شام کی جنگ: ترکی مزید پناہ گزین نہیں سنبھال سکتا، اردوغان

Turkey's President Recep Tayyip Erdogan leaves 10 Downing Street after meeting with Britain's Prime Minister Boris Johnson and other heads of state, ahead of the NATO summit in London on 3 December, 2019. تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اردوغان کا کہنا ہے کہ پناہ گزیوں کا نئی بھیڑ کو یورپی ممالک بھی محسوس کریں گے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی تازہ لہر کو نہیں سنبھال سکتا۔

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں بمباری کے بعد لاکھوں افراد ترک سرحد کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ترکی میں پہلے سے ہی 37 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جو کہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

’دنیا میں سات کروڑ سے زیادہ لوگ پناہ گزین ہیں‘

’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب دولت اسلامیہ کا خاتمہ بھی ہے؟

’شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کو بین الاقوامی حمایت حاصل‘

اردوغان کا کہنا ہے کہ پناہ گزیوں کا نئی بھیڑ کو یورپی ممالک بھی محسوس کریں گے۔

ادلیب میں تیس لاکھ افراد مقیم ہیں یہ شام کا وہ آخری بڑا علاقہ ہیں جہاں بشار الاسد کے مخالف جہادیوں اور باغیوں کا قبضہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی میں پہلے سے ہی سینتیس لاکھ پناہ گزین موجود ہیں

ادوغان نے کیا کہا؟

استنبول میں اتوار کو ہونے والی ایک ایوارڈز کی تقریب میں طیب ادروغان کا کہنا تھا شامی اور روسی فوج کی جانب سے بمباری کے بعد 80ہزار سے زائد افراد ادلیب سے نقل مکانی کر کے ترکی کی سرحد پر آ رہے ہیں۔

’اگر ادیب کے لوگوں کے خلاف تشدد ختم نہ ہوا تو یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی ایسی صورت میں ترکی ان پناہ گزینوں کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھا سکے گا۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس دباؤ کے منفی اثرات پوری یورپی یونین پر پڑے گہ خاص طور پر یونان پر۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کا ایک وفد ماسکو گیا ہے تاکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ترکی کیا چاہتا ہے؟

ترکی چاہتا ہے کہ پناہ گزینوں کو محفوظ علاقوں میں لوٹنے دیا جائے۔ شمال مشرقی شام کے علاقے پر کرد فورسز نے اکتوبر میں قبصہ حاصل کر لیا تھا۔

طیب ادروغان نے کہا کہ ان کی مدد کی جائے ورنہ کوہ یورپ کے لیے اپنےدروازے کھولے پر مجبور ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں