’سعودی سرپرستی میں چلنے والے‘ 6000 ٹوئٹر اکاؤنٹس بند

ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹوئٹر نے مبینہ طور سعودی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے ایک اطلاعاتی آپریشن سے منسلک تقریباً چھ ہزار اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے یہ اعلان جمعے کو اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں کیا۔

ٹوئٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اکاؤنٹس ایک ’خاصے بڑے‘ آپریشن کا حصہ تھے اور ’پلیٹ فارم پر اثرانداز ہونے کی پالیسیوں‘ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

ٹوئٹر کا مزید کہنا ہے کہ یہ چھ ہزار اکاؤنٹس 88 ہزار اکاؤنٹس سے زیادہ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ’کئی مختلف موضوعات‘ پر ’سپیمنگ‘ کیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطلی: پاکستان کی تشویش

ٹوئٹر کا سیاسی اشتہارات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان

ٹوئٹر کے سابق ملازمین پر ’سعودی جاسوس‘ ہونے کا الزام

پلیٹ فارم نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’بنیادی طور پر یہ اکاؤنٹس سعودی حکام کے لیے موافق پیغامات کو آگے پھیلاتے تھے جس کے لیے غیر حقیقی انگیجمنٹ تکنیکیں مثلاً جارحانہ انداز میں لائیکس، ری ٹویٹس اور ریپلائی کرنا شامل ہے۔‘

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مواد عربی میں تھا مگر کچھ ’ان واقعات کے متعلق بھی تھا جو مغربی عوام کی دلچسپی کا باعث‘ ہو سکتے تھے۔

ٹوئٹر کا ماننا ہے کہ اس ’منظم‘ سرگرمی کے تانے بانے سعودی عرب میں قائم ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ کمپنی سمات سے جا ملتے ہیں۔

بی بی سی نیوز نے سعودی حکومت اور سمات سے ٹوئٹر کے الزامات پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

یہ پابندیاں ستمبر میں ٹوئٹر کی جانب سے ایک سابق شاہی مشیر کے اکاؤنٹ سمیت سات اکاؤنٹس پر پابندی کے اعلان کے بعد آئی ہیں جن کے بارے میں ٹوئٹر نے کہا تھا کہ وہ بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں