جبری مشقت کا الزام: ٹیسکو نے چین کی ایک فیکٹری سے کرسمس کارڈز کی خریداری روک دی

Florence Widdicombe
Image caption فلورینس کو پیغام کا مطلب سمجھ کر بہت دکھ ہوا

ایک چھ سالہ بچی کو ایک کارڈ میں ملنے والے پیغام کے بعد ٹیسکو نے چین سے تیار ہور کر آنے والے کرسمس کارڈز کی درآمد معطل کر دی ہے۔

فلورینس ویڈیکومبے کو ملنے والے کارڈ پر موجود تحریر میں مبینہ طور پر شنگھائی کی کسی قید خانے میں موجود کسی قیدی نے لکھا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر ان سے کام کروایا جا رہا ہے۔

پیغام میں درج تھا ’مہربانی کر کے ہماری مدد کریں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو آگاہ کریں۔‘

ٹیسکو کا کہنا ہے کہ وہ اس خبر سے صدمے میں ہیں ان کا کہنا ہے ’ہم کسی بھی مزدوروں کے قید خانے سے آنے والی اشیا کو اپنی دکانوں پر رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ‘

سپر مارکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس بات کے ثبوت ملے کے زیجیانگ یوانگجوانگ پرنٹنگ کے بنے ہوئے کارڈز کسی قید خانے میں بنے ہیں تو وہ انہیں اپنے سپلائرز کی فہرست سے نکال دیں گے۔

چھ سالہ فلوریسن اپنے دوستوں کے لیے کارڈز لکھ رہی تھیں کے ان میں سے ایک جس پر سانٹا کلاز بلی بنے ہوئی تھی پہلے سے تحریر شدہ تھا۔

Image caption کارڈ ز کا یہ پیکٹ 1.50 پاؤنڈ کا ہے

’انگریزی میں لکھے اس کاررڈ پر درج تھا ’ہم شنگھائی کے کوئنگپو چین خانے میں موجود غیر ملکی قیدی ہیں۔ ہم یہاں اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ہماری مدد کرو اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس بارے میں بتاؤ۔‘

اس میں لکھا تھا کہ جسے بھی یہ کارڈ ملے وہ وہ برطانوی صحافی پیٹر ہمفرے سے رابطہ کریں جو خود چار برس قبل یہاں قید رہے۔

ٹوٹنگ کی رہائشی فلورینس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنا چھٹا کارڈ لکھ رہی تھی کہ میں نے دیکھا اس پر کسی نے پہلے سے لکھا ہوا تھا۔‘

جب انہیں بتایا گیا کہ اس پیغام کا کیا مطلب ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جان کر میں بہت صدمے میں ہوں۔`

ان کے والد بین ویڈیکومبے کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے لگا کے شاید یہ کسی طرح کی شرارت ہے۔

لیکن اس کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ یہ ایک سنیدہ سوال ہے۔ ’میں بہت حیران تھا۔ لیکن یہ ذمہداری بھی محسوس کی کہ اسے پیٹر ہمفرے تک پہنچاؤں، جیسا کے کارڈ لکھنے والے سے مجھ سے کہا تھا۔‘

ٹتسکو کے ترجمان کا کہنا تھا ’ہم ان الزامان پر کافی حیران ہیں اور ہم نے فوری طور پر اس فیکٹری سے درآمد روک دی ہے جہاں یہ کارڈ بنتے ہیں اور تحقیقات کا آعاز کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کہ ہاں ایک جامع طریقہ ہے کہ خبر رکھی جائے کہ کہیں جبری مشقت تو نہیں کروائی جا رہی۔

اور گذشتہ ماہ ہی اس فیکڑی کو چیک کیا گیا تھا اور ایسے کوئ شواہد نہیں ملے۔

کمپنی کی سپر مارکیٹ میں کرسمس کارڈ کی فروخت سالہ تین لاکھ پاؤنڈ تک بڑھی ہے۔ یہ کارڈز برٹس ہارٹ فاؤنڈیشن، کینسر ریسرچ اور ذیابیطس کے لیے خریدے جاتے ہیں۔

کسی بھی دکاندار کو ان کارڈز کی فروخت کے دوران ایسے کسی کارڈ کی شکایت نہیں ملی۔

تاریک زندگی

اس کارڈ پر تحریر تھا کہ جسے یہ ملے وہ پیٹر ہیمفرے سے رابطے کرے جو خود بھی یہاں قید رہے اور ان کی جانب سے الزامات کو بوگس قرار دیا گیا اور کبھی عدالت میں نہیں سنے گئے۔

ان سے لنکڈان کے ذریعے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے وہاں سے چھوٹنے والے سابق قیدیوں سے پوچھا جنہوں نے تصدیق کی کہ قیدیوں سے جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔

اس کے بعد یہ داستان انھوں نے دی سنڈے ٹائمز کے لیے لکھی۔

ہیمفرے نے بی بی سی کو بتایا ’میں نے وہاں قید میں دو سال کاٹے سنہ 2013 سے 2015 تک۔ اور میں اسی قید خانے میں تھا جہاں سے یہ پیغام آیا ہے۔ ‘

’اس کا مطلب ہے کہ یہ میرے اس وقت کے قیدی ساتھیوں میں سے کسی نے لکھا ہے جو اب تک سزا کاٹ رہا ہے۔‘

مجھے یقین ہے کہ یہ اجتماعی پیغام ہے۔ اور میرے خیال میں مجھے علم ہے یہ کس نے لکھا ہے لیکن میں ان کا نام ظاہر نہیں کروں گا۔‘

انھوں نے بتایا کے ان کے بلاک میں 250 قیدی تھے۔ اور وہاں زندگی بہت تاریک تھی، ہر کمرے میں 12 قیدی تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ China Photos/Getty Images
Image caption سنہ 2006 میں قید خانے میں قیدی کپڑے سکھاتے ہوئے

’ وہ صبح پانچ بجے سے راست ساڑھے نو تک کام کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ جس وقت وہ قید تھے یہ کام رضاکارانہ طور پر کیا جاتا تھا تاکہ پیسہ کمایا جا سکے اور ٹوتھ پیسٹ اور صابن خریدے جا سکیں۔ لیکن اب وہی کام لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔‘

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ چین کے کسی قید خانے سے کوئئ پیغام باہر نکلا ہو کہ وہ جبری مشقت کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے 2012 میں پورٹ لینڈ کی جولی کیتھ کو ہیلوین کی سجاوٹ کا سامان بنانے والے کسی شخص کا پیغام ملا کے وہ جبری مشقت کر رہے ہیں۔

سنہ 2014 میں شمالی آئرلینڈ کی کیرن وینسیکا کو پرائمارک کے ٹراؤزر سے ایک پیغام ملا کہ ’ہمارا کام قید خانے میں فیشن کے مطابق کپڑے بنانا ہے ، ہم روزانہ 15 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اور ہمیں ملنے والا کھانا کوئی کتوں کو بھی نہیں دیتا۔‘

اقوام متحدہ کے قیدیوں کے حقوق سے رہنمائی کے مطابق قیدیوں کے کام سے حکام یا نجی سطح پر منافع نہیں کمایا جا سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں