لی تھی۔

جب وہ دو سال کے تھے تو ان کا خاندان فرانس منتقل ہو گیا اور اس کے بعد امریکہ میں انھوں نے بوسٹن میں سکونت اختیار کی۔

سنہ 2010 میں جب واویلوف 16 برس کی عمر کے تھے تو ان کے والدین کو ایف بی آئی نے گرفتار کر لیا تھا۔

انھوں نے اپنا جرم قبول کیا اور انھیں اُن چار روسی قیدیوں کے بدلے میں واپس روس ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ان چار روسی قیدیوں کو ماسکو نے مغربی ممالک کو انٹیلیجنس فراہم کرنے پر قید کر رکھا تھا۔

اس خاندان کی کہانی سے متاثر ہو کر امریکی ٹیلیویژن شو ’دی امیریکنز‘ بنایا گیا جس میں دو خفیہ روسی جاسوسوں کی کہانی بتائی گئی ہے جو امریکہ میں اپنے خاندان کی شروعات کرتے ہیں۔

واویلوف کہتے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے والدین نے یہ ٹی وی سیریز دیکھ رکھی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ایک جانب آپ کچھ چیزوں کا خود سے ناطہ محسوس کر سکتے ہیں جبکہ کچھ چیزیں ہالی وڈ کی طرح ہیں۔‘

جب ان کے والدین کا راز ان کے سامنے آیا تو ان کی زندگی تہہ و بالا ہو گئی تھی مگر اب وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنا تعلق بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے والدین حب الوطنی کے جذبے سے متاثر تھے۔ ’بھلے ہی اس کا مجھ پر بہت اثر ہوا ہے، مگر اب مجھے سمجھ آنے لگا ہے کہ انھوں نے جو کیا وہ کیوں کیا۔‘

قانونی جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چونکہ ان کے والدین کو کینیڈا کی جانب سے سفارتکار کی حیثیت نہیں دی گئی تھی اس لیے ان کی شہریت درست ہے

ان کے والدین کی امریکہ میں گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد واویلوف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی گئی اور 2014 میں کینیڈین امیگریشن کے ایک افسر نے ان کی شہریت منسوخ کر دی۔

حکومت کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے والدین ان کی پیدائش کے وقت غیر ملکی حکومت کے لیے کام کر رہے تھے، اس لیے ان کی شہریت کے حصول کے لیے ان کا کینیڈین سرزمین پر پیدا ہونا کافی نہیں تھا۔

اس کے بعد اپنی شہریت بحال کروانے کے لیے ان کی طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔

عام طور پر کینیڈا میں پیدا ہونے پر بچے کو خود کار طور پر کینیڈین شہریت مل جاتی ہے مگر غیر ملکی سفارتکاروں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اسی استثنیٰ کا اطلاق واویلوف پر ہونا چاہیے مگر ان کی قانونی ٹیم نے اس سے اختلاف کیا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چونکہ ان کے والدین کو کینیڈا کی جانب سے سفارتکار کی حیثیت نہیں دی گئی تھی اس لیے ان کی شہریت درست ہے۔

آگے کیا ہو گا؟

واویلوف نے کہا ہے کہ اپنی شہریت کھونے کے بعد وہ یورپ میں ایک یونیورسٹی میں داخلہ لے چکے ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں کام کر چکے ہیں۔

مگر ان کے مطابق انھیں اپنی زندگی کی کہانی کی وجہ سے کبھی کبھی ملازمت کے حصول میں دشواری ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ لوگوں کو ذاتی طور پر مجھ پر اعتماد نہیں، بلکہ شاید وہ بس خود کو مجھ سے منسلک نہیں کرنا چاہتے۔‘

جب ان سے روس اور اس کی قیادت کے بارے میں پوچھا گیا تو اب روسی شہریت بھی رکھنے والے واویلوف نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ کینیڈا میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں مگر ان کے اگلے اقدامات ان کے سامنے موجود مواقع پر ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کوئی اچھا ملازمتی موقع ملنے پر واپس ضرور جائیں گے۔

عدالت کے جمعرات کو دیے گئے فیصلے کے مطابق واویلوف کے بڑے بھائی ٹموتھی بھی اپنی کینیڈین شہریت رکھ سکیں گے لیکن وہ اپنے بڑے بھائی کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں نہیں جانتے۔

دونوں بھائیوں نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ وہ اپنے والدین کی جاسوسی کی سرگرمیوں سے کُلی طور پر ناواقف تھے۔

کئی میڈیا اطلاعات نے گمنام امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹموتھی کے والدین نے انھیں اپنی شناخت سے آگاہ کیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔ جبکہ 20 دسمبر کو ان کے چھوٹے بھائی الیگزینڈر نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں